صیہونی لابی کی برطانیہ میں ایران‌ ہراسی منصوبے کو مصنوعی سانس دینے کی ناکام کوشش

?️

سچ خبریں:برطانوی پارلیمنٹ میں ایرانی ساختہ قرار دیے گئے ایک مبینہ ڈرون کی نمائش صیہونی لابی کی ایک سیاسی چال ثابت ہوئی۔

برطانوی پارلیمنٹ میں حالیہ دنوں ایک سیاسی نمایش کے ذریعے ایک مبینہ ایرانی ساختہ ڈرون پیش کیا گیا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اسے یوکرین جنگ میں روسی فوج نے استعمال کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:برطانیہ کا ایران مخالف اشتعال انگیز بیان  

یہ تقریب اسرائیلی لابی کے اثرورسوخ اور ایران‌ مخالف گروپ (UANI) کے تعاون سے منعقد ہوئی جس کی پشت پناہی برطانیہ کے سابق وزیرِ داخلہ ٹام توگنڈیٹ سمیت کنزرویٹو پارٹی کے چند سخت گیر ارکان نے کی۔

اس اجلاس میں پولینڈ کے وزیرِ خارجہ رادوسواف سیکورسکی ، UANI  کے سربراہ مارک وال اور توگنڈیٹ نے تقریریں کیں۔
انہوں نے ایران پر روس کو ہتھیار فراہم کرنے کا بے بنیاد الزام دہرایا اور تہران کے خلاف مزید دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

مارک والس نے اشتعال انگیز انداز میں اس ڈرون کو نئی صدی کا نازی ڈوڈل‌بگ قرار دیا ،یہ اصطلاح اُن خودکار بموں (V-1) کے لیے استعمال ہوتی تھی جو نازی جرمنی نے دوسری جنگِ عظیم میں لندن پر برسائے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ تشبیہ عوامی جذبات کو بھڑکانے اور ایران کو نازی جرمنی کے ہم‌رتبہ ظاہر کرنے کی ایک واضح کوشش تھی۔

ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک تماشہ اسرائیلی لابی اور ان عناصر کا مشترکہ منصوبہ ہے جو ایران اور یورپ کے درمیان تعلقات کے مخالف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے جھوٹے بیانیوں کے مقابلے میں ہمیشہ دستاویزی شواہد اور فنی گفت‌وگو کے ذریعے سچائی واضح کرے گا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے تہران میں پولینڈ کے ناظم الامور کو طلب کر کے اس تقریب میں پولش وزیر کی شرکت پر احتجاج بھی درج کرایا۔

برطانوی تجزیہ کاروں نے پارلیمنٹ کے پلیٹ‌فارم کو سیاسی پراپیگنڈا کے لیے استعمال کرنے پر شدید تنقید کی ہے۔
ان کے مطابق، یہ اقدام قانون‌ساز ادارے کی غیرجانبداری اور وقار کے منافی ہے، اور اگر ایسی سرگرمیاں جاری رہیں تو برطانوی پارلیمنٹ کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت پر ہوا جب برجام کے مستقبل اور اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کے اختتام پر بین‌الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے۔
ایسے میں اسرائیلی لابی کا مقصد واضح ہے: ایران‌ہراسی کے ناکام منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنا اور ایران پر دباؤ بڑھانا۔

مزید پڑھیں:برطانیہ کی ایران دشمنی کا نہ رکنے والا سلسلہ

تاہم، ایران کی مدبرانہ اور سفارتی ردعمل — خصوصاً وزیرِ خارجہ کے مؤقف میں — اس بات کی علامت ہے کہ تہران منطقی، قانونی اور باوقار انداز میں ان مہمات کا مقابلہ کر رہا ہے اور تعمیرِ اعتماد پر مبنی مکالمے کے راستے کو بند نہیں ہونے دے گا۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت میں ہاؤسنگ مارکیٹ کا زوال

?️ 21 نومبر 2023سچ خبریں: گلوبز اخبار کے مطابق تل ابیب کے علاقے کے تاجروں نے

امریکہ کی جانب سے افغان صدر سے استعفی کا مطالبہ کرنے کے بارے میں متضاد میڈیا رپورٹس

?️ 13 اگست 2021سچ خبریں:افغان نیوز ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکی وزیر دفاع

جنوبی وزیرستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دو گروپوں میں تصادم، 4 دہشت گرد ہلاک

?️ 20 اکتوبر 2024وزیرستان: (سچ خبریں) صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں کالعدم

غزہ کے ہسپتالوں کے خلاف جنگ جاری

?️ 23 دسمبر 2023سچ خبریں: جمعہ کے روز غزہ کی پٹی کی وزارت صحت نے

صہیونیوں نے غزہ کی تاریخی یادگاروں کے ساتھ کیا کیا ؟

?️ 9 جنوری 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں آثار قدیمہ، مذہبی یادگاریں اور سیاحتی

انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں کمی، ڈالر 3 روپے 38 پیسے مہنگا

?️ 9 مارچ 2023کراچی: (سچ خبریں) انٹربینک مارکیٹ میں ایک بار پھر ڈالر کے مقابلے

وزیر دفاع پرویز خٹک نے کیا سینیٹ الیکشن میں 20 نشستیں ملنے کا دعویٰ

?️ 6 فروری 2021اسلام آباد {سچ خبریں} حکمران جماعت تحریک انصاف کو وزیر دفاع پرویز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے