سابق امریکی فوجیوں کے لیے ذہنی صحت کی خدمات کے بحران میں شدت

سابق امریکی فوجیوں

?️

سچ خبریں:امریکی کانگریس کے 60 سے زائد ڈیموکریٹ ارکان نے ٹرمپ انتظامیہ سے سابق فوجیوں کے لیے ذہنی صحت کے ماہرین کی شدید کمی اور علاج تک رسائی میں بڑھتی مشکلات پر وضاحت طلب کر لی۔

امریکی کانگریس کے 60 سے زائد ڈیموکریٹ ارکان نے ٹرمپ انتظامیہ کی وزارت برائے امور سابق فوجیوں سے سابق فوجیوں کے لیے ماہر نفسیاتی معالجین کی بڑھتی ہوئی کمی اور ذہنی صحت کی خدمات تک رسائی میں مشکلات کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے ادارے پروپبلکا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ایوان نمائندگان کے 60 سے زائد ڈیموکریٹ ارکان نے وزیر امور سابق فوجیوں ڈگ کولنز کے نام ایک خط میں اس ادارے میں ذہنی صحت کی خدمات کی صورتحال اور ماہر افرادی قوت کی کمی کے سابق فوجیوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔

یہ خط کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن اور ماہر نفسیات جوڈی چو کی قیادت میں ارسال کیا گیا ہے۔ خط میں پروپبلکا کی جانب سے وزارت برائے امور سابق فوجیوں میں ذہنی صحت کی خدمات کی صورتحال کے حوالے سے حالیہ تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت سے کہا گیا ہے کہ وہ عملے کی کمی، مریضوں پر اس کے اثرات اور خدمات حاصل کرنے کے لیے انتظار کے دورانیے سے متعلق تفصیلات فراہم کرے۔

پروپبلکا کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری حکومت کے دور میں وزارت برائے امور سابق فوجیوں سے ذہنی صحت کے شعبے سے وابستہ سیکڑوں ماہرین نے ملازمت چھوڑ دی ہے اور ان میں سے بہت سے ماہرین کی جگہ نئے افراد تعینات نہیں کیے گئے۔ اس صورتحال نے باقی ماندہ عملے پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔

وزارت برائے امور سابق فوجیوں کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال جنوری میں اس ادارے کے پاس گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 500 ماہرین نفسیات اور نفسیاتی معالجین کم تھے اور ان ماہرین کی تعداد میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری رہا۔

ایریزونا میں اس وزارت کے ایک سابق ماہر نفسیات نے پروپبلکا کو بتایا کہ عملے کی کمی کے باعث بعض مریضوں کے انفرادی علاج کے اجلاسوں کو آن لائن اجتماعی اجلاسوں سے تبدیل کر دیا گیا ہے، جن میں بعض اوقات 35 سابق فوجی بھی شریک ہوتے تھے۔ بعض صورتوں میں انفرادی علاج کے اجلاسوں کا دورانیہ بھی کم ہو کر تقریباً 16 منٹ رہ گیا ہے۔

پروپبلکا کو حاصل ہونے والے مستعفی ملازمین کے اختتامی سروے میں بعض سابق ملازمین نے بتایا کہ وہ اب سابق فوجیوں کو معیاری خدمات فراہم کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔

یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزارت برائے امور سابق فوجیوں کو امریکہ کا سب سے بڑا طبی نظام سمجھا جاتا ہے اور یہ ادارہ تقریباً 9 ملین سابق فوجیوں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ ان افراد کو عام آبادی کے مقابلے میں ذہنی صحت کے مسائل کا زیادہ سامنا ہوتا ہے اور ان میں خودکشی کی شرح تقریباً دو گنا بتائی گئی ہے۔

دریں اثنا، بعض سابق فوجی بھی ماہر افرادی قوت کی کمی کے اثرات سے متاثر ہوئے ہیں۔ امریکی بحریہ اور بری فوج کے سابق اہلکار جیسن بیمن نے ایسے معالجین کے درمیان بار بار تبدیلی کے بعد، جو بالآخر وزارت سے الگ ہو گئے، آخرکار طبی خدمات حاصل کرنا ہی بند کر دیں۔

ڈیموکریٹ ارکان نے اپنے خط میں ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ماہر افرادی قوت کی کمی سے نمٹنے کے لیے حکومت کی حکمت عملی اور سابق فوجیوں کے لیے ذہنی صحت کی خدمات تک رسائی یقینی بنانے کے اقدامات کے بارے میں وضاحت فراہم کرے۔

ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل سابق فوجیوں کے لیے اعلیٰ ترین سطح کی طبی خدمات فراہم کرنے کا وعدہ کر چکی ہے۔

مشہور خبریں۔

غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ جرائم پر مغرب کب تک خاموش رہے گا ؟

?️ 25 اکتوبر 2023سچ خبریں:ہیومن رائٹس واچ کی بین الاقوامی تنظیم نے انسانی حقوق کے

’صلاح الدین ایوبی‘ کیلئے پاکستانی اداکاروں کے آڈیشن لیے جانے پر ژالے سرحدی نالاں

?️ 26 اکتوبر 2023کراچی: (سچ خبریں) پاکستان اور ترکیہ کے نجی پروڈکشن ہاؤسز کے اشتراک

عربوں نے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنا امن منصوبہ یورپ کو دیا: برل

?️ 28 مئی 2024سچ خبریں: جوزپ بریل نے پیر کو ایک تقریر میں کہا کہ عرب

امریکی صدر ٹرمپ کی شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات کی خواہش اور چین سے مدد کی اپیل

?️ 25 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملائشیا کے لیے روانگی سے

ایپسٹین کو کعبہ کا پردہ تحفے میں دینے والا مقدس چیزوں کا دشمن ہے : یمن

?️ 17 ستمبر 2026سچ خبریں:  یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے

امریکہ اور آسٹریلیا کی مشترکہ فوجی مشق کے مقاصد

?️ 31 جولائی 2023سچ خبریں:آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے اعلان کیا ہے کہ

وزیراعظم کے لندن جانے پر اتحادی جماعتوں کو تحفظات

?️ 16 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے

ہم صرف مشاورتی اجلاس کیلئے لاہور جا رہے ہیں کوئی جلسہ یا احتجاج نہیں کر رہے ، بیرسٹرگوہر

?️ 12 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر کا کہنا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے