الجولانی کی شام میں روسی فوجی موجودگی برقرار رکھنے پر رضامندی

الجولانی کی شام میں روسی فوجی موجودگی برقرار رکھنے پر رضامندی

?️

سچ خبریں:شامی دہشت گرد تنظیم الجولانی کے وزیر دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کی نئی حکومت، روس کی فوجی موجودگی کے تسلسل پر کوئی اعتراض نہیں رکھتی۔

رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق شامی دہشت گرد تنظیم الجولانی کے وزیر دفاع مرہف ابوقصرہ نے اعلان کیا کہ نئی شامی حکومت روس کی فوجی موجودگی، بشمول حمیمیم اور طرطوس کے فضائی اور بحری اڈوں کی موجودگی سے متفق ہے، جب تک کہ یہ شام کے مفادات کی ضمانت دیتا رہے۔

یہ بھی پڑھیں: شام کو 4 متحارب ریاستوں میں تقسیم کرنے کا خطرناک منصوبہ

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دمشق اور ماسکو کے تعلقات میں شام میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے بعد نمایاں بہتری آئی ہے، اور شامی حکام روسی مطالبات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے روسی فضائی حملوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر، جو جنگ کے دوران الجولانی تنظیم کے عناصر کو نشانہ بناتے رہے۔

سیاست میں کوئی مستقل دشمن نہیں ہوتا! انہوں نے کہا: ،جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا روس کو طرطوس اور لاذقیہ میں اپنے فوجی اڈے برقرار رکھنے کی اجازت دی جائے گی؟ تو ان کا جواب تھا کہ اگر اس سے شام کو فائدہ ہو تو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ شام، متعدد ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر غور کر رہا ہے اور ملک میں امریکی اور ترک فوجی اڈوں کے مستقبل کے بارے میں دونوں ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

وزیر دفاع نے ایک سوال کے جواب میں یہ واضح کرنے سے گریز کیا کہ آیا الجولانی نے گزشتہ ماہ روسی حکام سے ملاقات کے دوران بشار الاسد کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا، لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ اسد کو جوابدہ بنانے کا معاملہ زیر بحث آیا تھا۔

ابوقصرہ نے مزید کہا کہ بشار الاسد کو جب روس جانے کا فیصلہ کرنا پڑا، تو وہ یہ سوچ رہے تھے کہ ہم روس کے ساتھ کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکتے، لیکن شاید یہ تعلقات ایسے انداز میں بحال ہوں جو پہلے شام اور پھر روس کے مفادات کو مدنظر رکھے۔

روسی نائب وزیر خارجہ میخائیل بوگدانوف کی قیادت میں ایک روسی وفد نے حالیہ دنوں میں دمشق کا دورہ کیا، تاہم انہوں نے بشار الاسد کی صورتحال پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، مگر روس کے شہریوں اور تنصیبات کو کسی نقصان نہ پہنچنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

بوگدانوف نے مزید کہا کہ روس کی فوجی موجودگی سے متعلق معاہدہ مزید مذاکرات کا متقاضی ہے اور اب تک صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی، لیکن دونوں فریق مکمل مشاورت جاری رکھنے پر متفق ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ خطے کے اکثر ممالک شام میں روس کے فوجی اڈوں کی بقا میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کا انحصار نئی شامی قیادت کے ساتھ مفادات کے اشتراک پر ہوگا۔

ابومحمد الجولانی نے بھی اس بات پر زور دیا کہ روس، جو کہ دنیا کی دوسری بڑی طاقت ہے، کے ساتھ دمشق کے تعلقات انتہائی اہم ہیں اور شام ان تعلقات میں اپنے تذویراتی (اسٹریٹجک) مفادات کو ترجیح دے رہا ہے۔

مزید پڑھیں: شام میں دہشت گردوں کی حکومت کو درپیش چیلنجز؛ خانہ جنگی سے لے کر ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی تک

انہوں نے کہا کہ نئی حکومت شامی عوام کے مفادات کو مقدم رکھتی ہے اور غیر ملکی ممالک کے ساتھ تنازعات پیدا کرنے کی خواہاں نہیں ہے۔

مشہور خبریں۔

بی بی سی اسرائیل میں کیا کر رہا ہے؟

?️ 16 اگست 2023سچ خبریں:بی بی سی عربی ویب سائٹ نے منگل 15 اگست کو

الجولانی کا ٹرمپ کے نام خط

?️ 25 اپریل 2025سچ خبریں:شام میں دہشت گرد گروہ کے سرغنہ ابومحمد الجولانی نے امریکی

قمر جاوید باجوہ اور فیض حمید کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

?️ 25 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق آرمی چیف جنرل

انٹرا پارٹی الیکشن کے بارے میں وزیر اعظم کا اہم بیان سامنے آگیا

?️ 31 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق مقررہ وقت میں انٹرا پارٹی

وزارت داخلہ کا اسلام آباد کے ریڈ زون میں توسیع کا فیصلہ

?️ 30 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) 4 نومبر کو وفاقی دارالحکومت پہنچنے والے پاکستان تحریک

یمنی فوج نے اسرائیلی حکومت کے خلاف اپنے نئے آپریشن کا اعلان کیا

?️ 18 نومبر 2024سچ خبریں: یمنی مسلح فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحیی ساری نے

کیا شمالی کوریا اپنا جوہری پروگرام ترک کرے گا؟

?️ 12 مارچ 2024سچ خبریں: امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی نے اپنی سالانہ رپورٹ میں اس

صیہونی ریاست کی صورتحال؛سید حسن نصراللہ کی زبانی

?️ 25 جولائی 2023سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے صیہونی حکومت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے