?️
سچ خبریں:امریکہ اور چین کی جارحانہ پالیسیوں نے ایشیا کی درمیانی طاقتوں کو نئے عالمی نظم میں اپنی سیاسی و معاشی حکمتِ عملی پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔
بلومبرگ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور چین کے صدور کی جانب سے اُن ممالک کے خلاف حالیہ سخت مؤقف، جو ان کے ساتھ ہم آہنگی اختیار نہیں کرتے، نے درمیانی طاقتوں کو عالمی سیاست اور معیشت کے میدان میں ایک نئی حکمتِ عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ اور دنیا کے ساتھ تجارتی جنگ؛ اہداف اور نتائج
رپورٹ کے مطابق، آج کے حالات میں ایک درمیانی طاقت کے لیے درست راستہ کیا ہے؟ وینزویلا کے طاقتور رہنما نکولس مادورو کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں جرات مندانہ اغوا، مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ فوجی حملوں پر بحث، جنوبی بحیرۂ چین میں فلپائن کے جہازوں کے خلاف چینی اقدامات اور تائیوان کو دی جانے والی مسلسل دھمکیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دونوں سپر پاورز قانون پر مبنی عالمی نظام کی حدود کو آزما رہی ہیں۔
کئی دہائیوں تک اس خطے نے ایک سادہ فارمولے پر انحصار کیا: معاشی ترقی کے لیے چین اور سلامتی کے لیے امریکہ۔ یہ سمجھوتہ ایک پوری نسل کی سلامتی اور خوشحالی کی بنیاد بنا، جس نے ممالک کو آمدنی اور معیارِ زندگی میں اضافے کے ساتھ عالمگیریت کی لہر پر سوار ہونے کا موقع دیا۔
لیکن اب اس سوچ کی افادیت، خاص طور پر اُن چھوٹے اور درمیانے ممالک کے لیے کم ہوتی جا رہی ہے جو معاشی یا عسکری لحاظ سے سپر پاورز کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر ٹرمپ کے شکوک کے بعد گزشتہ ہفتے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی، جہاں دونوں ممالک نے تعلقات کی بحالی اور درآمدی رکاوٹوں، بشمول چینی الیکٹرک گاڑیوں پر عائد محصولات، میں کمی پر اتفاق کیا۔ آٹھ برس بعد کسی کینیڈین رہنما کے پہلے دورۂ چین کے دوران، کارنی نے نئے عالمی نظم کا حوالہ دیا، جو اس امر کی علامت تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی اصولوں کو کس طرح پامال کیا ہے۔
ایسا مؤقف ایشیا میں بارہا دیکھنے میں آیا ہے۔ سنگاپور کے سینئر وزیر لی ہسین لونگ نے حال ہی میں خبردار کیا کہ واشنگٹن کی یکطرفہ کارروائیوں کی خواہش دنیا بھر کے چھوٹے ممالک کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے۔
ایک علاقائی تھنک ٹینک تقریب میں سابق وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ وینزویلا کو سنگین داخلی مسائل درپیش ہیں، تاہم یہ حقیقت امریکہ کے اقدامات کو درست ثابت نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک چھوٹے ملک کے نقطۂ نظر سے، اگر دنیا اسی طرح چلے تو ہمیں مشکل پیش آئے گی۔
منی ایپولس میں امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے ایک اہلکار کے ہاتھوں رینے نیکول گوڈ کے قتل نے چین کے ساتھ ناخوشگوار تقابل کو جنم دیا ہے، ایک ایسا ملک جس پر اپنے شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال، بین الاقوامی پانیوں میں جہاز رانی میں مداخلت اور طویل عرصے سے بین الاقوامی تنقید، حتیٰ کہ خود واشنگٹن کی جانب سے بھی، کے الزامات عائد رہے ہیں۔
چائنا گلوبل ساؤتھ پروجیکٹ کے شریک بانی ایرک اولانڈر، جو ایشیا-بحرالکاہل، افریقہ، لاطینی امریکہ، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں چین کے کردار کا جائزہ لیتا ہے، کہتے ہیں کہ یہ سخت رویہ اُن درمیانی اور چھوٹے ممالک کے لیے ایک اسٹریٹجک مخمصہ پیدا کر رہا ہے جو طویل عرصے سے امریکی استحکام کے عادی رہے ہیں۔
ان کے بقول ٹرمپ نے سب کچھ الٹ پلٹ کر دیا اور علاقائی حکومتوں کو چونکا دیا ہے۔ تاہم یہ ممالک عملی بھی ہیں۔ وہ واشنگٹن اور بیجنگ کو متبادل انتخاب کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ چین کو نہ اتحادی سمجھتے ہیں نہ خطرہ، بلکہ ایک معاشی موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔
امریکہ اب بھی سرفہرست ہے، مگر کب تک؟
واشنگٹن کی طاقت میں کمی آ رہی ہے جبکہ بیجنگ تیزی سے اپنا خلا پُر کر رہا ہے۔ اس رجحان کی عکاسی 2025 کے ایشیائی پاور انڈیکس میں بھی ہوتی ہے، جسے سڈنی میں قائم لووی انسٹی ٹیوٹ نے جاری کیا۔ یہ انڈیکس فوجی، معاشی، سفارتی اور ثقافتی اثر و رسوخ کی بنیاد پر ممالک کی درجہ بندی کرتا ہے۔ اگرچہ گزشتہ سال بھی امریکہ کو ایشیا کی سب سے طاقتور قوت قرار دیا گیا، مگر چین کے ساتھ اس کا فرق 2020 کے بعد سب سے کم سطح پر آ گیا۔
اس کی بنیادی وجہ؟ ایشیا کے بارے میں ٹرمپ کے رویّے اور ان کی جانب سے عائد کردہ محصولات پر غیر یقینی کیفیت، حالانکہ خطے کی معیشتیں بڑی حد تک امریکہ سے منسلک رہی ہیں۔ اسی دوران چین اپنی عسکری صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ امریکی معاشی دباؤ، محصولات اور برآمدی پابندیوں کے جواب میں پُراعتماد ہے۔
تاہم چین کے ارادوں کے بارے میں بھی سنجیدہ شکوک موجود ہیں۔ متنازع پانیوں میں غیر ملکی جہازوں کو ٹکر مارنے اور پانی کے چھینٹے مارنے سے لے کر اُن ممالک کے خلاف معاشی جوابی کارروائیوں تک جو اس کی سیاسی ترجیحات سے اختلاف کرتے ہیں، بیجنگ کا جارحانہ طرزِ عمل اس کے بین الاقوامی اصولوں کے احترام پر سوالات کو جنم دیتا ہے۔
تیز رفتار عسکری جدید کاری، تائیوان کے گرد دباؤ کی حکمتِ عملی اور وسیع بحری دعوؤں کے سائے میں کئی حکومتیں چین پر حد سے زیادہ انحصار سے بچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اس نئے عالمی منظرنامے میں بقا کے لیے متنوع حکمتِ عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔ درمیانی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف علاقائی فورمز اور اعلانات کے ذریعے، بلکہ بحری سلامتی سے لے کر تجارت جیسے عملی معاملات میں بھی باہمی تعاون کو گہرا کریں۔
ایسی کوششیں پہلے ہی جاری ہیں۔ چین کے ساتھ کینیڈا کی قربت بظاہر بداعتمادی کا تاثر دے سکتی ہے، لیکن کارنی نے اس کے بعد قطر اور سوئٹزرلینڈ کے دورے کر کے تجارتی تعلقات میں تنوع پیدا کیا۔
جاپان اور جنوبی کوریا، جو طویل عرصے سے ایک دوسرے سے دور تھے، چین کے بارے میں مشترکہ خدشات اور امریکہ کی قابلِ اعتماد حیثیت پر شکوک کے باعث ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ آسٹریلیا اور فلپائن مضبوط عسکری تعلقات پر دستخط کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ کینبرا کے رواں سال کے دفاعی اخراجات میں جنوب مشرقی ایشیا کے اس ملک میں پانچ فوجی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شامل ہوں گے۔
ادھر بھارت، جو لووی انڈیکس میں امریکہ اور چین کے بعد تیسری بڑی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے، رواں سال چوتھی مرتبہ برکس گروپ کی صدارت سنبھال رہا ہے۔ اس سے نئی دہلی کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرے اور تجارتی انضمام کو فروغ دے۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کے نئے ٹیکسز پر عالمی ردعمل؛ تجارتی جنگ کا خدشہ
قانون پر مبنی پرانا عالمی نظم تیزی سے زوال پذیر ہے، لیکن درمیانی طاقتیں مکمل طور پر بے اختیار نہیں ہیں۔ ان کی مشترکہ کوششیں اُن اصولوں کو مٹنے سے بچا سکتی ہیں جن پر وہ طویل عرصے سے انحصار کرتی آئی ہیں۔


مشہور خبریں۔
پارٹی کے جن رہنماؤں کو وفاقی تحقیقاتی ادارے نے طلب کیا ہے وہ 12-2011 میں عوامی عہدوں پر فائز نہیں تھے۔
?️ 7 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیر اطلاعات اور رہنما پی ٹی آئی
اگست
روسی چینی فوجی اتحاد بہت خطرناک ہے: امریکی جنرل
?️ 2 اپریل 2023سچ خبریں:امریکی مسلح فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین مارک
اپریل
انٹرنیٹ پر دکھائی دینے والے ایرر نمبروں کا کیا مطلب ہے؟
?️ 2 اگست 2021لندن (سچ خبریں)کیا آپ کو معلوم ہے کہ انٹرنیٹ پردکھائی دینے والے
اگست
امریکہ داعش کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے میں مدد نہیں کر رہا ہے: عراقی ایلچی
?️ 16 دسمبر 2021سچ خبریں: الفتح اتحاد کے ایک سینئر رکن اور عراقی پارلیمنٹ
دسمبر
مسجد اقصیٰ کے خلاف صیہونیوں کی مسلسل جارحیت قابل قبول نہیں:قطر
?️ 10 اپریل 2023سچ خبریں:قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اتوار
اپریل
جج کی رخصت: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت آج نہیں ہوگی
?️ 11 جون 2025اسلام آباد : (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے رخصت
جون
سیالکوٹ واقعے پر عدنان صدیقی کا ردعمل
?️ 6 دسمبر 2021کراچی (سچ خبریں) پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار عدنان صدیقی نے
دسمبر
پیپلز پارٹی کے تحفظات پر مذاکرات جاری ہیں، معاہدے پر عمل کیا جائے، یوسف رضا گیلانی
?️ 15 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے پیپلز پارٹی
دسمبر