?️
سچ خبریں: برطانیہ کے 90 سے زائد ارکانِ پارلیمان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے لندن میں ہونے والے ایک ایسے پروگرام کو روکے، جس میں مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں قائم صہیونی بستیوں کی زمینیں اور جائیدادیں فروخت کے لیے پیش کیے جانے کا منصوبہ ہے۔
ایرنا کے لندن سے نمائندے کے مطابق، برطانوی پارلیمان کے ایوانِ زیریں اور ایوانِ بالا کے 95 ارکان نے وزیرِ خارجہ یوٹے کوپر اور وزیرِ داخلہ شبانہ محمود کو ایک خط لکھا ہے، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ لندن میں منعقد ہونے والی ’’گریٹ اسرائیل ریئل اسٹیٹ ایگزیبیشن‘‘ کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ تقریب اتوار کے روز منعقد ہونی ہے، جہاں برطانوی شہریوں کو مختلف علاقوں، بشمول مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں، کی زمینیں اور جائیدادیں خریدنے کی پیشکش کی جائے گی۔
ارکانِ پارلیمان کی بنیادی تشویش ’’گوش عتصیون‘‘کے علاقے میں زمینوں کی تشہیر اور فروخت ہے، جسے برطانوی حکومت فلسطینی علاقوں میں قائم غیرقانونی اسرائیلی بستیوں کا حصہ قرار دیتی ہے۔
اس تقریب کے منتظمین کی ویب سائٹ پر پہلے ’’گوش عتصیون‘‘ کو خریداری کے لیے دستیاب مقامات کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج کے بعد اس علاقے میں زمین فروخت کرنے کے حوالے سے براہِ راست حوالہ ہٹا دیا گیا۔
خط پر دستخط کرنے والے ارکان نے زور دیا کہ برطانیہ کے دارالحکومت میں اس نوعیت کی تقریب کا انعقاد حکومت کے اس سرکاری مؤقف سے متصادم ہے جس کے مطابق اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام عملی طور پر صہیونی بستیوں کی توسیع میں مددگار ثابت ہوگا اور حکومت کی اس سرکاری ہدایت کے بھی خلاف ہے جس میں بستیوں سے متعلق معاشی سرگرمیوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
برطانوی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق، مغربی کنارے، غزہ کی پٹی، مشرقی قدس اور گولان ہائٹس میں اسرائیلی بستیاں 1967 سے مقبوضہ علاقوں میں قائم ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی سمجھی جاتی ہیں۔
لیبر پارٹی کے رکن این ڈی میکڈونالڈ، جنہوں نے اس خط کی مہم منظم کی، نے کہا کہ برطانوی حکومت کے پاس موقع ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف مؤثر اقدام اٹھائے۔
گرین پارٹی کی رکن ایلی چاونس نے بھی کہا کہ غیرقانونی بستیوں میں زمینوں کی تشہیر اور فروخت کے لیے منعقد ہونے والی کسی بھی تقریب کو برطانیہ میں اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
دوسری جانب لندن کے میئر صادق خان نے بھی اس تقریب پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے معاملہ میٹرو پولیٹن پولس کے سامنے اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس پروگرام میں جائیدادوں کی غیرقانونی فروخت سے متعلق کوئی الزام سامنے آتا ہے تو پولیس اس کی مکمل تحقیقات کرے گی۔
یہ تنازع ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب برطانوی حکومت نے حال ہی میں چند مغربی ممالک کے ساتھ مل کر مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد سے منسلک بعض افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں اور ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا ہے کہ وہ بستیوں کی توسیع کی مخالف ہے۔
تاہم پارلیمان کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ نے حکومتِ اسٹارمر کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے: اگر برطانیہ اسرائیلی بستیوں کو غیرقانونی قرار دیتا ہے، تو پھر انہی بستیوں سے متعلق جائیدادوں کی خرید و فروخت کے لیے لندن میں منعقد ہونے والی ایسی تقریب کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟


مشہور خبریں۔
مصر اسرائیل گیس معاہدے کے سیاسی نتائج؛ قاہرہ کا بڑا غلط حساب
?️ 22 دسمبر 2025سچ خبریں: مصری حکومت صیہونی حکومت کے ساتھ گیس کے بڑے معاہدے
دسمبر
ناانصافی کےخلاف بغاوت کرتی ’جندو‘ کا ٹریلر جاری، حمائمہ ملک کا مرکزی کردار
?️ 4 اپریل 2023کراچی: (سچ خبریں) فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ کی بے پناہ
اپریل
عراقی ایوان صدر کے دفتر نے حزب اللہ اور انصار اللہ کو دہشت گرد قرار دینے کی تردید کی ہے
?️ 5 دسمبر 2025سچ خبریں: جمہوریہ عراق کی صدارت نے انصار اللہ اور حزب اللہ
دسمبر
صدر مملکت نے اپنے پیغام میں عوام کو عید کی مبارک باد دی
?️ 13 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عید الفطر
مئی
امریکی صدارتی انتخابات کی گہما گہمی
?️ 30 اکتوبر 2024سچ خبریں:2024 کے صدارتی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل ہی 51 ملین
اکتوبر
جمعے کی نماز کے دوران حملہ افسوس ناک، دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں۔ عطا تارڑ
?️ 7 فروری 2026لاہور (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ جمعے
فروری
اسرائیل اندر سے ٹوٹ رہا ہے:عطوان
?️ 4 ستمبر 2022سچ خبریں:عطوان نے اپنے نئے کالم میں مغربی کنارے میں پیش آنے
ستمبر
کراچی: پاک بحریہ کی پہلی سی گارڈ مشق کا انعقاد
?️ 13 جنوری 2024کراچی: (سچ خبریں) جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کارڈیشین کے زیر انتظام پاک
جنوری