?️
سچ خبریں: برطانوی وزیرِاعظم اسٹارمر نے اپنے وزیرِ دفاع اور ان کے نائب کے استعفوں کے بعد بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے باوجود اقتدار چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر لیبر پارٹی میں قیادت کے لیے مقابلہ شروع ہوتا ہے تو وہ اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے بھرپور مقابلہ کریں گے۔
اسٹارمر نے جمعہ کے روز بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ 2024 کے انتخابات میں عوام کی جانب سے سونپی گئی ذمہ داری سے دستبردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا: "میں وہ کام مکمل کرنا چاہتا ہوں جس کے لیے عوام نے مجھے حکومت میں منتخب کیا تھا۔”
استارمر نے مزید کہا کہ وہ اپنے مینڈیٹ کو 2024 میں لیبر پارٹی کو ملنے والے عوامی اعتماد کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اس عہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اگلے عام انتخابات تک لابور پارٹی کی قیادت جاری رکھنا چاہتے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا:
"یہی میرا ارادہ ہے۔”
تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت کو مایوس کن نتائج کا سامنا کرنا پڑا اور کہا:
"میں جانتا ہوں کہ مجھے صورتحال کو بہتر بنانا ہوگا۔”
استارمر نے اقتدار سے خاموشی کے ساتھ الگ ہونے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لیبر پارٹی کو قیادت کی اندرونی کشمکش کے ذریعے ملک کو سیاسی انتشار میں نہیں دھکیلنا چاہیے۔
اس کے باوجود انہوں نے واضح کیا کہ اگر قیادت کے لیے باضابطہ مقابلہ شروع ہوا تو وہ اس میں حصہ لیں گے اور اپنی پوزیشن کا دفاع کریں گے۔ ان کے بقول یہ فیصلہ ذاتی انا یا ضد کی بنیاد پر نہیں بلکہ احساسِ ذمہ داری سے لیا گیا ہے۔
بحران کیسے شروع ہوا؟
برطانوی حکومت میں تازہ بحران جمعرات کی شام اس وقت شروع ہوا جب سابق وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا۔ اپنے استعفے میں انہوں نے حکومت کے دفاعی سرمایہ کاری منصوبے کے لیے مختص بجٹ کو برطانیہ کی سکیورٹی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی قرار دیا۔
چند گھنٹوں بعد مسلح افواج کے امور کے نائب وزیرِ دفاع نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے دفاعی منصوبے کو کم بجٹ والا اور مستقبل کی جنگی ضروریات کے مطابق ناکافی قرار دیا۔
اختلاف کس بات پر ہے؟
رپورٹس کے مطابق اصل تنازع دفاعی اخراجات کے منصوبے پر ہے۔ وزارتِ دفاع آئندہ چار برسوں کے دوران 18 ارب پاؤنڈ کی اضافی فنڈنگ چاہتی تھی، جبکہ وزارتِ خزانہ نے صرف 13.5 ارب پاؤنڈ مختص کرنے کی تجویز دی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جان ہیلی کا استعفیٰ استارمر حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ وہ لیبر پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور وزیرِاعظم کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔ اس پیش رفت نے استارمر کی قیادت سے متعلق جاری بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔
ہیلی کے استعفے کے بعد استارمر نے کو برطانیہ کا نیا وزیرِ دفاع مقرر کر دیا، تاہم اس تقرری سے بھی ان پر بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ کم نہیں ہو سکا اور لیبر پارٹی میں ان کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔


مشہور خبریں۔
قمر جاوید باجوہ اور فیض حمید کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
?️ 25 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق آرمی چیف جنرل
نومبر
ایم کیو ایم پاکستان، جی ڈی اے آئندہ عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دینے پر متفق
?️ 6 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم-پاکستان) اور گرینڈ ڈیموکریٹک
ستمبر
امریکہ میں مہلک شوٹنگ؛ کم از کم 2 ہلاک، 3 زخمی
?️ 6 مئی 2026 سچ خبریں:ڈلاس کے شمال میں ایک تجارتی مرکز کے قریب فائرنگ
مئی
سید حسن نصر اللہ کی تقریر پر صہیونی میڈیا کا رد عمل
?️ 19 فروری 2022سچ خبریں:صیہونی میڈیا نےحزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ
فروری
عراق کے شہر اربیل میں متعدد دھماکوں نے ہلاہل مچا دی
?️ 27 جولائی 2026سچ خبریں: عربی ذرائع ابلاغ نے شمالی عراق کے شہر اربیل میں
جولائی
ہم کئی سالوں سے سعودی عرب پر پرواز کر رہے ہیں: نیتن یاہو
?️ 28 ستمبر 2023سچ خبریں:ببنجمن نیتن یاہو نے آج کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں
ستمبر
الیکشن کمیشن کی وجہ سے مینڈیٹ کو نقصان پہنچا، 8 فروری کو یوم سیاہ ہرصورت منائیں گے، شیخ وقاص
?️ 6 فروری 2025 پشاور: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ
فروری
خان یونس میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تشویشناک صورتحال؛ خیمے جو اب سردی سے پناہ گاہ نہیں ہیں
?️ 2 نومبر 2025سچ خبریں: خان یونس کے میئر نے اعلان کیا کہ کیمپوں میں
نومبر