?️
سچ خبریں: نتن یاہو کی طرف سے رومن گافمین کو موساد کا سربراہ مقرر کرنا صیہونی حکومت کے سیکیورٹی اور سیاسی ڈھانچے میں ایک بے مثال بحران بن گیا ہے، اور موجودہ سربراہ موساد کی اس انتخاب کے خلاف علنی مخالفت نے اسرائیلی کابینہ کو ایک نئے تنازع میں ڈال دیا ہے، جسے عبرانی میڈیا نے اسرائیل کے انٹیلیجنس ڈھانچے کے خاتمے کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔
صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو اور موساد (خارجہ انٹیلیجنس سروس) کے موجودہ سربراہ ڈیوڈ بارنیع کے درمیان رومن گافمین کو اس جاسوسی ادارے کے نئے سربراہ کے طور پر تقرر کرنے پر غیر معمولی تناؤ اس حکومت کے سیکیورٹی اور سیاسی ڈھانچے میں ایک گہرے بحران میں تبدیل ہو گیا ہے۔ عبرانی میڈیا اسے ‘سیکیورٹی اسکینڈل’ قرار دے رہا ہے۔
نتن یاہو نے اپنے موجودہ فوجی سیکرٹری رومن گافمین کو موساد کا نیا سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کی تقرری کا حکم بھی جاری کر دیا ہے تاکہ وہ موساد کے موجودہ سربراہ ڈیوڈ بارنیع کی جگہ لیں۔ لیکن اعلیٰ عہدیداروں کی تقرری کی کمیٹی، جس کی سربراہی آشر گرونیس کر رہے ہیں، انہیں اس عہدے کے لیے نااہل قرار دیتی ہے۔
اخبار ‘یدیعوت احارینوت’ نے اس سلسلے میں رپورٹ دی کہ بارنیع نے علانیہ گافمین کی تقرری کے خلاف مخالفت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ وہ ‘کسی بھی حد سے ماورا ہیں’ اور موساد کے سربراہ کے طور پر ان کی موجودگی ‘اسرائیل کے لیے خطرناک’ ہوگی۔ یہ انتباہ ایک سرکاری پیغام میں سپریم کورٹ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ یہ اقدام موساد کی تاریخ میں بے مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی دوران، اخبار ‘معاریو’ کے سیاسی تجزیہ کار بن کسپٹ نے لکھا کہ نتنیاہو نے نہ صرف بارنیع کی سفارشات کو نظر انداز کیا ہے، بلکہ انہیں ذاتی طور پر دباؤ میں بھی ڈالا ہے۔ کسپٹ کے مطابق، بارنیع اچھی طرح جانتے ہیں کہ گافمین ‘موساد کے انٹیلیجنس ڈھانچے کے لیے خطرہ’ ہیں اور ان کی تقرری کے سنگین سیکیورٹی نتائج ہو سکتے ہیں۔
یہ بحران اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب اخبار ‘اسرائیل ہیوم’ نے انکشاف کیا کہ صیہونی حکومت کی سپریم کورٹ اس تقرری کے خلاف قانونی درخواستوں کے جائزے کے لیے ہنگامی اجلاس بلا رہی ہے۔ کابینہ کی اٹارنی جنرل گالی بہاراو میارا نے بھی باضابطہ طور پر گافمین کی تقرری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور زور دے کر کہا ہے کہ وہ ‘انٹیلیجنس تجربے سے محروم’ ہیں اور ان کا ریکارڈ ‘موساد کے معیارات سے مطابقت نہیں رکھتا’۔ ناقدین نے یہ بھی یاد دلایا ہے کہ گافمین ایک فوجی افسر ہیں اور انہیں خفیہ کارروائیوں، سیکیورٹی یا انٹیلیجنس نیٹ ورکس کے انتظام کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔
یہاں تک کہ ‘اوری الماکیس’ کیس میں گافمین کے کردار کے بارے میں نئے انکشافات نے بحران کو مزید شدید کر دیا ہے۔ اوری الماکیس ایک 17 سالہ اسرائیلی نوجوان ہے جسے صیہونی حکومت کی فوج کی ایک کارروائی میں غیر قانونی طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ گافمین نے الماکیس کو معلومات فراہم کی تھیں تاکہ وہ انہیں انٹرنیٹ پر شائع کرے اور اس طرح کچھ لوگوں میں رسائی حاصل کر سکے۔ تاہم الماکیس کو خفیہ معلومات پھیلانے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا اور گافمین نے ان کے استعمال سے انکار کر دیا۔ بالآخر ڈیڑھ سال کی گرفتاری اور الزامات کے بعد الماکیس کو بے گناہ قرار دے دیا گیا اور وہ اب گافمین کی تقرری کے خلاف درخواست دینے والوں میں سے ایک ہے۔ بارنیع نے بھی اس کیس کو ‘گافمین کی اخلاقی اور سیکیورٹی اہلیت پر ایک بھاری سایہ’ قرار دیا ہے۔

اوری الماکیس اور رومن گافمین
ادھر، عبرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے دو اعلیٰ عہدیدار، جو اس کیس سے متعلق تحقیقات میں ملوث تھے، 7 اکتوبر 2023 (15 مہر 1402) کے بعد موساد میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ معاملہ فوج اور موساد کے درمیان ‘خفیہ اور مشکوک تعلقات کے جال’ کو ظاہر کرتا ہے۔
اعلیٰ عہدیداروں کی تقرری کی کمیٹی کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے سابق سربراہ آشر گرونیس نے بھی اس تقرری کے خلاف مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ گافمین کو موساد کے سربراہ کے لیے اہل قرار دینے کا عمل ‘نامکمل، غیر پیشہ ورانہ اور شفافیت سے خالی’ تھا۔ کابینہ کی اٹارنی جنرل نے بھی زور دیا ہے کہ کمیٹی نے ‘کلیدی شواہد کا جائزہ لینے میں کوتاہی کی ہے’ اور کچھ اہم معلومات ‘چھپائی گئی ہیں’۔
وسیع مخالفت کے باوجود، نتنیاہو اور ان کی کابینہ نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اعتراضات کو مسترد کرے اور زور دیا ہے کہ ‘موساد کے سربراہ کی تقرری وزیراعظم کے اختیار میں آتی ہے’۔ حکمراں اتحاد کے سربراہ عوفر کاتس نے اٹارنی جنرل پر الزام لگایا ہے کہ وہ ‘فوجی افسروں کے خلاف سیاسی مقصد کے تحت’ کام کر رہی ہیں۔
اخبار ‘جروزالم پوسٹ’ کا تجزیہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ بحران صرف تقرری پر ایک تنازعہ نہیں ہے، بلکہ ‘اسرائیل کے سیکیورٹی اداروں کی خطرناک سیاسی کاری’ کی علامت ہے۔

یہ اخبار لکھتا ہے کہ نتنیاہو نے حالیہ برسوں میں کئی ‘غیر ماہر اور اپنے وفادار’ افراد کو سیکیورٹی اداروں کے سربراہ کے عہدے پر فائز کیا ہے اور اس روند نے ‘اسرائیل کے سیکیورٹی ڈھانچے پر داخلی اور خارجی اعتماد کو کمزور کیا ہے’۔
جبکہ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں براہ راست مداخلت سے گریز کیا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران نے ‘موساد کے دل کو زخم پہنچایا ہے’ اور نتنیاہو اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان خلیج کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔
کچھ عبرانی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس روند کے جاری رہنے سے ‘موساد کی عالمی سطح پر آپریشنل صلاحیت مفلوج ہو سکتی ہے’ اور ‘طویل مدت میں اسرائیل کی سیکیورٹی کمزور ہو سکتی ہے’۔
ایسے حالات میں، یہ سیکیورٹی اسکینڈل نہ صرف نتنیاہو کی کابینہ کو گہرے بحران میں مبتلا کر رہا ہے، بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ وزیراعظم کی سیاسی کاری اور ذاتی تقرریاں صیہونی حکومت کے سیکیورٹی ڈھانچے کو شدید عدم استحکام کے دہانے پر لا کھڑا کر رہی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا اس صورتحال کو ‘موساد کے مستقبل کے لیے ریڈ الرٹ’ قرار دے رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
ہسپتالوں میں داخل 18 فیصد مریضوں کا طبی غفلت کے باعث جان کی بازی ہارنے کا انکشاف
?️ 4 مارچ 2025کراچی: (سچ خبریں) پاکستانی ہسپتالوں میں داخل 18 سے 20 فیصد مریض
مارچ
سول سوسائٹی ارکان نے کشمیری خاندانوں، ماؤں کی حالت زار کو اجاگر کیا
?️ 14 مئی 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں سول
مئی
بھارت سے امریکہ ناراض؛ وجہ ؟
?️ 4 ستمبر 2025سچ خبریں: واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی وزیر اعظم نریندر
ستمبر
دہشت،غربت اور بےگھر؛افغانستان پر 20 سال کے قبضے کی وراثت
?️ 16 اگست 2022سچ خبریں:گزشتہ برس امریکہ نے افغانستان پر 2 دہائیوں پر محیط قبضہ
اگست
ناسا کی مریخ پر آکسیجن تیار کرنے میں اہم کامیابی
?️ 23 اپریل 2021واشنگٹن(سچ خبریں) امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے مریخ پر آکسیجن تیار
اپریل
ایران اور روس کے تعلقات کو نقصان پہنچانے کے لیے مغربی میڈیا کا پروپگنڈہ
?️ 17 نومبر 2021سچ خبریں:تہران میں روسی سفارت خانے نے بعض مغربی میڈیا کی ان
نومبر
بین الاقوامی تنظیمیں صیہونی جرائم میں شریک
?️ 3 جولائی 2025سچ خبریں: غزہ پٹی میں صحت کے نظام کے مکمل زوال اور
جولائی
ہر حال میں ایران کے ساتھ کھڑے ہیں: پاکستان کا دوٹوک اعلان
?️ 22 جنوری 2026سچ خبریں:وزیرِ دفاع پاکستان خواجہ محمد آصف نے ایران کے سفیر سے
جنوری