?️
نیوزویک کے مطابق امریکہ اور وینزویلا کے درمیان ممکنہ جنگ کے تین واضح اشارے
امریکی ہفت روزہ جریدے نیوزویک نے واشنگٹن اور وینزویلا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ممکنہ جنگ کی تمہید قرار دیتے ہوئے تین اہم اشاروں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں وینزویلا کے تیل بردار جہازوں کی روک تھام میں شدت، امریکی فضائی اور بحری افواج کی غیر معمولی سرگرمیاں، اور کاراکاس کی جانب سے اپنی خودمختاری کے دفاع پر سخت مؤقف شامل ہیں، جو ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔
نیوزویک کے مطابق، ٹرمپ کے حکم پر وینزویلا کے ساحلوں کے قریب امریکی بحری جہازوں کی تعیناتی اور نیکولس مادورو کی حکومت کو غیر قانونی قرار دینے کے بیانات نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ امریکہ جنوبی امریکی ملک وینزویلا کے خلاف قریب المستقبل میں فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ یہ حکمت عملی امریکہ کی اس نئی کوشش کا حصہ ہے جس کے تحت وہ مغربی نصف کرے میں اپنی بالادستی دوبارہ قائم کرنا چاہتا ہے، اور اسی تناظر میں 1823 کے مونرو ڈاکٹرائن کو ایک بار پھر فعال کرنے کی بات کی جا رہی ہے، جس نے تاریخی طور پر لاطینی امریکہ میں امریکی مداخلتوں کی راہ ہموار کی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں وینزویلا کے تیل بردار جہازوں کی ضبطی اور ان کی نقل و حمل سے وابستہ اداروں کو سخت انتباہات نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مادورو نے ان اقدامات کو بین الاقوامی بحری قزاقی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، ٹرمپ انتظامیہ نے منشیات اسمگلنگ کے خلاف مہم کے نام پر کیریبین میں مشتبہ کشتیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دفاع کیا ہے، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات وینزویلا کی حکومت کو پیچھے دھکیلنے کے لیے ہیں، جس پر واشنگٹن منشیات کی ترسیل کے الزامات عائد کرتا ہے۔
نیوزویک کے مطابق دوسرا نمایاں اشارہ فوجی تعیناتی میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ حالیہ ہفتوں میں فضائی نگرانی کے اعداد و شمار اور آزاد عسکری تجزیہ کاروں نے وینزویلا کے قریب امریکی جنگی طیاروں اور فضائی سرگرمیوں میں نمایاں اضافے کی اطلاع دی ہے۔ امریکی فوج نے ایف-35 طیارے کیریبین میں تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ ایف/اے-18 سپر ہورنیٹ، بی-52 اسٹریٹجک بمبار اور الیکٹرانک وارفیئر طیارے یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز کے ساتھ وینزویلا کے نزدیک گشت کر رہے ہیں۔ امریکی کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق یہ تعیناتی امریکی بحریہ کی مجموعی قوت کا ایک قابلِ ذکر حصہ ہے اور اس میں وینزویلا سے متعلق اہداف پر حملے کی مشقیں بھی شامل ہیں۔
تیسرا اشارہ دونوں طرف سے بیانات اور دھمکیوں میں اضافہ ہے۔ اگرچہ مادورو عوامی طور پر امن کی بات کرتے ہیں، لیکن انہوں نے واضح کیا ہے کہ وینزویلا اپنی خودمختاری اور قدرتی وسائل کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا، اور ہزاروں نئے فوجیوں نے فوجی خدمات کا حلف اٹھایا ہے۔ مادورو کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائیوں کا اصل مقصد انہیں اقتدار سے ہٹانا اور وینزویلا کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔ دوسری جانب، ٹرمپ نے کھلے عام زمینی حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ مادورو کے دن گنے جا چکے ہیں، اور امریکہ جلد ہی وینزویلا کے خلاف کارروائیاں شروع کرے گا۔
نیوزویک کے تجزیے کے مطابق، اگرچہ ابھی تک براہِ راست جنگ کا آغاز نہیں ہوا، تاہم امریکی فوجی موجودگی، کھلی دھمکیاں اور سخت معاشی دباؤ اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کیریبین خطہ ایک نئے اور خطرناک تصادم کے دہانے پر کھڑا ہو سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
امریکی سفیر کو صہیونی آبادکاروں کی جانب سے شہری اعزاز سے نوازا گیا
?️ 20 ستمبر 2025امریکی سفیر کو صہیونی آبادکاروں کی جانب سے شہری اعزاز سے نوازا
ستمبر
ایران کے اسلامی انقلاب نے ثابت کر دیا کہ امریکہ کی ناک خاک میں رگڑنا ممکن ہے
?️ 9 فروری 2023سچ خبریں:اسلامی انقلاب سے پہلے ایران خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ
فروری
پنجاب میں انتظامی سہولت کیلئے نئی تحصیلیں اوراضلاع بنائے جا رہے ہیں
?️ 1 فروری 2022لاہور (سچ خبریں) ڈیرہ غازی خان میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وزیر
فروری
پنجاب میں عوامی شکایات نظر انداز بیوروکریٹس کو حکومت کا انتباہ
?️ 15 فروری 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے صوبہ
فروری
پی ڈی ایم نے ایک دوسرے کے لئے صفائی پیش کی
?️ 14 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان
مارچ
یمنی تحریک انصار اللہ: صیہونی حکومت کے لیے حقیقی حیرتیں آنے والی ہیں
?️ 2 ستمبر 2025سچ خبریں: یمن کی انصار اللہ تحریک کے سیاسی بیورو کے رکن
ستمبر
لبنان میں داعش کے مرکز کا خاتمہ
?️ 30 جنوری 2023سچ خبریں:لبنان کی عوامی سلامتی نے بیروت میں رسول ہسپتال کو ڈرون
جنوری
بائیڈن کو ابھی تک یقین نہیں آیا کہ آیا غزہ میں کوئی جنگی جرم ہوا ہے!
?️ 5 جون 2024سچ خبریں: امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی ٹائم میگزین سے گفتگو میں
جون