موجودہ معاہدہ جنگ کا حتمی خاتمہ ہے؛ غزہ پر کوئی غیر ملکی سرپرستی قبول نہیں کی جائے گی :  حمدان

حمدان

?️

انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ غزہ کے خلاف جنگ کا حتمی اختتام ہے اور دنیا کو صیہونی ریاست کے رویے کو اس معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے سختی سے مانیٹر کرنا چاہیے۔
العربی ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں اسامہ حمدان نے کہا کہ قیدیوں کا تبادلہ صرف اس صورت میں ہوگا جب جنگ بندی کا باقاعدہ معاہدہ ہو جائے، اور اس معاہدے کا سب سے اہم نکتہ غزہ پٹی کے خلاف جنگ کا مکمل توقف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ثالثوں نے یہ ضمانت دی ہے کہ صیہونی ریاست اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گی اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ فائر بندی کا باقاعدہ اعلان امریکی فریق کی جانب سے کیا جائے گا۔
اسامہ حمدان نے کہا کہ معاہدے کے تحت عمر قید کی سزا پانے والے 250 فلسطینی قیدیوں اور جنگ کے دوران غزہ میں دشمن کی جانب سے حراست میں لیے گئے 1700 فلسطینیوں کو رہا کیا جانا ہے۔ ہم نے اس فہرست میں ان قیدی فلسطینی رہنماؤں کے نام شامل کیے ہیں جن کی رہائی کا ہم مطالبہ کر رہے ہیں۔
حماس کے اس عہدیدار نے وضاحت کی کہ فائر بندی کا نفاذ اس کے قبضہ کار ریاست کی کابینہ کی جانب سے منظور ہونے کے بعد شروع ہوگا، اور معاہدے کے مراحل کے مطابق، صیہونی فوج کو غزہ شہر، شمالی غزہ، رفح اور خان یونس سے پسپائی اختیار کرنی ہوگی۔ معاہدے کا پہلا مرحلہ فلسطینی عوام کی سب سے اہم مانگ، یعنی غزہ کے خلاف جنگ کا توقف، پورا کرنا ہے اور اسی فریم ورک کے تحت غزہ پٹی میں انسان دوست امداد کے داخلے کے لیے 5 کراسنگ کھولے جائیں گے۔
حمدان نے کہا کہ ہم نے ثالثوں سے مطالبہ کیا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے غزہ کے صیہونی ڈرون پروازوں کو معطل کیا جائے۔ بین الاقوامی اداروں کو بھی امداد کی تقسیم کے عمل کی نگرانی کرنی ہے نہ کہ صیہونی ریاست کے کنٹرول میں چلنے والے داخلی اداروں کو۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے قبضہ کار ریاست کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد کی ضمانت حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔ نیز، غزہ پٹی کے انتظامی امور بھی فلسطینی قومی شخصیات کے ذریعے چلائے جانے چاہئیں، بغیر کسی صیہونی فریق کے مداخلت کے۔
اسامہ حمدان نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی گروہوں نے جنگ کے بعد غزہ کے انتظام کے لیے 40 ناموں پر مشتمل ایک فہرست پیش کی ہے اور ہم کبھی بھی قبضہ کاروں کو اپنے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔
حماس کے اس اعلیٰ عہدیدار نے خطے کے تمام ممالک اور بین الاقوامی برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو کوئی بھی فلسطینی قوم کی مدد کرنا چاہتا ہے، اسے یہ کام بغیر کسی قسم کے تحفظ یا حاکمیت مسلط کیے کیے منظرنامے کے کرنا چاہیے۔
جمعہ کی صبح، حماس کی تحریک نے قطر، مصر اور ترکی کی ثالثی میں غزہ کی جنگ بندی کے معاہدے کے حصول کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا۔
حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے میں مکمل جنگ بندی، قبضہ کار فوجوں کا غزہ سے انخلا، قیدیوں کا تبادلہ، اور اس خطے میں انسان دوست امداد کا داخلہ شامل ہے۔
تحریک نے ٹرمپ اور معاہدے کی ضمانت دینے والے ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ قبضہ کار ریاست کو اپنے وعدوں کے مکمل نفاذ کے لیے پابند کریں اور انتباہ کیا کہ اسرائیل کو معاہدے سے پیچھے ہٹنے یا اس میں تاخیر کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
حماس نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی قوم کی قربانیوں اور عظیم استقامت نے قبضہ کاروں کے ہمارے عوام کو ہتھیار ڈالنے اور نقل مکانی کرنے کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا، اور مزید کہا کہ یہ قربانیاں کبھی بے کار نہیں جائیں گی اور ہم اپنے عہد پر قائم رہیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج صبح اعلان کیا کہ اسرائیل اور حماس کی تحریک ان کی حکومت کی طرف سے پیش کردہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر متفق ہو گئے ہیں اور اس پر دستخط کر چکے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے کا مطلب ہے کہ تمام یرغمالی بہت قریب کے مستقبل میں رہا ہو جائیں گے، اور مزید کہا کہ اسرائیل اپنی فوجوں کو دونوں فریقین کے متفقہ لائن پر واپس لے جائے گا، تاکہ مضبوط اور پائیدار امن کی راہ میں پہلا قدم اٹھایا جا سکے۔

مشہور خبریں۔

قرآن پاک کی توہین کی اجازت دینے پر ترکی میں سویڈن سفیر کی طلبی

?️ 22 جنوری 2023سچ خبریں:ترکی نے سویڈن میں ترک سفارت خانے کے سامنے ایک شدت

خیبر پختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات آفیسر کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا

?️ 19 دسمبر 2021پشاور (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق خاتون آفیسر کو شہریوں نے بیلٹ

بوکو حرام کا سرغنہ ہلاک

?️ 7 جون 2021سچ خبریں:نائیجیریہ کی دہشتگرد تنظیم بوکوحرام اور داعش کے درمیان ہونے والی

غزہ پر زمینی حملے کے بارے میں صیہونی باشندے کیا کہتے ہیں؟

?️ 28 اکتوبر 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کے متعلقہ ذرائع نے غزہ پر زمینی حملے

افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی بھارتی خفیہ ایجنسی راء معاونت کر رہی ہے

?️ 18 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی

شام اپنی علاقائی سالمیت کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہے: بشار اسد

?️ 1 دسمبر 2024سچ خبریں: متحدہ عرب امارات کے صدر کے ساتھ بات چیت میں

اسٹیٹ بینک کی کمرشل بینکوں کو ڈالر کے اخراج پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت

?️ 8 مئی 2025کراچی: (سچ خبریں) بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر

تل ابیب کو حماس کی نئی فوج سے خوف کیوں ہے؟

?️ 4 جولائی 2024سچ خبریں: بڑے پیمانے پر حملے اور قتل و غارت بیکار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے