?️
سچ خبریں: مارک گلین نے صیہونی حکومت کے ہاتھوں غزہ کے عوام کی نسل کشی میں امریکہ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ واشنگٹن اور تل ابیب کی مشترکہ مرضی کا نتیجہ ہے۔
امریکہ ان ممالک میں سے ہے جس نے گذشتہ سالوں میں ہمیشہ صیہونیوں کے جرائم کی حمایت کی ہے اور صیہونی حکومت نے اسی حمایت کے ذریعے فلسطینیوں کے خلاف اپنے وحشیانہ جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ کی نسل کشی میں اسرائیل کو امریکی کی مکمل حمایت
طوفان الاقصیٰ کا زبردست آپریشن صیہونی حکومت کے کئی سالوں سے جاری جرائم کے جواب میں ہوا جس نے صیہونی دشمن پر ناقابل تلافی شکست مسلط کر دی۔
طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد غزہ کی پٹی پر صیہونی حملوں کے نتیجے میں اب تک 18 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے،یہ اعدادوشمار خاص طور پر غزہ کے جنوبی علاقے تک اسرائیلی حکومت کی کارروائیوں کی توسیع کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔
صیہونی حکومت کے ہاتھوں فلسطینی عوام کی نسلی تطہیر کے ساتھ ساتھ اس جرم کے لیے امریکہ کی کھلی حمایت کا اظہار جنگ بندی کی قرارداد کے ویٹو سے بھی ہوا، کے حوالے سے امریکی تجزیہ کار اور قلمکار کا کہنا ہے کہ فلسطین کے مظلوم عوام کے خلاف صیہونی حکومت کے حالیہ جرائم نیز غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی نسلی تطہیر میں امریکہ برابر کا شریک ہے اور یہ تل ابیب اور امریکی حکومت کی مشترکہ خواہش ہے۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ گذشتہ کئی سالوں سے فلسطینیوں کی نسل کشی صہیونیوں کی جبلت میں پائی جاتی ہے ، اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان انسان کے دائیں اور بائیں پیر کا فرق ہے،اس کا مطلب ہے کہ دونوں پیر ایک ہی جسم کا حصہ ہیں،اسرائیل اور امریکہ ایک ہی ہیں۔
مارک گلین نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اسرائیلی حکومت کو امریکہ کی وسیع سیاسی، اقتصادی اور فوجی مدد کا حوالہ دیا اور یاد دلایا کہ اگر تل ابیب کے لیے واشنگٹن کی مالی، عسکری اور سیاسی امداد نہ ہوتی تو یہ حکومت برسوں پہلے ختم ہو چکی ہوتی۔
انہوں نے امریکی صدر سمیت دیگر مغربی معاشروں میں اہم لوگوں پر اسرائیلی حکومت کے اثر و رسوخ کی وجہ بھی بیان کی اور کہا کہ یہ اثر و رسوخ ان خفیہ معلومات کی وجہ سے ہے جو تل ابیب ان لوگوں سے جمع کرتا ہے اور انہیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: فلسطینی عوام کو اسرائیل بدترین نسل کشی کا نشانہ بنا رہا ہے، صدر عارف علوی
آخر میں گلین نے غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کو روکنے میں اقوام متحدہ کی نااہلی کے بارے میں کہا کہ اقوام متحدہ بغیر دانتوں اور پنجوں کے کاغذی شیر ہے جو صرف امریکہ کی صوابدید پر موجود ہے۔
اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اسی وقت ایک طاقتور ادارہ بنے گا جب وہ دوسرے ممالک کے خلاف صیہونی حکومت جیسے فریقوں کی جارحیت کو جائز قرار دے گا،جب ایسی جارحیت ہوتی ہے تو یہ تنظیم ایک اجلاس بلاتی ہے اور جارحین کے اقدامات کو جائز قرار دیتی ہے۔


مشہور خبریں۔
مراکشی لڑکے ریان اور یمنی بچوں کی کہانی
?️ 8 فروری 2022سچ خبریں: مراکش سے تعلق رکھنے والے 5 سالہ لڑکے ریان نے
فروری
کیا حماس کی سرنگوں نے کام کیا؟
?️ 8 جنوری 2024سچ خبریں:جنگ امریکن فارن پالیسی میگزین نے غزہ کے خلاف جنگ سے
جنوری
پوتا پوتی سے دوستانہ رشتہ ہے، ’انور‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، انور مقصود
?️ 8 جون 2025کراچی: (سچ خبریں) لیجنڈری مصنف، ڈراما نگار اور مزاح نگار انور مقصود
جون
بھارتی فلم ساز کی دیوالی اور غزہ سے متعلق متنازع پوسٹ، سوشل میڈیا صارفین سخت برہم
?️ 21 اکتوبر 2025 سچ خبریں: بھارتی فلم ساز رام گوپال ورما نے دیوالی کے
اکتوبر
وزیراعظم نےسپریم کورٹ میں پیش ہونے کا فیصلہ کر لیا
?️ 10 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کے احترام
نومبر
نیتن یاہو کا مفاہمت کے موضوع پر واشنگٹن کا سفر کرنے کا فیصلہ
?️ 28 جون 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ایک ذرائع ابلاغ نے وزیر اعظم کے
جون
14 بچوں کی بازیابی کے حکم کے ساتھ 13 اپریل کو پیش رفت رپورٹ طلب
?️ 8 مارچ 2021پنجاب {سچ خبریں} سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ بچوں کی عدم بازیابی پر
مارچ
پاکستان نے ہیلی کاپٹر حادثے کی تحقیقات کیلئے ایران کو تعاون فراہم کرنے کی پیشکش کردی
?️ 24 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا
مئی