چین و امریکہ کی تجارتی جنگ میں نیا محاذ کھل گیا

چین و امریکہ کی تجارتی جنگ میں نیا محاذ کھل گیا

?️

چین و امریکہ کی تجارتی جنگ میں نیا محاذ کھل گیا
چین کی جانب سے امریکا کو نایاب معدنی عناصر (Rare Earth Minerals) کی برآمدات روکنے کے فیصلے کے بعد، دونوں طاقتور ممالک کے درمیان اقتصادی کشیدگی ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ عناصر امریکا کی ہائی ٹیک صنعتوں  بشمول خلائی جہاز، آبدوزیں اور دفاعی سازوسامان  کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں، اور چونکہ ان کی کان کنی اور پروسیسنگ زیادہ تر چین میں ہوتی ہے، بیجنگ اب ایک مضبوط اقتصادی ہتھیار اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔
امریکا نے چین کے اس اقدام کے جواب میں ۵۰۰ فیصد تک کے نئے تجارتی محصولات (تعرفے) عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ واشنگٹن کے اس موقف کے بعد عالمی منڈیوں میں بےچینی بڑھ گئی ہے۔
اسی دوران، اطلاعات کے مطابق امریکا ممکنہ طور پر روس سے یہ معدنیات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان عناصر کی فنی پراسیسنگ چین کے کنٹرول میں ہے، لہٰذا روس کا متبادل ہونا عملی طور پر ممکن نہیں۔
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایسے وقت میں یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ نئے تعاون کے راستے کھول سکتے ہیں، جب یوکرین کے صدر ولودیمیر زلنسکی ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکا کے دورے پر ہیں۔
دوسری جانب، یوکرین کی جانب سے روسی تیل کی تنصیبات پر حملوں نے روس کی توانائی کی صنعت کو متاثر کیا ہے، جس سے ملک میں پٹرول کی کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
پیوٹن نے حالیہ بیان میں ایک زیرِ زمین سرنگ (ٹَنل) کے قیام کی تجویز بھی پیش کی ہے جو روس اور امریکی ریاست الاسکا کو جوڑے گی۔ اگرچہ ماہرین اسے ایک سیاسی علامت قرار دے رہے ہیں، لیکن بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تجویز مستقبل میں روس-امریکا تعلقات کی سمت پر اثر ڈال سکتی ہے اور بالواسطہ طور پر ایران-امریکا مذاکرات پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں تجارتی جنگ میں مزید شدت آئے گی۔امریکا  جو عالمی ٹیکنالوجی میں سبقت رکھتا ہے چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے خوفزدہ ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے تحت چین پر تجارتی محصولات اور ٹیکنالوجی پابندیاں لگائی گئی تھیں تاکہ بیجنگ کی بڑھتی ہوئی ترقی کو سست کیا جا سکے۔
چین اپنی مالی طاقت بڑھانے کے لیے سونا ذخیرہ کر رہا ہے، اور اندازوں کے مطابق اس کے سونے کے ذخائر ۴۷ ملین اونس تک پہنچ چکے ہیں۔
اس کے برعکس، امریکا نے اپنی مالی حکمتِ عملی کو ڈالر بانڈز، اسٹاک مارکیٹ اور ڈیجیٹل کرنسیوں پر مرکوز رکھا ہے، جس سے اس کے سونے کے ذخائر تاریخی سطح پر کم ہو گئے ہیں۔ٹرمپ کے تازہ تعرفاتی اقدامات کے بعد، کریپٹو کرنسی مارکیٹ میں بھی شدید گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
عالمی معیشت میں بڑھتے ہوئے تنازعات نے سونے کو دوبارہ ایک محفوظ سرمایہ بنا دیا ہے۔ایران بھی اس رجحان سے مستفید ہو سکتا ہے؛ گزشتہ سال ملک میں ۶.۵ ارب ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا گیا، جو بین الاقوامی مالیاتی بحرانوں میں معاشی استحکام کے لیے ایک مضبوط سہارا فراہم کر سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے بعد سے اب تک 642 فلسطینی شہید 

?️ 23 فروری 2026 سچ خبریں:غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے صہیونی

ایران اسرائیل جنگ میں فتح کس کی ہوئی؛رأی الیوم کی زبانی

?️ 25 جون 2025 سچ خبریں:رأی الیوم نے اپنے تازہ تجزیے میں کہا ہے کہ

ترکی کے روس کے ساتھ تعلقات روزبروز بڑھ رہے ہیں: اردوغان

?️ 20 مئی 2023سچ خبریں:CNN کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں، ترک صدر رجب طیب

اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ معاہدہ؛ کابینہ کی تبدیلی اور امریکہ کی مداخلت کی ضرورت

?️ 30 دسمبر 2025سچ خبریں:اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ معاہدہ پر بات چیت

صہیونی ماہر: ہم ایران کے ساتھ جنگ ​​بندی کی بھیک مانگنا ختم کریں گے

?️ 15 جون 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے سیکورٹی اور فوجی امور کے ماہر نے

اسرائیل کے مغربی کنارے کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے: اردن

?️ 9 فروری 2026 سچ خبریں: اردن کی وزارت خارجہ نے صیہونی حکومت کی جانب

اسرائیل نے 1967 کے بعد پہلی بار مسجد اقصیٰ میں عید الفطر کی نماز سے روک دیا

?️ 20 مارچ 2026سچ خبریں: اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ کے ارد گرد وسیع پیمانے

آئی ایم ایف مذاکرات کے دوران روپے کی قدر میں زیادہ کمی کی توقع نہیں، وزیر خزانہ

?️ 18 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے