عالمی برادری کا غزہ میں انسانی بحران پر شدید ردعمل، فوری امداد کی اپیل

بھوگ

?️

عالمی برادری کا غزہ میں انسانی بحران پر شدید ردعمل، فوری امداد کی اپیل
نہر غزہ میں جاری شدید انسانی بحران پر دنیا بھر کے ممالک اور تنظیموں نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی محاصرے کو ایک اجتماعی سزا قرار دیا اور غزہ کے عوام تک فوری انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
فرانس کے وزیر خارجہ "ژان نوئل بارو” نے غزہ کی موجودہ صورتحال کو قحط اور تباہی سے تعبیر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کا موقع پہلے سے کہیں زیادہ خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس اور سعودی عرب اقوام متحدہ میں دو ریاستی حل کو بچانے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی اجلاس کی مشترکہ میزبانی کریں گے۔
کینیڈا کی وزارت خارجہ نے بھی اسرائیلی حملوں میں عالمی ادارہ صحت اور عالمی خوراک پروگرام کے عملے و قافلوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا۔ کینیڈا نے کہا کہ خوراک اور پانی کی تلاش میں مارے جانے والے بیشتر فلسطینی بچے ہیں، جو انتہائی تشویشناک ہے۔
ادھر امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان "تمی بروس” نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے اور امریکہ قطر و مصر جیسے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر جنگ کے خاتمے اور امداد کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ہالینڈ کے وزیر خارجہ "کاسپار ولدکامپ” نے بھی غزہ میں قحط کے خطرے پر انتباہ جاری کیا اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ کیے گئے انسانی وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے امدادی سامان کے داخلے کی اجازت دے۔
غزہ میں فلسطینی حکومت کے میڈیا دفتر نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اشغالگر اسرائیلی رکاوٹوں کو ختم کر کے خوراک اور ادویات کی فراہمی کے لیے محفوظ و مستقل راستے کھولنے کے لیے کردار ادا کریں۔ دفتر نے اسرائیلی مداخلت کو انسانی امداد کی سیاست کاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ امداد کو قابض قوت کے کنٹرول سے آزاد کیا جانا چاہیے۔
اسی طرح اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی "اونروا” نے بیان میں کہا کہ اس کے پاس شہر العریش جیسے مقامات پر تین ماہ کے لیے کافی خوراک موجود ہے، لیکن اسرائیل کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے باعث یہ غزہ کے عوام تک نہیں پہنچائی جا رہی۔
اونروا نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ سرحدی راستے کھولے جائیں اور محاصرہ ختم کیا جائے تاکہ ایک ملین سے زائد بچوں سمیت غزہ کے ضرورتمندوں تک امداد پہنچائی جا سکے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے خلاف جنگ چھیڑی تھی، تاہم اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا۔ 19 جنوری 2025 کو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق ہوا، لیکن مارچ 2025 میں اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ حملے شروع کر دیے، جس سے انسانی بحران میں مزید شدت آ گئی ہے۔
عالمی ادارے اب غزہ میں خوراک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے، قحط، جبری ہجرت اور جنگی جرائم کے خلاف فوری تحقیقات اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں

مشہور خبریں۔

پیوٹن کو بائیڈن نے وارننگ کیوں دی؟

?️ 31 دسمبر 2023سچ خبریں:روس اور یوکرائن کی جنگ کے 22 ماہ سے زائد گزر

پنسلوانیا ہوائی اڈے پر سامان میں بم ہونے کے الزام میں ایک امریکی شہری گرفتار

?️ 2 مارچ 2023سچ خبریں:امریکی پولیس نے اس ملک کے ایک شہری کو پنسلوانیا کے

ہمارے پاس امریکی باتیں سننے کا وقت نہیں:روس

?️ 30 جولائی 2022سچ خبریں:روسی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمارے وزیر

پاکستان کو بھارت سے منصفانہ طرزِ عمل اختیار کی اُمید

?️ 1 اگست 2021اسلام آباد( سچ خبریں)  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس

نیتن یاہو وزارت جنگ کے بنکر کی گہرائی سے: ہم کئی محاذوں پر لڑ رہے ہیں

?️ 17 ستمبر 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیراعظم نے یمن پر حملے کے ردعمل

حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت مضبوط ہو رہی ہے:صدر مملکت

?️ 13 مارچ 2021کراچی (سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ

’اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی تباہی دیکھیں‘، حماس کی ایلون مسک کو غزہ آنے کی دعوت

?️ 30 نومبر 2023سچ خبریں: حماس کے سینئر عہدیدار نے امریکی ارب پتی بزنس مین

موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کو بہت زیادہ متاثر کیا، شہباز شریف

?️ 28 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے