?️
سچ خبریں:خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث ایشیائی ممالک توانائی کے دوسرے بڑے بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے تیل کی قیمتیں، ٹرانسپورٹ اور معیشت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی رکاوٹوں کے باعث ایشیائی ممالک اب توانائی کے دوسرے جھٹکے کا سامنا کر رہے ہیں، جس نے خطے کی معیشتوں پر گہرے اثرات ڈال دیے ہیں۔
ایسیوٹیٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ایشیائی حکومتوں نے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے تھے جن میں بجلی کی بچت، گھریلو گیس کی فراہمی کو ترجیح دینا اور تیل کے ذخائر کا استعمال شامل تھا، تاہم طویل تنازع کے باعث یہ اقدامات اب مؤثر ثابت نہیں ہو رہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے طول پکڑنے سے توانائی کی قیمتیں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور عام زندگی کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے معاشی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے اندازوں کے مطابق تقریباً 8.8 ملین افراد غربت کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں، جبکہ ایشیا پیسیفک خطے کو مجموعی طور پر تقریباً 299 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔
بروکنگز انسٹیٹیوشن کے تجزیہ کاروں کے مطابق وہ ممالک جن کے پاس محدود وسائل ہیں یا جن کی معیشت پہلے ہی کمزور ہے، سب سے پہلے اس توانائی بحران سے متاثر ہو رہے ہیں۔
توانائی ماہرین کے مطابق برینٹ آئل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے ایشیائی ممالک کے مالیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ اکثر بجٹ 70 ڈالر فی بیرل کی بنیاد پر بنائے گئے تھے۔
ملائیشیا میں توانائی کے آزاد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتیں اب اس مشکل فیصلے کا سامنا کر رہی ہیں کہ آیا سبسڈی جاری رکھیں یا قیمتیں عوام پر منتقل کریں، جس سے سماجی بے چینی بڑھ سکتی ہے۔
بھارت، جس کی آبادی 1.4 ارب سے زیادہ ہے، اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ حکومت نے گیس کی فراہمی کو گھریلو صارفین کی طرف منتقل کیا ہے جس کے نتیجے میں کھاد کی صنعت متاثر ہوئی ہے اور زرعی پیداوار پر خطرات بڑھ گئے ہیں۔
نریندر مودی نے عوام سے ایندھن کی بچت، غیر ضروری سفر سے اجتناب اور مقامی مصنوعات کے استعمال کی اپیل کی ہے، جبکہ بھارت اپنی توانائی ضروریات کے لیے خلیج فارس کے ساتھ ساتھ روس سے بھی درآمدات بڑھا رہا ہے۔
فلپائن میں چار روزہ ورک ویک اور سبسڈی پروگرام متعارف کرایا گیا ہے، تاہم مہنگی توانائی کے باعث معاشی سرگرمیوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ تھائی لینڈ میں ڈیزل کی قیمتوں کی حد ختم کر دی گئی ہے جبکہ ویتنام میں ایندھن کی کمی کے باعث پروازوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق توانائی بحران کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے اور اگرچہ جنگ ختم بھی ہو جائے تو عالمی توانائی منڈی کو معمول پر آنے میں کافی وقت لگے گا۔
ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے مطابق یہ تنازع خطے کے لیے ایک بڑا جغرافیائی و معاشی خطرہ بن چکا ہے، جس نے ترقی کی رفتار کو براہ راست متاثر کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپ بھی اسی طرح کے توانائی دباؤ کا سامنا کرے گا، تاہم وہاں اثرات ایشیا کے مقابلے میں کچھ تاخیر سے ظاہر ہوں گے۔


مشہور خبریں۔
کراچی سمیت دیگر صارفین کیلئے بجلی فی یونٹ 3 روپے 28 پیسے مہنگی
?️ 3 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی کے
اکتوبر
صہیونی میڈیا وال اسٹریٹ جرنل میں سنسر شدہ جنگی معلومات کی اشاعت کی عکاسی کرتا ہے
?️ 16 جولائی 2025سچ خبریں: مسلط کردہ 12 روزہ جنگ میں ایران کے کامیاب اور
جولائی
حزب اللہ کے خلاف سعودی عرب کا متحد موقف
?️ 22 ستمبر 2025سچ خبریں: لبنانی اخبار الجدید نے اپنے آج کے شمارے میں لکھا
ستمبر
وکی پیڈیا کو بھارت میں قانونی جنگ کا سامنا
?️ 1 نومبر 2024سچ خبریں: آن لائن مفت اور غیر تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے
نومبر
چیف جسٹس اطہرمن اللہ پولیس کو پی ٹی آئی قیادت کے خلاف کاروائی سے روک دیا
?️ 12 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے
مئی
جنوبی لبنان صیہونیوں کے ہاتھوں مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی
?️ 30 اگست 2026سچ خبریں:جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی جاری، صہیونی
اگست
ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے پس پردہ تفصیلات کا انکشاف
?️ 24 جون 2026سچ خبریں: وال اسٹریٹ جرنل کی ایک تازہ رپورٹ میں ایران اور امریکہ
جون
بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب
?️ 1 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اعلان
مارچ