?️
سچ خبریں: مصری تجزیہ نگاروں نے غزہ پر صیہونی حکومت کے زمینی حملے کے امکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی مجاہدین نے تل ابیب کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے کہ اور یہ کہ حماس کے پاس صیہونی حکومت کو حیران کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔
رائے الیوم انٹر ریجنل اخبار کی رپورٹ کے مطابق مصری ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس کے پاس صیہونی حکومت کو حیران کرنے کے لیے بہت کچھ ہے اور زمینی حملہ اسرائیلی حکومت کے لیے تفریحی سرگرمی نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں؛ صیہونی جنرل کا غزہ جنگ کے بارے میں کیا کہنا ہے؟
الاحرام سینٹر فار پولیٹیکل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز کے تجزیہ کار عبدالعلیم محمد نے کہا کہ فلسطینی مزاحمت اور صیہونی حکومت کے درمیان ابھی بڑا تصادم ابھی شروع نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زمینی پر حملہ ممکن ہے لیکن اسرائیلی اب بھی اس بارے میں تذبذب کا شکار ہیںں اس لیے کہ حماس کے انہیں اسرائیل حیران کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔
اس مصری تجزیہ نگار نے قاہرہ اجلاس کے بارے میں بھی کہا کہ یہ اجلاس جیسا بھی ہوا مثبت تھا اس لحاظ سے کہ یہ مصر اور عرب ممالک کے غزہ میں جنگ بندی کی ضرورت پر متفقہ موقف اور دو ریاستی حل نیز مذاکرات کی طرف واپسی کی بین الاقوامی پالیسی پر مبنی ہے۔
عبدالعلیم محمد نے یورپی ممالک کے موقف کے بارے میں مزید کہا کہ ان کا دار و مدار امریکہ پرہے،ان کوئی امید نہیں ہے اور ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
موجودہ صورت حال اور تیل اور گیس کے ہتھیاروں کا استعمال ممکن ہے یا نہیں، کے بارے میں انہوں نے مزید کہا کہ واضح ہے کہ یہ ہتھیار استعمال نہیں کیا جائے گا۔
الاحرام سنٹر فار پولیٹیکل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز کے اس تجزیہ کار نے نے کہا کہ اگر زمینی حملہ ہوا تو آنے والے دن حیرتوں سے بھرے ہوں گے جن کی کوئی پیشین گوئی نہیں کرسکتا۔
دوسری جانب قاہرہ یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر حسن نافع نے کہا کہ مصر کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ سیناء میں فلسطینیوں کی آباد کاری کی مخالفت کا اعلان کرے، کم از کم وہ یہ کر سکتا ہے کہ غزہ کے باشندوں کو بھوک اور پیاس یا ادویات اور صحت کی سہولیات کی کمی کی وجہ سے مرنے کے لیے نہ چھوڑے ، اسے غزہ پر مسلط محاصرہ کو توڑنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
مصر میں سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر اسماعیل صبری نے بھی تنقید کی کہ عرب ممالک حالات کو دیکھ رہے ہیں اور مغربی ممالک اور امریکہ کے موقف کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا اسرائیل غزہ پر زمینی حملہ کرے گا ؟
انہوں نے مزید کہا کہ ممالک عموماً غیر ملکی خطرات سے اپنی قومی سلامتی کا دفاع کرنے کے لیے خود کو عسکری طور پر لیس کرتے ہیں، خاص طور پر جب سفارت کاری کا نرم کردار کام نہیں کرتا۔
سیاسیات کے اس پروفیسر نے مزید کہا کہ جب فوجی آپشن کی طرف رجوع آخری آپشن ہو اور اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں تو یہ ایک واضح اور ناقابل تردید مسئلہ ہے۔


مشہور خبریں۔
کیا ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کے چلے جانے سے ملکی امور میں مشکل ہوگی؟
?️ 21 مئی 2024سچ خبریں: المیادین نیوز چینل کی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ
مئی
شاہد خاقان عباسی کا نئی سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کیلئے الیکشن کمیشن سے رجوع
?️ 8 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نئی سیاسی
اپریل
امریکہ نے اسرائیل کو غزہ پر زمینی حملے سے روکا، وجہ ؟
?️ 28 اکتوبر 2023سچ خبریں:پانچ امریکی عہدیداروں نے آج واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ امریکی
اکتوبر
ادلب پر فضائی حملے میں سے زیادہ 120 افراد ہلاک
?️ 9 ستمبر 2022سچ خبریں: جمعرات کی شام کوروس کے مرکز برائے مصالحت
ستمبر
صیہونی ایٹمی پلانٹ کے قریب دھماکہ
?️ 22 اپریل 2021سچ خبریں:مقامی ذرائع نے مقبوضہ جنوبی فلسطین میں واقع صیہونی ڈیمونا ایٹمی
اپریل
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی سیاست سے عمران خان کو فائدہ ہوا
?️ 4 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں)اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے
اپریل
اسرائیل کا ٹرمپ کی فوری جنگ بندی کی اپیل کے باوجود غزہ پر حملہ
?️ 4 اکتوبر 2025 غزہ کی پٹی گزشتہ شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیلی
اکتوبر
ترکی میں سویڈن کے سفیر کو طلب کیا گیا
?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں: ترکی کی وزارت خارجہ نے آج بدھ کو ترکی اور
اکتوبر