ایران کے بارے میں ٹرمپ کے متضاد بیانات؛جرمنی میڈیا کی رپورٹ

ٹرمپ

?️

سچ خبریں:جرمن اخبار فوکس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے بارے میں بار بار اپنے بیانات تبدیل کیے ہیں جس سے ان کی پالیسی میں الجھن واضح ہو رہی ہے۔

جرمن اخبار فوکس نے لکھا ہے کہ امریکہ کے صدر مسلسل مشرقِ وسطیٰ اور ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں اپنے مؤقف تبدیل کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:صہیونی صحافی: ہم جنگ کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں

فوکس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں ایران کے ساتھ جنگ کی مدت اور اس کے اہداف کے بارے میں کئی مرتبہ متضاد بیانات دیے ہیں۔

انہوں نے ابتدا میں کہا تھا کہ ہم نے شروع سے چار یا پانچ ہفتوں کا اندازہ لگایا تھا، لیکن ہمارے پاس اس سے کہیں زیادہ مدت تک جاری رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا: میں کسی کام کے لیے کوئی وقت کی حد مقرر نہیں کرتا، میں صرف اسے ختم کرنا چاہتا ہوں۔

امریکی صدر نے ایک اور بیان میں کہا کہ میرا خیال ہے کہ جنگ بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے دوبارہ کہا: عملی طور پر حملے کے لیے کچھ زیادہ باقی نہیں رہا، صرف یہاں وہاں چند معمولی چیزیں رہ گئی ہیں۔ جب میں چاہوں گا یہ سب ختم ہو جائے گا۔

فوکس نے لکھا کہ ٹرمپ کے مؤقف میں تبدیلی ان کی صدارت کے دوران کوئی نئی بات نہیں۔ سن 2015 میں انتخابی میدان میں آنے کے بعد سے ان کے مؤقف بارہا تیزی سے بدلے ہیں اور بعض اوقات مکمل طور پر ایک دوسرے کے برعکس رہے ہیں، چاہے وہ اسقاطِ حمل کا معاملہ ہو، اسلحہ پالیسی ہو یا مشرقِ وسطیٰ کی سیاست۔

ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے ماہرین ان تضادات کو ایک قسم کی مخلوط پیغام رسانی کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں، جس کے ذریعے مختلف گروہوں کو بیک وقت مختلف پیغامات بھیجے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ووٹرز کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جنگ تقریباً ختم ہو چکی ہے، جبکہ مخالفین کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ایران کی پسپائی کی لائنوں کو تباہ کرنے کے لیے بڑی مقدار میں ہتھیار دستیاب ہیں۔

ٹرمپ جنگ کے اہداف کے بارے میں بھی مختلف مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔ کبھی وہ اسے صرف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے تک محدود قرار دیتے ہیں اور کبھی تہران میں حکومت کی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں۔ انہوں نے 28 فروری کو ایران کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے، جن پر اس وقت بمباری کی جا رہی تھی، کہا: جب ہمارا کام ختم ہو جائے گا تو آپ کی حکومت آپ ہی کے ہاتھ میں ہوگی۔ ممکن ہے کہ نسلوں کے بعد یہ آپ کے لیے واحد موقع ہو۔

مزید پڑھیں:نیتن یاہو اور ٹرمپ کے دعووں کے درمیان اسرائیلی عوام الجھن کا شکار

فوکس نے مزید لکھا کہ بعض وزرا، اعلیٰ فوجی افسران اور تجربہ کار تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ تنازعہ کئی ہفتوں بلکہ ممکنہ طور پر کئی ماہ تک جاری رہ سکتا ہے، جبکہ ٹرمپ جلد فتح کے دعوے کر رہے ہیں۔ اسی طرح ایران کی جانب سے امریکہ کے لیے فوری خطرے جیسے بعض دعوے بھی اب تک ثابت نہیں ہو سکے۔

مشہور خبریں۔

جنیوا کانفرنس کی کامیابی عوام کی دعاؤں، اتحادی حکومت کے اخلاص کا نتیجہ ہے، وزیر اعظم

?️ 11 جنوری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنیوا

بھارت جتنا بھی ظلم کرلے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو نہیں دبا سکتا: حریت رہنما

?️ 24 اپریل 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر

حزب اللہ کا صیہونی حکومت کو نیا انتباہ

?️ 29 اگست 2022سچ خبریں:   لبنانی استقامتی تنظیم نے ایک نئی ویڈیو شائع کی ہے

صیہونی حریفوں سے عراقی اور کویتی تلوار بازوں نے ملنے سے کیا انکار

?️ 20 مئی 2023سچ خبریں:عراق کی قومی فینسنگ ٹیم نے صیہونی حکومت کی ٹیم کا

صدر مملکت نے ملک کی ترقی کو کراچی کی ترقی سے منسلک قرار دیا

?️ 11 جولائی 2021کراچی (سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملکی ترقی کو

برطانوی رکن پارلیمنٹ کا قتل دہشت گردی کا واقعہ ہے: برطانوی پولیس

?️ 16 اکتوبر 2021سچ خبریں:برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس کا کہنا ہے کہ برطانوی رکن

بحرین میں صیہونیوں کے خلاف عوامی مظاہرہ

?️ 5 فروری 2022سچ خبریں:بحرین کے دار الحکومت منامہ میں آل خلیفہ حکومت اور صیہونیوں

بھارتی وزیر اعظم کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک

?️ 12 دسمبر 2021سچ خبریں:بھارتی وزیر اعظم کے دفتر نے اتوار کی صبح اعلان کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے