?️
سچ خبریں: وفاقی ہنگامی انتظامی ایجنسی (FEMA) نے مختلف ریاستوں کو 608 ملین ڈالر کی امداد جاری کرنے کی تیاری کر لی ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کے زیرِ انتظام غیرقانونی تارکین وطن کی گنجائش بڑھانے کے لیے عارضی حراستی مراکز تعمیر کیے جا سکیں۔
FEMA نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے "Detention Facility Grant Assistance Program” کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت ریاستی حکومتوں کو عارضی حراستی مراکز کی تعمیر کے اخراجات کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ ریاستوں کے پاس اس فنڈنگ کے لیے درخواست دینے کی آخری تاریخ 8 اگست ہے۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ ریاستوں کو غیرقانونی تارکین وطن کے لیے حراستی مراکز بنانے کی ترغیب دے رہی ہے۔ یہ پروگرام وفاقی حکومت کو ریاستوں کی مالی معاونت کا ایک ذریعہ فراہم کرتا ہے۔
بیان کے مطابق، اس پروگرام کے فنڈز FEMA اور امریکی کسٹم اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) کے اشتراک سے تقسیم کیے جائیں گے۔
دریں اثنا، فلوریڈا کے ریپبلکن گورنر ران ڈی سانٹس نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ ریاست FEMA سے اپنے نئے حراستی مرکز "ایلی گیٹر الکاٹراز” کی تعمیر کے اخراجات کی واپسی کے لیے مالی امداد کی درخواست کرے گی۔
امریکی محکمہ داخلہ کے حکام نے بتایا کہ اس سہولت کی سالانہ لاگت تقریباً 450 ملین ڈالر ہوگی۔ محکمہ داخلہ کی سیکرٹری کرسٹی نوم نے کہا کہ ان کا محکمہ فلوریڈا کے اس مرکز کی مالی معاونت کے لیے FEMA کے 650 ملین ڈالر کے "شیلٹر اینڈ سروسز” پروگرام کا استعمال کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق، کانگریس نے بائیڈن انتظامیہ کے دوران محکمہ داخلہ کو پابند کیا تھا کہ وہ تارکین وطن کی رہائش کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ریاستی اور مقامی حکومتوں کے درمیان یہ فنڈز تقسیم کرے۔ غیر سرکاری تنظیمیں بھی اس امداد کے اہل تھیں۔ یہ فنڈز FEMA کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے دیے گئے الگ بجٹ سے متعلق نہیں ہیں۔
FEMA کے ایک ترجمان نے کہا کہ سیکرٹری نوم نے واضح طور پر کہا ہے کہ "ایلی گیٹر الکاٹراز” پروجیکٹ کی مالی معاونت دیگر ریاستوں اور مقامی حکومتوں کے لیے تارکین وطن کی حراست میں مدد کا ایک نمونہ ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم، FEMA نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا دیگر ریاستیں بھی حراستی مراکز کی تعمیر کے لیے فنڈز حاصل کریں گی۔
فوجی اہلکاروں کی خدمات کی حیثیت میں تبدیلی
امریکی حکومت نے تارکین وطن کے معاملات میں تعاون کرنے والے فوجی اہلکاروں کی خدمات کی حیثیت تبدیل کر دی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے تقریباً 1,700 فوجی اہلکاروں کو ریاستی گورنروں کے تحت تعینات کیا ہے تاکہ وہ امیگریشن قوانین کے نفاذ میں وفاقی حکومت کی مدد کریں۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنل نے کہا کہ پہلے سے تعینات 1,200 اہلکاروں کی خدمات کی حیثیت وفاقی (ٹائٹل 10) سے ریاستی (ٹائٹل 32) میں تبدیل کر دی گئی ہے، جبکہ مزید 500 اہلکاروں کو امیگریشن سے متعلقہ سرگرمیوں میں تعاون کے لیے بھیجا گیا ہے۔
پارنل نے ایک بیان میں کہا کہ محکمہ دفاع نے امیگریشن حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ کچھ عملی ضروریات کے تحت حراست میں موجود افراد سے براہ راست رابطے کی ضرورت ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے فوجی اہلکاروں کی خدمات کی حیثیت میں تبدیلی کی گئی۔
اس تبدیلی سے امیگریشن حکام کو حراست میں موجود افراد سے زیادہ مؤثر رابطے کا موقع ملے گا، جبکہ فنڈز وفاقی سطح پر ہی رہیں گے لیکن عملی کنٹرول ریاستوں کے پاس ہوگا۔ یہ اقدام وفاقی حکومت کو ریاستی سطح پر امیگریشن قوانین کے نفاذ میں براہ راست فوجی مدد فراہم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
عوامی ردعمل: سخت امیگریشن پالیسیوں پر اختلاف
سی بی ایس اور یوگوو کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، اکثر امریکی شہری ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں اور حراستی مراکز کے استعمال سے متفق نہیں ہیں۔
سروے میں شامل 53% شرکاء کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکنز کا امیگریشن کے معاملے پر رویہ "بہت زیادہ سخت” ہے، جبکہ 18% نے اسے "کافی سخت نہیں” اور 29% نے "مناسب” قرار دیا۔
اکثریت کا خیال تھا کہ حکومت توقعات سے زیادہ لوگوں کو ملک بدر کر رہی ہے، جبکہ امیگریشن حکام خطرناک مجرموں کی بجائے عام تارکین وطن کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ٹرمپ نے صدارتی انتخابات سے قبل وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ میں غیرقانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ڈیپورٹیشن کا عمل شروع کریں گے۔ 20 جنوری کو ان کے عہدے سنبھالنے کے بعد سے یہ پالیسی نافذ ہو چکی ہے۔ ان کے ایگزیکٹو آرڈرز کے تحت، امیگریشن اہلکاروں کو غیر مجرمانہ تارکین وطن کو گرفتار کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ دیگر وفاقی اداروں کو بھی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی مدد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ غیرقانونی امیگریشن کو روکنا بھی ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیح ہے۔
ٹرمپ نے بارہا غیرقانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ڈیپورٹیشن کا وعدہ کیا ہے، جسے وہ بائیڈن دور میں غیرقانونی امیگریشن میں اضافے کے بعد امریکہ کی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
نیتن یاہو کے خلاف مقدمات، اسرائیل میں سیاسی و معاشی طاقت کے گٹھ جوڑ کا انکشاف
?️ 17 دسمبر 2025 نیتن یاہو کے خلاف مقدمات، اسرائیل میں سیاسی و معاشی طاقت
دسمبر
سعودی عرب میں غیر ملکیوں کو پھانسی دینے کے حیران کن اعداد و شمار
?️ 10 مئی 2022سچ خبریں:انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے حالیہ برسوں میں سعودی عرب
مئی
ایک سیاستدان جیل سےنکلنے، دوسراجیل سے بچنے کیلئے الیکشن لڑ رہا ہے، بلاول بھٹو
?️ 10 دسمبر 2023کوہاٹ: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا
دسمبر
صیہونی جنرل کا مزاحمتی تحریک کے مقابلہ میں ناکامی کا اعتراف
?️ 18 اپریل 2021سچ خبریں:صہیونی حکومت کے ایک جنرل نے اعتراف کیا کہ آئرن ڈوم
اپریل
یوکرین کا تین دیہات پر دوبارہ قبضہ کرنے کا دعویٰ ،روس کی تردید
?️ 12 جون 2023سچ خبریں:یوکرینی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ روسی افواج کے خلاف جوابی
جون
عمران خان اپنی انا کی وجہ سے گرفتاری کے نزدیک پہنچ گئے، بلاول بھٹو
?️ 15 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خارجہ اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری
مارچ
کورونا کیسز میں کمی کے بعد اموات میں بھی کمی
?️ 2 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)ملک بھر میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر کی شدت
اکتوبر
شہباز گل کیس کی سماعت
?️ 16 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کے
اگست