?️
امریکا کی سات ریاستیں کرانہ باختری کا نام سرکاری دستاویزات سے نکالنے کی تیاری میں ہیں
ایرنا خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی سات ریاستیں ایک ایسے قانون کو منظور کرنے کے قریب ہیں جس کے تحت سرکاری دستاویزات میں کرانہ باختری (West Bank) کے بجائے بائبلی نام یہودا و سامرہ (Judea and Samaria) استعمال کرنے کو لازمی قرار دیا جائے گا۔ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے برخلاف اسرائیلی قبضے کو جائز قرار دینے کی ایک نئی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس قانون سازی کی پہل امریکی ریاست آرکنساس نے کی تھی، جس نے ڈیڑھ ماہ قبل "یہودا و سامرہ” کی اصطلاح کو سرکاری طور پر اپنا لیا۔ اب دیگر سات ریاستیں یوتا، ٹینیسی، الاباما، لوئزیانا، آئیڈاہو، آئیووا اور اوکلاہم بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔
یہ قانون اس ملاقات کا نتیجہ ہے جو ان ریاستوں کے قانون سازوں نے یوسی داگان، جو کرانہ باختری کے غیرقانونی اسرائیلی بستیاں کنٹرول کرنے والی کونسل کے سربراہ ہیں، کے ساتھ کی۔ اس ملاقات کا مقصد امریکہ میں اسرائیل کے غاصبانہ دعووں کے لیے حمایت حاصل کرنا تھا، خاص طور پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی حلقوں میں۔
آرکنساس کی گورنر سارا ہاکبی جو سابق گورنر اور اسرائیل میں موجود امریکی سفیر مائیک ہاکبی کی بیٹی ہیں — نے اس قانون پر دستخط کیے۔ ان کے بقول، بائبل کے مطابق یہ علاقہ یہودیوں کا ہے، اس لیے اسے اسرائیل کا جائز حصہ تسلیم کیا جانا چاہیے۔
اس اقدام کو یہودا و سامرہ لابی کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس کی قیادت امریکی کانگریس کی رکن "کلاؤڈیا تینی” اور یوسی داگان کر رہے ہیں۔ اس لابی کی کوششوں سے اب تک 20 سے زائد کانگریس ممبران اس قانون کی حمایت کر چکے ہیں، اور کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین "برایان مست” نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ صرف یہودا و سامرہ کی اصطلاح استعمال کریں گے۔
یہ متنازعہ فیصلہ حالیہ دنوں میں اُس وقت سامنے آیا جب داگان نے امریکی ریاستی قانون سازوں کی سالانہ کانفرنس میں تقریر کی، جس میں 50 نمائندوں نے شرکت کی۔ سات ریاستوں نے اسی اجلاس کے بعد اس مہم میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔
واضح رہے کہ مائیک ہاکبی ایک شدت پسند عیسائی انجیلی ہیں اور اسرائیلی پالیسیوں کے بھرپور حمایتی سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف فلسطینی شناخت کو چیلنج کیا بلکہ غزہ اور کرانہ باختری پر اسرائیلی قبضے کو بھی درست قرار دیا ہے۔ ہاکبی نے 2015 میں یہاں تک کہا تھا کہ اسرائیل کا یہودا و سامرہ پر دعویٰ امریکہ کے نیویارک شہر پر دعویٰ سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔
ہاکبی نے امریکی سفارتخانے میں داگان کا خصوصی خیرمقدم کرتے ہوئے ایک مذہبی یہودی علامت مزوزا کو سفارتخانے کے دروازے پر نصب کیا، جو کرانہ باختری کے ایک مقدس مقام کوه عیبال سے لایا گیا تھا۔ اس علامتی عمل کو اسرائیل کی خود ساختہ حاکمیت کی توثیق سمجھا جا رہا ہے۔
اس پوری پیش رفت سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ کس طرح صہیونی لابی امریکی سیاست پر اثر انداز ہو رہی ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسیوں میں۔ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور اسرائیلی قبضے کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہے، جو عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہے۔


مشہور خبریں۔
پاکستان و سعودی عرب کے رہنماؤں کی ملاقات؛ مسئلہ فلسطین پر تبادلۂ خیال
?️ 8 جون 2025 سچ خبریں:وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولیعہد محمد بن سلمان
جون
غزہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی
?️ 29 جنوری 2026غزہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی غزہ کی پٹی میں
جنوری
جماعت اسلامی کا پیپلزپارٹی پر بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں دھاندلی کا الزام
?️ 5 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) جماعت اسلامی نے حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی پر 15
مارچ
اسرائیل کی اصلی مشکل کیا ہے؟ صیہونی حکام کی زبانی
?️ 7 ستمبر 2024سچ خبریں: صہیونی حلقوں اور ماہرین نے اسرائیلی حکومت، خاص طور پر
ستمبر
اسرائیلی جارحیت علاقائی جنگ کا باعث
?️ 13 جولائی 2024سچ خبریں: جہاں صیہونی حکومت مسلسل لبنان کو اس ملک پر ہر قسم
جولائی
صیہونی قیدیوں کے سلسلہ میں قابض حکومت کی بے حسی
?️ 4 اگست 2022سچ خبریں:حماس کے ہاتھوں 4 اسرائیلی قیدیوں کی صورتحال کے بارے میں
اگست
اسرائیل کے ساتھ بات چیت غزہ میں جنگ روکنے سے پہلے نہیں ہوگی: سعودی
?️ 20 فروری 2024سچ خبریں:سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ایک تقریر
فروری
قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح ساڑھے 10 بجے ہو گا۔
?️ 8 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں) قومی اسمبلی کے اجلاس کا 6 نکاتی ایجنڈا جاری کر
اپریل