کیا ترکیہ یوکرین اور روس کی جنگ میں غیر جانبدار ہے؟

ترکیہ

?️

سچ خبریں: آنکارا سے شائع ہونے والے متعدد اخبارات نے ترکی کے انٹلیجنس سربراہ ابراہیم کالن اور وزیر خارجہ ہکان فیدان کی تصاویر شائع کرتے ہوئے انہیں روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کے کلیدی معماروں کے طور پر پیش کیا۔
ترکی کی ثالثی کے ابتدائی نتائج
حکمران جماعت اے کے پی کے قریب اخبار "آکشام” نے لکھا ہے کہ بیمار اور 25 سال سے کم عمر قیدیوں کی رہائی اور 6 ہزار فوجیوں کی لاشوں کا باہمی تبادلہ، ترکی کی ثالثی کا ابتدائی نتیجہ ہے۔ جبکہ اخبار "قرار” کا کہنا ہے کہ روس کا استنبول میں مذاکرات پر رضامندی کی اصل وجہ یوکرین کی حالیہ فوجی کارروائیاں ہیں، نہ کہ ترکی کا کردار۔
اردوغان کا بڑا ہدف: امریکہ، روس اور یوکرین کے رہنماؤں کو استنبول لانا
صباح ڈیلی، حریت اور ملت جیسے اخبارات نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کا سب سے بڑا ہدف امریکہ، روس اور یوکرین کے صدر کو استنبول میں اکٹھا کرنا ہے۔ اردوغان کے بیانات میں یوکرین جنگ سے زیادہ ترکی کے کردار پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے بار بار کہا ہے کہ وہ استنبول کو دنیا کا اہم ترین سفارتی مرکز بنانا چاہتے ہیں۔
امریکی اور یورپی میڈیا کا ردعمل
امریکی اور یورپی میڈیا نے بھی استنبول مذاکرات کو کور کیا ہے۔ روئٹرز نے ترکی کے کردار کو اس کے اسٹریٹجک مفادات اور جغرافیائی محل وقوع سے جوڑا ہے۔ نیویورک ٹائمز نے لکھا ہے کہ ترکی نے یوکرین کو Bayraktar TB2 ڈرون فروخت کر کے فوجی مدد فراہم کی، لیکن ساتھ ہی روس کے ساتھ توانائی اور تجارت کے شعبوں میں مضبوط تعلقات بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
کریمہ پر ترکی کا موقف
آنکارا سے شائع ہونے والے اخبار "ینی برلیک” کے مطابق، ترکی کریمہ کے روس میں انضمام کو تسلیم نہیں کرتا اور یوکرین کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم، ان تضادات کے باوجود، ترکی نے روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کا فعال کردار ادا کیا ہے، جس میں حالیہ استنبول مذاکرات بھی شامل ہیں، جہاں قیدیوں کے تبادلے جیسے انسان دوست معاہدے ہوئے۔
کیا ترکی واقعی غیر جانبدار ہے؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ترکی ایک غیر جانبدار ثالث نہیں ہے، کیونکہ اس نے یوکرین کو فوجی مدد فراہم کی ہے اور NATO کا رکن بھی ہے۔ یہ جانب داری ترکی کی ثالثی کی اثر پذیری کو محدود کر سکتی ہے۔
استنبول مذاکرات کے بعد بڑے اختلافات
روس اور یوکرین کے درمیان دوسرے دور کے مذاکرات کے بعد بھی مستقل جنگ بندی کے شرائط پر اختلافات برقرار ہیں۔ روس کی طرف سے ڈونیٹسک، لوہانسک، خیرسون اور زاپوریژیا پر کنٹرول کا مطالبہ شامل ہے، جبکہ یوکرین کی طرف سے امریکی مداخلت اور جنگ بندی کی تجاویز مسترد کی گئی ہیں۔
اردوغان کی میزبانی کی خواہش
اردوغان نے استنبول مذاکرات کے نتائج کو "شاندار” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پوتین، زیلنسکی اور ٹرمپ کو استنبول بلانے کی کوشش کریں گے۔ تاہم، زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملاقات ہو سکتی ہے، لیکن جنگ بندی کا امکان نہیں، کیونکہ روس جنگ ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ترکی امریکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں
آنکارا کے اخبارات کے مطابق، ترکی امریکہ کے نئے سفیر جیفری فلیک کے بیانات سے خوش ہے، لیکن اردوغان کی اصل خواہش ٹرمپ اور پوتین کو استنبول بلانا ہے، تاکہ F-16 اور F-35 جیسی معطل فوجی خریداری کے معاملات حل ہو سکیں۔
ترکی کے سیاسی تجزیہ کار اسماعیل کاہن کے مطابق، یوکرین نے ترکی کے بنائے ہوئے ڈرونز سے روسی فوجی اڈوں پر حملہ کیا، جو ایک واضح سیاسی پیغام تھا۔ اب ترکی کو یہ سوچنا ہوگا کہ آیا پوتین اس مدد کو فراموش کریں گے یا اس کا کوئی سیاسی بدلہ لیں گے۔

مشہور خبریں۔

غزہ کے خلاف جنگ کے آغاز سے اب تک 500 طبی عملے کی شہادت

?️ 13 مئی 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے

ٹرمپ کی ٹیم 6 ماہ کی ناکامی کے بعد غزہ کے مسئلے پر دوبارہ غور کر رہی ہے

?️ 27 جولائی 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اسرائیلی وزیر اعظم

تل ابیب نے ایک دن کے لیے بھی قرارداد 1701 پر عمل نہیں کیا: لبنانی نمائندہ

?️ 18 دسمبر 2025سچ خبریں: لبنان کی پارلیمنٹ کے نمائندے علی خریس نے زور دے کر

اقوام متحدہ میں صیہونی نمائندے کی یمنیوں کو دھمکی

?️ 31 دسمبر 2024سچ خبریں:اقوام متحدہ میں صیہونی حکومت کے نمائندے نے سلامتی کونسل کے

تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر: ٹرمپ جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا؛ اسرائیل نے امریکہ کو تنازع میں ڈال دیا

?️ 20 اپریل 2026  سچ خبریں: تل ابیب یونیورسٹی میں امریکن اسٹڈیز پروگرام کے سربراہ

امریکی صدارتی انتخابات میں اہم مسائل

?️ 8 فروری 2024سچ خبریں:2024 کے امریکی صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کے 4 سالہ

بلوچستان کے علاقے وڈھ میں دستی بم پھٹنے سے بچہ جاں بحق

?️ 17 اکتوبر 2023کوئٹہ: (سچ خبریں) بلوچستان کے علا قے وڈھ میں دستی بم پھٹنے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے