?️
سچ خبریں:اقتصادی ماہر سلیم الجعدبی کے مطابق یمن کی کارروائیوں اور سعودی عرب سے متعلق بحری جہازوں پر پابندیوں کے باعث سعودی تیل کی برآمدات 7 ملین بیرل سے کم ہوکر 3 ملین بیرل یومیہ رہ گئی ہیں، جبکہ آرامکو کے حصص کی قدر میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے۔
ایک اقتصادی ماہر نے یمنی افواج کی کارروائیوں سے سعودی عرب کی معیشت کو پہنچنے والے شدید نقصان کی جانب اشارہ کیا ہے۔
المسیرہ کے مطابق، اقتصادی امور کے ماہر سلیم الجعدبی نے یمن کی جانب سے سعودی عرب سے متعلق بحری جہازوں پر عائد پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی تیل کی برآمدات 7 ملین بیرل یومیہ سے کم ہوکر 3 ملین بیرل یومیہ رہ گئی ہیں، جو گزشتہ 9 برس کے دوران کم ترین سطح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر تیل کی قیمت 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہے تو سعودی عرب کو روزانہ 400 ملین ڈالر کا نقصان ہوگا، جو سالانہ 144 ارب ڈالر بنتا ہے۔
ان کے بقول، اس کے مقابلے میں یمن کی ناکہ بندی ختم کرنا سعودی عرب کے لیے کہیں کم لاگت کا اقدام ہوتا۔ ریاض نے حال ہی میں 8 ارب ڈالر کے قرض کے لیے درخواست بھی دی ہے۔
الجعدبی نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی ذمہ داریوں کے ساتھ تیزی سے قرض لینے کا رجحان سعودی معیشت میں بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے مطابق، آرامکو نے ان قرضوں کی ضمانت کے لیے مداخلت کی ہے اور ان قرضوں کی مجموعی مالیت 35 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ینبع کے قریب امزان نامی بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سعودی عرب کو اپنے تیل کے کارگو کو سمندر میں ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں منتقل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ان کے بقول، یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ریاض کو اقتصادی مشکلات اور تیل کی برآمدات کے حوالے سے کس قدر سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
دوسری جانب سعودی برآمدی ادارے نے اعلان کیا ہے کہ ہر نشانہ بننے والے بحری جہاز کے لیے اسے 186 ملین ڈالر کے بیمہ اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
بحری کمپنی میرسک نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے باب المندب سے لے کر سعودی عرب کے قریب سمندری حدود تک کسی قسم کی لوڈنگ آپریشن انجام نہیں دے گی۔
ان حالات کے باعث گزشتہ جون سے ینبع بندرگاہ کے ذریعے سعودی عرب کی تیل کی برآمدات میں 48 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
الجعدبی نے مزید کہا کہ سعودی عرب کو اپنی تیل کی برآمدات میں درپیش بعض مشکلات کی تلافی کے لیے خریداروں کو بھاری رعایتیں دینے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
آرامکو کے حصص کی قیمت بھی 27 ریال سے کم ہوکر 25 ریال رہ گئی ہے، جس سے مجموعی طور پر اس اقتصادی نقصان کا حجم 74 ارب ڈالر سے تجاوز کرجاتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی بندرگاہوں کے ذریعے درآمد کیے جانے والے سامان کی مقدار جون میں 14 ملین ٹن سے کم ہوکر 8 ملین ٹن رہ گئی، جو 40 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔


مشہور خبریں۔
غزہ نے تمام اسرائیلی کابینہ کو اقتدار کا سبق سکھایا: معاریو
?️ 6 مئی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے تجزیہ کار ایلون بن ڈیوڈ نے ایک تجزیے
مئی
افغانستان کی معاشی تباہی کے اثرات پڑوسی ممالک پر پڑیں گے: قریشی
?️ 17 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے
دسمبر
ایران نے کیا میڈیا کے شام میں مداخلت کے الزام کو مسترد
?️ 27 دسمبر 2024سچ خبریں: شام کے مختلف شہروں میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان
دسمبر
پہلی بار کوئی خاتون شمالی کوریا کی وزیر خارجہ بنی
?️ 11 جون 2022سچ خبریں: شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے آج ہفتہ، 11 جون
جون
کراچی: تاجر کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر سی ٹی ڈی کے 3 اہلکار گرفتار
?️ 4 ستمبر 2023سندھ:(سچ خبریں) سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے
ستمبر
کیا فرانس جنگ کی تیاری کر رہا ہے؟
?️ 24 نومبر 2025سچ خبریں: فرانسیسی مسلح افواج کے سربراہ جنرل فیبین مینڈن نے گزشتہ منگل
نومبر
غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکہ کی نئی تجویز
?️ 16 مارچ 2025 سچ خبریں:امریکہ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے نئی تجویز
مارچ
شہید نصراللہ جیسے لوگ کبھی نہیں مرتے؛ نلسن منڈیلا کے نواسے کا بیان
?️ 25 مارچ 2025 سچ خبریں:جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما نلسن منڈیلا کے نواسے مانڈیلا
مارچ