اردن نے مسجد اقصیٰ پر صہیونی آبادکاروں کے بار بار دھاوؤں کی سخت مذمت کی

اردن نے مسجد اقصیٰ پر صہیونی آبادکاروں کے بار بار دھاوؤں کی سخت مذمت کی

?️

اردن  نے مسجد اقصیٰ پر صہیونی آبادکاروں کے بار بار دھاوؤں کی سخت مذمت کی
اردن کی وزارتِ خارجہ نے مسجد اقصیٰ پر صہیونی آبادکاروں کے بار بار دھاوؤں کی سخت مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اردنی ویب سائٹ عمون کے مطابق وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ واقعے میں اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) کے ایک رکن کی مسجد اقصیٰ میں داخلہ سمیت بارہا غیر قانونی دراندازی، حرم قدسی شریف کی تاریخی اور قانونی حیثیت کی صریح خلاف ورزی اور اس کی بے حرمتی ہے۔
وزارت کے ترجمان فؤاد المجالی نے کہا کہ وزراء اور کنیسٹ اراکین کا مسجد اقصیٰ میں داخلہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول اقدام ہے، جس کا مقصد مسجد اقصیٰ اور حرم شریف میں نئی زمینی حقیقت مسلط کرنا اور اسے زمانی و مکانی طور پر تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔
اردن نے خبردار کیا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی اور مسیحی مقدسات کے خلاف جاری اقدامات کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو، بطور قابض طاقت، مقدسات کے خلاف مسلسل خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے مؤثر بین الاقوامی مؤقف اختیار کرے۔
وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد الاقصیٰ مکمل طور پر مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اس کے انتظام و انصرام کی واحد قانونی اتھارٹی اردن کے زیر انتظام اوقافِ قدس ہے، جو حرم قدسی شریف میں داخلے اور نظم و نسق کی ذمہ دار ہے۔
دوسری جانب مسجد اقصیٰ کے خطیب عکرمه صبری نے کہا کہ بیت المقدس کے باشندے قابض قوتوں کی سازشوں کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور انہیں اپنے شہر سے بے دخل کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انتہا پسند یہودی گروہوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کو نقصان پہنچانے اور اسے تقسیم کرنے کی کوششیں تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی باشندے مسجد اقصیٰ کے دفاع کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں، مگر عالمی برادری ان کی آواز نہیں سن رہی۔ ان کے مطابق گھروں کی مسماری، جبری بے دخلی اور آبادکاروں کی جارحانہ کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔
اردن نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں مقدسات کی موجودہ تاریخی و قانونی حیثیت کا احترام کیا جانا چاہیے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

مشہور خبریں۔

قابض فوج نےغزہ میں اپنے یرغمالیوں کو نشانہ بنایا

?️ 17 دسمبر 2023سچ خبریں:عبرانی میڈیا نے اپنی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ

طلباء تحریک کس چیز کی علامت ہے؟ لبنانی یونیورسٹی پروفیسر

?️ 8 مئی 2024سچ خبریں: لبنانی یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کی ایک پروفیسر نے

فیس بک کا نام تبدیل کرنے سےکینڈین کمپنی کو بے حد فائدہ

?️ 30 اکتوبر 2021نیویارک(سچ خبریں)فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کی جانب سے فیس

ریاض نیتن یاہو کی علاقائی عدم مستحکم پالیسیوں پر خشمگین

?️ 21 نومبر 2025سچ خبریں: سعودی عرب نے اسرائیلی ریاست کی خطے میں عدم استحکام پیدا

لبنان میں مزاحمت کے طاقتور رکن نے صیہونیت کو کس چیزپر مجبور کیا؟

?️ 19 جون 2024سچ خبریں: الاقصیٰ طوفانی آپریشن کے آغاز سے اب تک تقریباً 9 ماہ

وزیراعظم شہباز شریف کا نیشنل اکنامک کونسل تشکیل دینے کا فیصلہ

?️ 12 اپریل 2022اسلام آباد (سچ خبریں)وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کو درپیش سنگین صورتحال

سویڈن میں قرآن پاک کی توہین پر عرب ممالک کا ردعمل

?️ 23 جنوری 2023سچ خبریں:عرب ممالک نے سویڈن میں ترک سفارت خانے کے سامنے انتہائی

سعودی ولی عہد اور عراقی وزیر اعظم کے درمیان گفتگو

?️ 12 دسمبر 2021سچ خبریں:سعودی ولی عہد نے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران عراقی وزیراعظم کو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے