یمن کے مغربی ساحل پر انصار اللہ کی پیش قدمی کیوں اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے؟ باب المندب پر بڑھتی گرفت

یمن

?️

سچ خبریں:یمن کے مغربی ساحل پر انصار اللہ کی تیز پیش قدمی اور باب المندب کے قریب اہم علاقوں و جزائر پر کنٹرول نے بحیرہ احمر کی سکیورٹی، عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے نئی اسٹریٹجک صورتحال پیدا کردی ہے۔

یمن کے مغربی ساحل پر انصار اللہ کی حالیہ پیش قدمی اور باب المندب کے قریب پہنچنے سے جنگ کے زمینی و علاقائی توازن میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اس پیش رفت نے انصار اللہ کو محض یمن کی داخلی جنگ کے ایک فریق کے بجائے بحری جہازرانی اور خطے کی توانائی کی سکیورٹی پر اثرانداز ہونے والی ایک اہم قوت کے طور پر ابھار دیا ہے۔

مغربی یمن میں گزشتہ چند روز کے دوران ہونے والی پیش رفت نے ملک کے میدان جنگ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے۔ بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ انصار اللہ کی تیز پیش قدمی اور باب المندب کے قریب واقع علاقوں و جزائر تک پہنچنا صرف داخلی جنگ میں محاذوں کی تبدیلی نہیں ہے بلکہ اس سے انصار اللہ کی جغرافیائی پوزیشن تبدیل ہوگئی ہے اور اسے دنیا کے حساس ترین بحری راستوں میں سے ایک پر نئے اسٹریٹجک دباؤ کے ذرائع حاصل ہوگئے ہیں۔

باب المندب کے دہانے تک انصار اللہ کی پیش قدمی

حالیہ پیش قدمی کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوتی ہے جب انصار اللہ کی نقل و حرکت کے راستے پر نظر ڈالی جائے۔ انصار اللہ نے گزشتہ دنوں المخا کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ذباب اور حنیش جزائر کی جانب اپنی کارروائیوں کا دائرہ بڑھایا اور بالآخر باب المندب کے داخلی راستے پر واقع جزیرہ میون مرکز توجہ بن گیا۔

روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ یمنی حکومت کی فورسز میون اور ذباب کے علاقے سے پیچھے ہٹ گئی ہیں اور انصار اللہ نے میون کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ میون بحیرہ احمر کے داخلی راستے پر واقع ہے اور اس جزیرے پر قابض قوت دنیا کے اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک کے اطراف ہونے والی سرگرمیوں پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

تاہم میون کی اہمیت کو صرف اسی جزیرے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ حالیہ پیش قدمی کی اصل اہمیت مغربی یمن کے ساحل پر واقع متعدد باہم مربوط مقامات میں ہے۔ المخا، ذباب، حنیش اور میون میں سے ہر ایک کی اپنی الگ اہمیت ہے، لیکن ان سب کا ایک ہی قوت کے زیر کنٹرول آنا ایک نئی صورتحال پیدا کرتا ہے۔ انصار اللہ اب ایسی پوزیشن میں ہے جہاں وہ یمن کے اندرونی علاقوں سے لے کر باب المندب کے دہانے تک ساحلی صورتحال پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

سادہ الفاظ میں، انصار اللہ ایک ایسی قوت سے تبدیل ہوکر جس کا بنیادی مرکز یمن کے اندرونی علاقے تھے، ایسی طاقت بن رہی ہے جس کی جغرافیائی پوزیشن براہ راست بحیرہ احمر کی سکیورٹی اور بین الاقوامی بحری راستوں سے جڑ گئی ہے۔

باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے۔ یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور بحیرہ احمر کے ذریعے ایشیا سے یورپ اور نہر سویز تک بحری راستہ فراہم کرتی ہے۔ دنیا کی تقریباً 10 فیصد تیل کی پیداوار اس خطے سے گزرتی ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ایشیا اور یورپ کے درمیان نقل و حمل کے اخراجات اور وقت میں اضافہ کرسکتی ہے۔

گزشتہ برسوں میں بھی باب المندب کی اہمیت اس وقت نمایاں ہوئی جب اس علاقے میں عدم تحفظ کے باعث متعدد بڑی بحری کمپنیوں نے اپنے جہازوں کے راستے تبدیل کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے بجائے افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کیا۔

اسی لیے مغربی یمن کے ساحل پر ہونے والی موجودہ پیش رفت کو انصار اللہ کی محض زمینی فتح قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کامیابی نے اس قوت کی ’’جغرافیائے طاقت‘‘ کو تبدیل کردیا ہے۔ انصار اللہ جتنا باب المندب کے قریب پہنچے گی اور ساحل کے ساتھ زیادہ علاقوں پر اس کا کنٹرول ہوگا، اتنی ہی اس کی بحری سکیورٹی اور علاقائی ممالک کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بڑھے گی۔ موجودہ صورتحال میں، جب مشرق وسطیٰ کا وسیع بحران بحری آمدورفت کو پہلے ہی متاثر کررہا ہے، اس پیش رفت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

مغربی یمن کے ساحل پر طاقت کے توازن میں تبدیلی؛ امریکہ اور سعودی عرب کا ردعمل

سعودی عرب کا ردعمل بھی ظاہر کرتا ہے کہ ریاض اس پیش رفت کو محض یمن کا داخلی معاملہ نہیں سمجھتا۔ ایکسیوس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعرات کو ڈونلڈ ٹرمپ سے 2 مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور امریکی صدر سے انصار اللہ کے خلاف براہ راست کارروائی کرنے کی درخواست کی۔

ٹرمپ نے امریکی فوج کی براہ راست مداخلت کی مخالفت کی، تاہم واشنگٹن نے دوسری جانب سعودی عرب کے لیے اپنی انٹیلی جنس معاونت میں اضافہ کردیا ہے۔ ایکسیوس کے مطابق امریکی حکومت انصار اللہ کی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کی حمایت بڑھا رہی ہے اور واشنگٹن کی ترجیح بحیرہ احمر کے بحری راستے تک رسائی برقرار رکھنا ہے۔

واشنگٹن کے اس مؤقف سے ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے۔ امریکہ ایک طرف یہ نہیں چاہتا کہ مغربی یمن کے ساحل کی صورتحال بین الاقوامی بحری راستوں کے لیے سنگین خطرہ بن جائے، لیکن دوسری جانب وہ خود براہ راست ایک نئی جنگ میں داخل ہونے سے بھی گریز کررہا ہے۔ اسی لیے موجودہ امریکی پالیسی سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور عملی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ براہ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز پر مبنی ہے۔

سی این این کی ایک خصوصی رپورٹ میں سعودی عرب میں 100 سے زائد امریکی فوجی مشیروں کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اہلکار انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی کے شعبوں میں سعودی عرب کی مدد کررہے ہیں۔ سی این این کی ایک ٹی وی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ سعودی حملوں میں مدد کے لیے مخصوص انٹیلی جنس معلومات فراہم کررہا ہے اور میدان جنگ کی لمحہ بہ لمحہ صورتحال کی نگرانی و تجزیے میں بھی ریاض کی معاونت کررہا ہے۔

اس تناظر میں ریاض کی جانب سے واشنگٹن سے مدد طلب کرنا یمن کی بدلتی ہوئی صورتحال کی ایک اہم علامت ہے۔

سعودی عرب برسوں سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی جنوبی سرحدوں اور یمن میں اپنے مفادات کی سکیورٹی خود سنبھال سکتا ہے۔ لیکن اب جبکہ انصار اللہ مغربی ساحل کے حساس علاقوں تک پہنچ چکی ہے اور باب المندب سے اس کا فاصلہ کم ہوگیا ہے، ریاض کو ایک بار پھر امریکہ کی براہ راست حمایت کی ضرورت پڑ رہی ہے۔

باب المندب؛ تجارت اور توانائی کا اہم راستہ

اس صورتحال کی اہمیت سعودی عرب کے لیے صرف جنوبی سرحدوں کی سکیورٹی تک محدود نہیں ہے۔ بحیرہ احمر سعودی معیشت اور اس کی تیل کی برآمدات کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز بھی شدید بحران سے دوچار ہے، باب المندب میں عدم تحفظ میں کسی بھی اضافے سے سعودی عرب کے برآمدی راستوں اور توانائی کی ترسیل کے نظام پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

اسی وجہ سے یمن کی صورتحال ایک علاقائی سکیورٹی کے مسئلے سے بڑھ کر براہ راست معاشی اثرات رکھنے والا معاملہ بن گئی ہے۔

عالمی توانائی کی منڈی نے بھی ان پیش رفتوں پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں خطے کی متعدد پیش رفتوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ جمعہ کو برینٹ خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہی جبکہ مارکیٹ میں تیل کی فراہمی اور توانائی کی ترسیل کے راستوں میں ممکنہ رکاوٹوں کے حوالے سے تشویش جاری رہی۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے بھی مشرق وسطیٰ کے بحرانوں کے باعث 2026 میں تیل کی سپلائی میں کمی کے خدشات میں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔

میدان جنگ کی فتح سے اسٹریٹجک طاقت تک

موجودہ صورتحال میں انصار اللہ کی پیش قدمی کی اہمیت کا اندازہ صرف ان شہروں اور جزائر کی تعداد سے نہیں لگایا جاسکتا جن پر اس نے کنٹرول حاصل کیا ہے۔ کوئی بھی فوجی قوت اس وقت اسٹریٹجک طاقت میں تبدیل ہوتی ہے جب وہ اپنی جغرافیائی پوزیشن کو سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی دباؤ کے ایک مؤثر ذریعے میں تبدیل کرنے کی صلاحیت حاصل کرلے۔

انصار اللہ اب ایسی پوزیشن میں ہے جہاں مغربی یمن کے ساحل پر اس کی موجودگی سعودی عرب، امریکہ، بحری کمپنیوں اور حتیٰ کہ عالمی توانائی کی منڈی کے فیصلوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔

یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ نسبتاً طویل عرصے تک جاری رہنے والی کشیدگی میں کمی کے بعد یمن کی جنگ ایک مختلف مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ 2022 کے جنگ بندی معاہدے نے بڑے پیمانے پر لڑائی کی شدت کم کرنے میں مدد دی تھی، لیکن حالیہ ہفتوں کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ اس دور میں قائم ہونے والا توازن اب پہلے جیسا مستحکم نہیں رہا۔

انصار اللہ نے نہ صرف نئے علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے بلکہ اس بار اس جغرافیائی خطے میں پیش قدمی کی ہے جس کی اہمیت بیرونی طاقتوں کے لیے یمن کے کسی عام علاقے سے کہیں زیادہ ہے۔

اسی لیے حالیہ فتوحات کو یمن کی جنگ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان کی اصل اہمیت صرف کسی شہر یا جزیرے پر قبضے میں نہیں بلکہ انصار اللہ کی تبدیل شدہ جغرافیائی اور اسٹریٹجک پوزیشن میں ہے۔ یہ قوت اب عالمی تجارت کی ایک اہم گزرگاہ کے قریب موجود ہے اور یہی جغرافیائی حقیقت اس کے فیصلوں کو یمن کے داخلی فریقوں سے کہیں آگے عالمی سطح پر اہم بنا دیتی ہے۔

المخا سے ذباب اور حنیش سے میون تک انصار اللہ نے چند ہی دنوں میں مغربی یمن کے ساحل پر اپنی پوزیشن نمایاں طور پر مضبوط کرلی ہے۔ اس پیش قدمی کے نتیجے میں بحیرہ احمر میں ایک نئی صورتحال پیدا ہوئی ہے؛ ایسی صورتحال جس نے سعودی عرب کو امریکہ سے مدد طلب کرنے، واشنگٹن کو ریاض کے لیے انٹیلی جنس معاونت بڑھانے اور توانائی و بحری تجارت کی منڈیوں کو یمن کی صورتحال کے ممکنہ اثرات کے بارے میں زیادہ حساس ہونے پر مجبور کردیا ہے۔

اسی لیے مغربی یمن کے ساحل پر ہونے والی موجودہ پیش رفت کو صرف یمن کی داخلی جنگ کا تسلسل نہیں سمجھا جاسکتا؛ یہ تبدیلیاں خطے میں بحری سکیورٹی، عالمی تجارت اور توانائی کے وسیع تر توازن کا حصہ بنتی جارہی ہیں۔

مشہور خبریں۔

ٹرمپ سے امریکی عوام نا مطمئن، وجہ؟

?️ 28 ستمبر 2023سچ خبریں:بمنظوری امریکی سروے کے مطابق انتخابات میں ووٹ دینے کے اہل

خلیج فارس تعاون کونسل کے ایران کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات

?️ 25 جولائی 2021خلیج تعاون کونسل کے سکریٹری جنرل نائف الحجرف نے ہفتے کے روز

آئمہ کرام معاشرتی امن کے محافظ، مذہبی منافرت روکنے میں کردارادا کریں۔ مریم نواز

?️ 8 جنوری 2026لاہور (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے علما کرام میں

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لئے عمان نے ایک بار پھر کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کر دی

?️ 20 نومبر 2025 ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لئے عمان نے ایک بار

راکھی ساونت نے رتیش سے علیحدگی کی وجہ بتادی

?️ 15 فروری 2022ممبئی (سچ خبریں) بھارت کی متنازع اداکارہ راکھی ساونت نے شوہر رتیش

الاقصیٰ طوفان کی وجہ سے صیہونی حکومت کی مکمل برتری خاک میں مل گئی 

?️ 7 اکتوبر 2025سچ خبریں: صہیونی ریاست نے دہائیوں تک اپنے آپ کو فوجی برتری،

ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے اڈوں کے استعمال پر انگلینڈ میں احتجاج

?️ 26 اپریل 2026سچ خبریں: انگلینڈ کے عوام نے ایران کے خلاف امریکہ کی جانب

ایران کے خلاف صیہونی منصوبہ شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام؛رائے الیوم

?️ 1 جولائی 2022سچ خبریں:مزاحمتی گروہوں کے بجائے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کرنے کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے