سعودی عرب کا سپر ایکسپورٹ منصوبہ کیا ہے اور ریاض کے لیے کیوں اہم ہے؟

سعودی عرب

?️

سچ خبریں:سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک تیل پائپ لائن آبنائے ہرمز کو نظر انداز کرکے تیل برآمد کرنے کا اہم متبادل راستہ ہے، لیکن ڈرون حملے نے اس راستے کی سکیورٹی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

سعودی عرب کی وہ تیل پائپ لائن جسے آبنائے ہرمز سے گریز کرتے ہوئے تیل کی برآمد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، علاقائی کشیدگی کے دوران ریاض کے اہم ترین متبادل ذرائع میں شمار ہوتی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق سعودی وزارت توانائی نے جمعہ کو اعلان کیا کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں ایسٹ ٹو ویسٹ نامی تیل پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل روک دی گئی ہے۔ ریاض نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملے عراق کی جانب سے کیے گئے۔

یہ پائپ لائن پٹرولائن کے نام سے بھی جانی جاتی ہے اور سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ملکیت ہے۔ تقریباً 1200 کلومیٹر طویل اس پائپ لائن کے ذریعے مشرقی سعودی عرب کے بقیق سے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع تک خام تیل منتقل کیا جاتا ہے۔ اسے آبنائے ہرمز کے استعمال کے بغیر سعودی تیل کی منتقلی کا ایک اہم داخلی متبادل راستہ سمجھا جاتا رہا ہے۔

اس پائپ لائن کی تیل کی منتقلی کی صلاحیت 7 ملین بیرل یومیہ تک ہے، جس میں سے 2 ملین بیرل مغربی ساحل پر واقع ریفائنریوں کے لیے جبکہ مزید 5 ملین بیرل مختلف مقاصد، بشمول تیل کی برآمدات، کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

2026 میں اس پائپ لائن کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت تقریباً مفلوج ہوگئی اور سعودی عرب پہلے کی طرح اس اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے اپنے تیل کی برآمد جاری رکھنے سے قاصر ہوگیا۔ پٹرولائن سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز سے بچنے کا ایک اہم ذریعہ تھی، تاہم بحیرہ احمر اور باب المندب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اسے بھی خطرات لاحق ہیں۔

اس پائپ لائن پر ہونے والے ڈرون حملے نے ظاہر کردیا ہے کہ سعودی عرب کے اندر زمینی راستے سے تیل کی منتقلی بھی سکیورٹی کے متعدد چیلنجز سے محفوظ نہیں ہے۔

روسی میڈیا آر ٹی نے بھی اس پائپ لائن کا ذکر کرتے ہوئے اسے سعودی عرب کی برآمدی ڈھال قرار دیا اور لکھا کہ اس واقعے کی اہمیت صرف ایک پائپ لائن کی بندش تک محدود نہیں۔

 اصل مسئلہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں خلل کے دوران سعودی تیل کی برآمدات کے لیے دستیاب چند متبادل راستوں میں سے ایک بھی اب مشکلات سے دوچار ہوگیا ہے۔

مشہور خبریں۔

کابل کے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں دھماکہ

?️ 30 جولائی 2022سچ خبریں:افغانستان کے دار الحکومت کابل کے انٹرنشینل کرکٹ اسٹیڈیم میں شپیزا

صیہونی اخبار کا مغربی پٹی کی مزاحمت کے بارے اہم اعتراف

?️ 25 جون 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے حالیہ ڈرون

پاکستان اور بیلاروس کے درمیان 8 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط

?️ 25 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پاکستان

شمالی عراق میں اسرائیل کے اسٹریٹجک مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے:صیہونی اخبار

?️ 15 مارچ 2022سچ خبریں:صیہونی کثیر الاشاعت اخبار نے اعتراف کیا کہ عراق کے اربیل

افغان فوج کی طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری

?️ 27 جون 2021سچ خبریں:افغانستان کےصوبے پروان کی سکیورٹی فورسز کے کوآرڈینیٹر نے آج اعلان

Presidential Train Now Available For Jakartans Traveling To Bandung

?️ 3 ستمبر 2022Strech lining hemline above knee burgundy glossy silk complete hid zip little

بائیڈن اور نیتن یاہو ایک بار پھر آمنے سامنے؛امریکی اخبار کی زبانی

?️ 12 فروری 2024سچ خبریں: امریکی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ بائیڈن اور نیتن

شاہ محمود قریشی نے ایران کے اعلی حکام سے ملاقات کی

?️ 22 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ان دنوں ایران کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے