?️
سچ خبریں:امریکہ اور صہیونی اتحاد کی ایران کے خلاف جنگ کو عالمی سطح پر ناکامی قرار دیتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران ایک نئی بین الاقوامی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے، جو آبنائے ہرمز سمیت اہم اسٹریٹجک معاملات میں خودمختار کردار ادا کر رہا ہے۔
عالمی سطح پر شکست اور ایران کا ایک نئی بین الاقوامی طاقت کے طور پر ابھار اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران امریکہ کی مرضی سے ہٹ کر آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر رہا ہے اور یہ طے کر رہا ہے کہ کون سی کشتیاں گزر سکتی ہیں اور کون سی نہیں، جو ایک نئے عالمی کھلاڑی کے ظہور کا واضح اشارہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی۔صہیونی اتحاد کا اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے غلط حساب کتاب کا نتیجہ تھا، اس بات کا سبب بنا کہ امریکہ کی شکست صرف علاقائی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی نمایاں ہو کر سامنے آئی۔
نیٹو اور یورپی ممالک کی جانب سے ایران پر حملے کے حوالے سے ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت نہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف عالمی اتفاق رائے قائم کرنے میں ناکام رہا، جو مغربی اتحاد کے لیے ایک بڑی شکست تصور کی جاتی ہے۔
ایران کے خلاف جنگ نے امریکہ اور یورپ کے درمیان گہرے اختلافات کو آشکار کیا، اور اس خلیج کے اثرات جنگ کے بعد مزید نمایاں ہوں گے، اسی تناظر میں فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ ایران کے معاملے پر ٹرمپ اور برطانیہ کے وزیر اعظم کے درمیان کشیدگی نے امریکہ اور برطانیہ کے سیکیورٹی تعاون کو متاثر کیا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات امریکی حکام کو حساس برطانوی اجلاسوں سے بھی باہر رکھا جاتا ہے۔
چنانچہ امریکہ اور صہیونی حکومت کا ایران پر غیر قانونی حملہ فوجی، اقتصادی اور سیاسی تینوں محاذوں پر عالمی سطح پر امریکہ کے لیے بھاری نقصانات کا باعث بنا ہے۔
امریکہ اور خود ٹرمپ کی جنگ میں شمولیت، جو بنیامین نیتن یاہو کی ترغیب اور موساد کی مبالغہ آمیز رپورٹوں کے نتیجے میں ہوئی، اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ صہیونی حکومت خود خطے میں اسٹریٹجک تعطل اور ناکامی کا شکار ہو چکی تھی اور اس نے اپنی شکست کا بوجھ امریکہ پر منتقل کرنے کی کوشش کی۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم اور موجودہ اپوزیشن لیڈر یائیر لاپید کے اعتراف کے مطابق، نیتن یاہو مشرق وسطیٰ کو تبدیل کرنے میں ناکام رہے اور وہ ایران اور محورِ مزاحمت کے خلاف کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کر سکے، انہوں نے کہا کہ جنگ سے پہلے بھی ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل داغے جا رہے تھے اور ایک ماہ پناہ گاہوں میں گزارنے کے باوجود صورتحال میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔
صہیونی حکومت اور شخصی طور پر نیتن یاہو نے ایپسٹین فائل جیسے معاملات کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ کو ایران کے جیوپولیٹیکل دلدل میں دھکیل دیا اور اگر امریکہ اس جنگ سے بروقت نہ نکلا تو اس کی عالمی بالادستی کو مستقل چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ صہیونی حکومت نہ صرف امریکہ کے قلیل مدتی اور طویل مدتی مفادات کے مطابق عمل نہیں کر رہی بلکہ اس نے امریکہ پر بھاری اخراجات بھی مسلط کر دیے ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ نے خلیج فارس کے ممالک کی سیکیورٹی فراہم کرنے میں امریکہ کی ناکامی اور یورپی ممالک کو توانائی فراہم کرنے میں اس کی کمزوری کو بھی بے نقاب کیا، جو خود کو عالمی بالادست طاقت قرار دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مستقبل کے عالمی نظام کے لیے ایک نئی بنیاد تشکیل پاتی دکھائی دے رہی ہے۔
یہ جنگ، جسے متعدد مغربی دانشوروں، تھنک ٹینکس اور میڈیا اداروں نے امریکہ کی شکست قرار دیا ہے، اور جس کے نتائج کو تبدیل کرنے کی امریکی و صہیونی کوششیں بھی ناکام دکھائی دیتی ہیں، ایران کو ایک نئی بین الاقوامی طاقت کے طور پر متعارف کراتی ہے جو امریکہ کی مرضی سے ہٹ کر اپنی پالیسیوں پر عمل کرے گی۔
اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، جو ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اسلامی جمہوریہ ایران کے مؤثر ردعمل کے نتیجے میں غیر ارادی طور پر ایران کی عالمی سطح پر طاقت کو اجاگر کرنے کا سبب بنے۔
یہ حقیقت کہ ایران نے امریکہ کی مرضی کے بغیر آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالا اور ان ممالک کو توانائی بردار جہازوں کی آمدورفت کی اجازت دی جو امریکی پالیسیوں کے خلاف عمل کرتے ہیں، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر ایک نئی طاقت ابھر چکی ہے، جس نے امریکی پالیسیوں پر مبنی عالمی نظام کو بنیادی چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔
لہٰذا ایران کا بطور طاقت ابھار، امریکہ کی اسٹریٹجک شکست کے مترادف ہے، جو ٹرمپ کی غلط اندازہ کاری اور نیتن یاہو کی پالیسیوں کے نتیجے میں سامنے آیا۔


مشہور خبریں۔
تل ابیب میں سابق امریکی سفیر کی صیہونی عرب دوستی کی ذمہ داری
?️ 18 مئی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت اور عربوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے
مئی
ٹرین حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 65 ہو گئی
?️ 8 جون 2021سندھ (سچ خبریں) سندھ کے ضلع گھوٹکی کے شہر ڈہرکی کے قریب
جون
مدارس کے معاملے پر ہمیں پریشان نہ کریں ورنہ بڑی آزمائش بن جائیں گے۔ فضل الرحمان
?️ 7 جنوری 2026راولپنڈی (سچ خبریں) جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے
جنوری
چوری کے معاملے میں عراقی کے چار سابق اہلکاروں کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری
?️ 4 مارچ 2023سچ خبریں:عراق کی وفاقی حکومت کی شفافیت کمیٹی نے اس ملک کی
مارچ
فردوس عاشق کا اشیاء کی قیمتوں میں ناجائز اضافے پر برہمی کا اظہار
?️ 28 اپریل 2021لاہور(سچ خبریں) وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس
اپریل
حریدی کی وجہ سے اسرائیل کی معیشت کو اربوں کا نقصان
?️ 4 جون 2025سچ خبریں: اسرائیلی اخبار "زیمان یسرائیل” کی رپورٹ کے مطابق، حاریدی یہودیوں کی
جون
وزیر اعظم کا افغانستان کے حالات پر بیان سامنے آگیا
?️ 16 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے یکساں نصاب تعلیم کی
اگست
امریکی محکمہ انصاف کی کولمبیا یونیورسٹی کے مظاہروں میں مداخلت
?️ 16 مارچ 2025 سچ خبریں:غزہ جنگ کے خلاف طلبہ کے احتجاجی مظاہروں پر امریکی
مارچ