امریکہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا چالیں چل رہا ہے؟

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:امریکہ ایران کے خلاف براہ راست جنگ کے بجائے جنگ کے خوف کو سیاسی دباؤ اور مذاکراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

امریکہ ان دنوں نئی جنگ شروع کرنے سے زیادہ جنگ کے خوف کو دباؤ اور رعایت حاصل کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازع چین واپسی کے بعد یہ حکمت عملی ایک بار پھر ایران کے خلاف زیادہ شدت کے ساتھ فعال ہو گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چین واپسی نہ تو واشنگٹن کے لیے کوئی نمایاں اسٹریٹجک کامیابی لا سکی اور نہ ہی امریکہ کو درپیش بڑھتے ہوئے داخلی و خارجی بحرانوں کو کم کر سکی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر نے سفر ختم ہوتے ہی ایک بار پھر ایران کے معاملے کو وائٹ ہاؤس کی دھمکی آمیز سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔

گزشتہ دنوں ٹرمپ اور ان کے قریبی ساتھیوں نے امریکی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بیانات، دھمکیوں اور نفسیاتی فضاسازی کے ذریعے نہ صرف اس دورے کی نسبی ناکامی کو امریکی عوامی رائے میں کنٹرول کرنے کی کوشش کی بلکہ تہران کے خلاف نئے نفسیاتی دباؤ کی فضا بھی قائم کی۔

بظاہر واشنگٹن یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران جنگی خطرات اور بڑھتے بحران کے دباؤ میں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائے گا، لیکن مذاکرات کے پس پردہ جاری رابطے ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پیغامات کے تبادلے کے جاری رہنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فریق نے نہ صرف مذاکراتی عمل کو روکا نہیں بلکہ پاکستانی ثالث کے ذریعے نئی تجاویز اور ترامیم بھی ارسال کی ہیں۔

یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ سخت میڈیا بیانیے کے باوجود واشنگٹن اب بھی مذاکرات جاری رکھنے اور اپنے بعض سابقہ مؤقف میں نرمی لانے پر مجبور ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 14 نکاتی منصوبے کے بعد امریکی فریق نے اپنی تجاویز اور تحفظات پیش کیے، جس پر تہران نے بھی جواب ارسال کیا۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکی حکام میڈیا میں اس منصوبے کو مسترد کرنے کی بات کرتے رہے، جبکہ دوسری طرف پاکستانی چینل کے ذریعے ترمیم شدہ تجاویز ایران کو بھیجتے رہے۔

یہ طرز عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن ایک ہی وقت میں دو مختلف راستے اختیار کیے ہوئے ہے؛ ایک طرف ایران کے خلاف دھمکی اور نفسیاتی جنگ جاری رکھنا، اور دوسری طرف مذاکراتی عمل کے مکمل خاتمے سے بچنا۔

نفسیاتی جنگ؛ میدان میں ناکامی کے بعد امریکہ کا اہم ہتھیار

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالات میں امریکی حکمت عملی کا بنیادی عنصر حقیقی جنگ سے زیادہ جنگ کا سایہ برقرار رکھنا ہے۔

حالیہ دو جنگوں کے تجربات سے واضح ہو چکا ہے کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی شدید انسانی و معاشی نقصان پہنچانے کے باوجود ایران پر اپنے اسٹریٹجک اہداف مسلط کرنے میں ناکام رہے۔ نہ وہ ایران کی اسٹریٹجک صلاحیتیں ختم کر سکے اور نہ ہی تہران کو یکطرفہ شرائط قبول کرنے پر مجبور کر پائے۔

اسی وجہ سے اب جنگ کی دھمکی خود جنگ سے زیادہ اہم امریکی ہتھیار بن چکی ہے۔

اسی تناظر میں چین سے واپسی کے بعد ٹرمپ کے بیانات کو ایک وسیع نفسیاتی آپریشن کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد فوری جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ ایران پر سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھانا ہے۔

واشنگٹن بخوبی جانتا ہے کہ ایرانی معاشرہ گزشتہ مہینوں میں قابل ذکر اخراجات برداشت کر چکا ہے، اور اسی بنیاد پر وہ جنگ کے خطرے کو نمایاں کر کے یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ مزاحمت جاری رکھنے کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔

اسی سلسلے میں امریکی صدر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کو مجھ سے محتاط رہنا چاہیے۔ اگر ایران نے مناسب تجویز پیش نہ کی تو ہم ایسا حملہ کریں گے جو بے مثال ہوگا۔

اسی طرح ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم پر لکھا: ایران کے لیے وقت تیزی سے گزر رہا ہے، انہیں فوری حرکت کرنا ہوگی، ورنہ کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔ وقت ایک فیصلہ کن عنصر ہے۔

تاہم دوسری طرف مذاکراتی عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ خود امریکہ بھی اپنی حدود سے آگاہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے نئی تجاویز میں بعض نرمیاں اختیار کی ہیں، جن میں مذاکراتی مدت کے دوران ایرانی تیل پر پابندیوں کی عارضی معطلی بھی شامل ہے۔ اگرچہ تہران اب بھی مکمل پابندیوں کے خاتمے پر زور دے رہا ہے، لیکن امریکی مؤقف میں یہ نرمی ظاہر کرتی ہے کہ حالیہ میڈیا دباؤ دراصل واشنگٹن کے اندر موجود تشویش کا عکس ہے۔

امریکہ کو جنگ کے سائے کی ضرورت کیوں ہے؟

امریکہ کے لیے مسئلہ صرف ایران نہیں بلکہ اپنی عالمی ساکھ بھی ہے۔

ٹرمپ حکومت مہینوں کی کشیدگی، فوجی کارروائیوں اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے بعد اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں اگر وہ اپنے کم از کم اہداف بھی حاصل نہ کر سکی تو نہ صرف ایران بلکہ اپنے علاقائی اتحادیوں اور عالمی حریفوں کے سامنے بھی ساکھ کے بحران کا شکار ہو جائے گی۔

امریکہ گزشتہ برسوں سے خود کو ایک ایسی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتا رہا ہے جو فوجی دھمکی، پابندیوں اور معاشی دباؤ کے ذریعے مخالفین کو جھکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ لیکن ایران پر زیادہ سے زیادہ شرائط مسلط کرنے میں ناکامی نے اس تصور کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اسی لیے واشنگٹن اب جنگ کے ڈنڈے کو فضا میں بلند رکھنا چاہتا ہے، چاہے وہ خود جانتا ہو کہ نئی بڑی جنگ کے اخراجات امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی برداشت سے باہر ہوں گے۔

ٹرمپ نے اکسیوس سے گفتگو میں کہا کہ میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے اور میں ان کی نئی تجویز کا انتظار کر رہا ہوں۔

درحقیقت ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کا ایک بڑا مقصد اپنی سیاسی اور سکیورٹی ساکھ کو بچانا ہے۔ اگر ایران اپنے بنیادی مطالبات سے پیچھے ہٹے بغیر امریکہ کو اپنی بعض شرائط ماننے پر مجبور کر دیتا ہے تو یہ پیغام عالمی سطح پر جائے گا کہ واشنگٹن کی یکطرفہ بالادستی کا دور کمزور پڑ رہا ہے۔

ایسی صورتحال امریکہ کے اتحادیوں کے درمیان بھی اس کے اثر و رسوخ میں کمی کا باعث بن سکتی ہے، جسے امریکی اسٹیبلشمنٹ ایک اسٹریٹجک خطرہ سمجھتی ہے۔

تہران کا جواب؛ جذباتی فضا سے دور قومی مفادات پر توجہ

اس نفسیاتی جنگ کے مقابلے میں ایران نے حالیہ دنوں میں کوشش کی ہے کہ میڈیا بیانیے اور حقیقی مذاکرات میں فرق رکھا جائے۔

امریکہ کی جانب سے ماحول کو کشیدہ بنانے کی کوششوں کے برعکس، تہران نے اپنے فیصلے سیاسی، سکیورٹی اور قومی مفادات کی بنیاد پر کیے ہیں اور واشنگٹن کے میڈیا کھیل میں داخل ہونے سے گریز کیا ہے۔

پاکستانی ثالث کے ذریعے مذاکراتی متنوں کا تبادلہ جاری رہنا اور بعض معاملات میں دونوں فریقوں کے مؤقف کا قریب آنا ظاہر کرتا ہے کہ ایران اپنی سرخ لکیروں کو برقرار رکھتے ہوئے سفارتی راستہ بھی کھلا رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی کے اصول سے بھی اتفاق کیا ہے، جو خاص طور پر لبنان کے حوالے سے ایران کے اہم مطالبات میں شامل تھا۔

یہ تمام صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن اس وقت اپنی شرائط مسلط کرنے کی پوزیشن میں نہیں بلکہ ایک طویل اور تھکا دینے والی سودے بازی میں الجھا ہوا ہے تاکہ مکمل ناکامی سے بچ سکے۔

اسی لیے ٹرمپ کی دھمکیوں کو حقیقی برتری کی علامت نہیں بلکہ مذاکراتی ماحول پر نفسیاتی اثر ڈالنے اور خوف پیدا کر کے رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آخر میں سب سے اہم مسئلہ یہی ہے کہ اس نفسیاتی جنگ کا سامنا کیسے کیا جائے۔ گزشتہ برسوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب بھی ایران نے دھمکیوں اور میڈیا دباؤ سے متاثر ہو کر ردعمل دیا، امریکہ نے اسی فضا کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن جب بھی فیصلے حقیقی طاقت، اخراجات اور قومی مفادات کی بنیاد پر کیے گئے، واشنگٹن کو اپنی زیادہ سے زیادہ شرائط سے بتدریج پیچھے ہٹنا پڑا؛ اور موجودہ حالات میں بھی اس کے آثار واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

خطہ میں جنگ کو بڑھاوا دینے میں اسرائیل کے ساتھ برطانیہ کی ملی بھگت کے ہوشربا حقائق

?️ 10 ستمبر 2024سچ خبریں: برطانیہ کی سابقہ لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربین نے

امریکہ اور پاکستان نے افغانستان کے بارے میں کیا کہا؟

?️ 9 اپریل 2025سچ خبریں: حالیہ دنوں میں، امریکہ اور پاکستان نے دونوں ممالک کے وزرائے

بن گوئیر کی کابینہ میں واپسی اور گولان کا صیہونی حکومت کی کرپٹ کابینہ پرغصہ

?️ 19 مارچ 2025سچ خبریں: بین گویر نے غزہ میں جنگ کے خاتمے اور جنگ

لاہور ہائیکورٹ کا وفاق کی جانب سے توشہ خانہ ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر اظہار برہمی

?️ 18 اپریل 2023لاہور:(سچ خبریں) لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے وفاقی حکومت

عوام کے تعاون سے پاک افواج نے بھارت کا غرور خاک میں ملایا۔ بیرسٹر سیف

?️ 25 ستمبر 2025پشاور (سچ خبریں) وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات

جولانی کا تکفیری جنگجوؤں کو تحفہ

?️ 18 اگست 2025جولانی کا تکفیری جنگجوؤں کو تحفہ لبنان کی ویب سائٹ لا اورینتال

وفاقی وزیر نے ملک کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو قرار دے دیا

?️ 23 جنوری 2023مریدکے: (سچ خبریں) وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین نے ملک کی

نیوزی لینڈ، انگلینڈکی کرکٹ ٹیموں کے دورے کی منسوخی پرہمایوں سعیدکا ردعمل

?️ 21 ستمبر 2021کراچی (سچ خبریں) فلم اسٹار اور پروڈیوسر ہمایوں سعید نے  نیوزی لینڈ،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے