لاہور ہائیکورٹ کا وفاق کی جانب سے توشہ خانہ ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر اظہار برہمی

?️

لاہور:(سچ خبریں) لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کی جانب سے 1947 سے 2001 تک توشہ خانہ کا مکمل ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے اگلی سماعت پر ذمہ داران کو تفصیلات سمیت طلب کرلیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس محمد رضا قریشی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنگل بینچ کے 1990 سے 2023 تک ملنے والے تحائف کے ذرائع بتانے کے فیصلے کے خلاف حکومت کی درخواست پر انٹرا کورٹ سماعت کی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کے پاس 1947 سے 1990 تک توشہ خانہ کا مکمل ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

دو رکنی بینچ نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی اور سوالیہ نشان ہے کہ حکومت کے پاس ریاستی اثاثوں کا ریکارڈ نہیں ہے۔

عدالت نے یاد دہانی کروائی کہ یہ پوری قوم کا معاملہ ہے اور حکومت کے پاس تلاش کرنے اور سنگل بینچ کے حکم کے تحت ریکارڈ پیش کرنے کے لیے علاوہ کوئی موقع نہیں ہے۔

ججوں نے توشہ خانہ کے ریکارڈ کی عدم دستیابی پر وضاحت کے لیے ریٹائرڈ افسران سمیت تمام ذمہ داران کو طلب کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا۔

دو رکنی بینچ نے پارلیمنٹ کے حوالے سے کہا کہ بل فوری طور پر منظور ہوتے ہیں لیکن عوام کے مفاد میں کوئی قانون سازی نہیں ہوتی ہے۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ ’ہم اپنی آنے والی نسل کے لیے کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں‘۔

بینچ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ بغیر کسی ناکامی کے ریکارڈ پیش کرنا یقینی بنائیں اور سماعت مئی کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ 22 مارچ کو جسٹس عاصم حفیظ نے وفاقی حکومت کو 1990 سے 2001 تک توشہ خانہ کا ریکارڈ تحائف دینے والے غیرملکی شخصیات اور ممالک کی تفصیلات کے ساتھ جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ جج نے کہا تھا کہ توشہ خانہ سے متعلق کوئی بھی چیز قوم سے چھپائی نہیں جاسکتی۔

دوسری جانب حکومت کی اپیل میں کہا گیا تھا کہ سنگل بینچ نے رٹ پٹیشن پر پاکستانی شخصیات اور سرکاری عہدیداروں کو بیرونی ریاستوں سے ملنے والے تحائف کی تمام معلومات ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کا حکم دیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ وفاقی کابینہ نے توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 تک ریکارڈ اس وقت ڈی کلاسیفائی کرنے کا فیصلہ کیا جب معاملہ زیر سماعت تھا لیکن تحائف کے ذرائع کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی تھیں۔

اپیل میں کہا گیا کہ فیصلہ ہوا تھا کہ ذرائع خفیہ رکھے جائیں گے کیونکہ وفاقی حکومت کا ماننا ہے کہ اس سے پاکستان کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات پر برے اثرات پڑیں گے۔ ڈویژن بینچ سے استدعا کی گئی کہ سنگل بینچ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

مشہور خبریں۔

6 مہینے بعد سخت ترین فیصلے کرنے سے بہتر ہے کہ ابھی سخت فیصلے کر لیے جائیں۔وفاقی وزراء

?️ 20 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)آئی ایم ایف  سے مذاکرات کی روشنی میں بظاہر ایندھن

صیہونی حکومت کا فلسطین میں جرم کا اعتراف ایک مثبت قدم

?️ 16 دسمبر 2021سچ خبریں:  فلسطینی اتھارٹی نے صیہونی حکومت کے داخلی سلامتی کے وزیر

شہید سلیمانی بھی ہمارے ہیرو ہیں: ترکی رہنما

?️ 4 جنوری 2022سچ خبریں:  ترکی کی محب وطن پارٹی کے رہنما، ڈو لیڈرو پرنیک

6 Perfect Places To Watch The Sunrise in Bali While You Honeymoon

?️ 20 اگست 2022 When we get out of the glass bottle of our ego

شہباز شریف کا اسرائیلی کابینہ کے فیصلے پر اہم بیان سامنے آگیا

?️ 8 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا اسرائیلی کابینہ

نیویارک ٹائمز کی نظر میں ترکی کے صدر کی سیاسی تصویر

?️ 10 نومبر 2025سچ خبریں:نیویارک ٹائمز نے ایک تفصیلی تجزیے میں ترکی کے صدر اردوغان

عادل راجہ پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد، نام فورتھ شیڈول میں شامل

?️ 27 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) حکومت نے یوٹیوبر عادل فاروق راجہ پر انسداد

ایف بی آئی کارکنوں کے خلاف دھمکیوں میں غیر معمولی اضافہ

?️ 13 اگست 2022سچ خبریں:امریکی وفاقی پولیس نے کہا ہے کہ وہ اس تنظیم اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے