?️
اسلام آباد{سچ خبریں} سینیٹ میں اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے لیے اوپن ووٹنگ سے متعلق آرڈیننس مسترد کردیا، ساتھ ہی پیپلزپارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے ایک قدم آگے جاتے ہوئے ’حکمران جماعت کے ایجنڈے کو فروغ‘ دینے کے لیے آرڈیننس جاری کرنے پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے مواخذے کا مطالبہ کردیا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدارتی آرڈیننس پر بحث کے ایک نکاتی ایجنڈے میں حصہ لیتے ہوئے رضا ربانی نے صدر پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کی جاننتے تھے کہ آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پہلے سے موجود ہے لیکن انہوں نے پھر بھی سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیجا، صدر یہ بھی جانتے تھے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو انہوں نے موقوف کر رکھا ہے اور اگلے ہی دن یہ جانتے ہوئے بھی کہ ریفرنس سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے انہوں نے سینیٹ انتخابات پر آرڈیننس جاری کردیا۔
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ’آج ہمیں آئین کے آرٹیکل 47 کے تحت صدر کے خلاف مواخذے کی قرارداد پر غور کرنا چاہیے‘۔
انہوں نے اعتراض کیا کہ آرڈیننس عبوری قانون سازی کے لیے ہوتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ متعدد مرتبہ یہ قرار دے چکی ہے کہ اس طرح کی قانون سازی عارضی ہوتی ہے اور یہ زیادہ سے زیادہ 120 دن کے لیے رہ سکتی ہے اور اس کے بعد خود بخود ختم ہوجاتی ہے، اگر اس پر عمل درآمد نہ ہو تو اسے دوبارہ نامنظوری کی قرارداد کے ذریعے ایک طرف کیا جاسکتا ہے۔
رضا ربانی نے کہا کہ اگر سینیٹ انتخابات آرڈیننس کے تحت ہوتے ہیں تو پھر اس کے اثرات ہوں گے اور آرڈیننس کے ختم ہونے پر قانونی چارہ جوئی کا ایک طوفان برپا ہوجائے گا کہ آیا انتخابات جائز تھے یا نہیں، مزید یہ کہ صرف پارٹی (پی ٹی آئی) میں بغاوت کو روکنے کے لیے آئینی اداروں کو پامال کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو اوپن سینیٹ انتخابات کی حمایت کرنی چاہیے ’ہمیں سینیٹ انتخابات میں ووٹس کی خرید و فروخت کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا‘۔
انہوں نے انتخابی عمل کے لیے شفافیت لاکر ایوان کے تقدس کو بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے رضا ربانی کی تقریر کے کچھ حصوں پر اعتراض کیا اور پوچھا کہ آیا یہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت معاملے کی طرف عدم اعتماد تو نہیں تھا۔
آئین کے آرٹیکل 89 کے ذیلی آرٹیکل 2 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرڈیننس پارلیمنٹ کے ایکٹ کے طور نافذ اور مؤثر ہوگا ساتھ ہی انہوں نے پوچھا کہ کیا کسی اجنبی نے آرڈیننس جاری کیا تھا؟
بابر اعوان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 50 کہتا ہے کہ پارلیمنٹ صدر اور اس کے دو ایوانوں پر مشتمل ہے، اگر یہ غلط لکھا ہے تو پھر ہم اسے تبدیل کرتے ہیں، اگر یہ صدارتی آرڈیننس برا ہے تو پھر آئین سے تمام آرڈیننسز، مارشل لا قوانین اور ایل ایف اوز کو باہر نکال دیں‘۔
انہوں نے کہا کہ صدر آرٹیکل 186 کے تحت خصوصی طور پر مشاورتی دائرہ کار استعمال کرسکتے ہیں۔
مشیر پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ جہاں تک مواخذے کی بات ہے تو ان (اپوزیشن) کو خوش آمدید کہیں گے، اس کا مقابلہ کریں گے اور یہ اسی طرح ناکام ہوگا جیسے امریکی صدر کا دو مرتبہ مواخذہ کامیاب نہیں ہوسکا۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے چاہے جو بھی فیصلہ آئے یہ 3 مارچ سے پہلے ہوگا اور اس پر عملدرآمد ہوگا۔


مشہور خبریں۔
چین اور مغربی طاقتوں کے مابین کشیدگی، جو بائیڈن نے اہم قدم اٹھانے کا اعلان کردیا
?️ 28 مارچ 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی صدر جو بائیڈن نے چین اور مغربی طاقتوں کے
مارچ
پاکستان میں کورونا سے بچوں کی اموات میں اضافہ: رپورٹ
?️ 11 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ملک بھر میں کورونا وائرس سے بچوں کی
دسمبر
بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیاں جاری، امریکا نے شدید تشویش کا اظہار کردیا
?️ 31 مارچ 2021واشنگٹن (سچ خبریں) بھارت میں جب سے انتہاپسند جماعت بی جے پی
مارچ
اومیکرون کے پھیلنے سے یورپ اور امریکہ دباؤ میں
?️ 9 جنوری 2022سچ خبریں: یورپ اور ریاستہائے متحدہ میں وبا پھیلتی دکھائی دیتی ہے،
جنوری
حریدی یہودیوں نے اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے سے انکار کیا ؛ وجہ؟
?️ 18 نومبر 2024سچ خبریں: غزہ اور لبنان کی جنگ میں ایک بار پھر حریدی
نومبر
’ آج بھارت کا غرور خاک میں ملانے کا دن ہے ’ سیاستدان بھی قومی ٹیم کی جیت کیلئے پُرامید
?️ 28 ستمبر 2025کراچی: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ،
ستمبر
اسرائیل کثیر محاذ جنگ کی دلدل میں دھنس چکا ہے: عبرانی میڈیا
?️ 14 اکتوبر 2024سچ خبریں: ماریو اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل جس کثیر محاذ
اکتوبر
عوامی خدمت کے کارکنوں کی ہڑتال سے جرمنی کے کچھ شہر مفلوج
?️ 13 مارچ 2025سچ خبریں: ڈائی ویلٹ اخبار کے مطابق ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں
مارچ