وزیر اعظم نے آئندہ 5 برس کیلئے وزارتوں کے اہداف مقرر کردیے، عطا تارڑ

?️

لاہور : (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے آئندہ 5 سال کے لیے وزارتوں کے اہداف مقرر کردیے ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وزارتوں کو باقاعدہ دستاویز کے ذریعے 70 صفحات پر مشتمل تحریری ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ان سے کیا توقعات ہیں اور انہوں نے کیا کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے اس معاملے پر کوشش کی ہے اور ہر وزارت کو حقیقت پر مبنی اہداف دیے گئے ہیں، وزارت خزانہ کو یہ ہدف دیا گیا ہے کہ مہنگائی میں، بیروز گاری میں کمی کرنی ہے، شرح نمو میں اضافہ کرنا ہے، آئی ایم ایف کے معاملات کو مکمل کرنا ہے، قرضہ جات کی ری اسٹرکچرنگ کے حوالے سے بھی ہدف دیا گیا ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم ہر وزارت کو تحریری طور پر آگاہ کرتے ہیں کہ یہ اگلے 6 مہینے، 2 سال یا 5 سال کے اہداف ہیں اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ آپ انہیں پورا کریں گے، پہلی دفعہ وازرتوں کو تحریری طور پر یہ اہداف ارسال کیے گئے ہیں، جب کابینہ کا اجلاس ہوگا تو وزارتوں سے جواب بھی لیا جائے گا اور اچھی کارکردگی والے وزرا کی ستائش بھی کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خود احتسابی کا نظام بھی وضع کیا گیا ہے، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آئی ٹی کے ذریعے نیا نظام لایا جائے گا جہاں وزراتوں کی کارکردگی کو جج کیا جائے گا، یہ اہداف انتہائی کلیئر ہیں جیسے تجارتی خسارہ کم کرنا، زر مبادلہ بڑھانا، آئی ٹی کے شعبے میں ایکسپورٹس کو بڑھانا اور پے پال جیسی سہولیات کو فعال کرنا، ملک میں جدید ڈیجیٹل نظام کا نفاذ وغیرہ، یہ انتہائی کلیئر ٹارگٹ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کو غیرقانونی اسلحہ کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا ہدف دیا گیا ہے، دہشتگردی کے وقعہ کی روک تھام کے لیے جدید بنیادوں کے نظام کو وضع کرنے، غیر قانونی طور پر غیر ملکی مقیموں، اسمگلنگ کی روک تھام وغیرہ کے لیے اہداف بھی دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس میں بڑی پیشرفت یہ ہے کہ صوبوں کے ساتھ مؤثر معاونت کا نظام وضع کیا گیا ہے، اس میں یہ دیکھا جائے گا کہ 6 ماہ کے اندر جو ہدف ہونا تھا وہ کیسے ہوا، بہت تیزی سے اس پر کام شروع ہوگیا ہے خاص طور پر چینی سیکیورٹی اور دہشتگردی کی روک تھام کے لیے جو اجلاس کیے گئے ہیں، اس میں بہت بڑا کردار ہماری انٹیلیجنس ایجنسی کا بھی ہے کہ وقت سے پہلے اقدام کیسے کیا جائے گا اور جس طرح نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کی نگرانی کی جاتی تھی انہی بنیادوں پہ باقاعدہ طور پر دیکھا جائے گا کہ صوبوں اور وفاق کے درمیان رابطہ کس طریقے سے ہورہا ہے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ غیر قانونی اسلحے کے حوالے سے ضوابط بنائے جائیں گے، ماضی میں کبھی تحریری طور پر تفصیل کے ساتھ ہدایات وزارتوں کو جاری نہیں کی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت قانون کو قانون سازی کے حوالے سے ہدایات دی گئی ہیں کہ جو کمزور طبقے ہیں، اقلیتیں ہیں ان کی تحفظ کے لیے قوانین بنائیں گے اور تمام قوانین کے لیے ای-پورٹل بنائے جائیں گے، قانون کے نفاذ کے لیے بھی ہدف دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت صنعت کو انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کا ٹاسک دیا گیا ہے، شپ بریکنگ انڈسٹری کے فروغ کا بھی ہدف دیا گیا ہے، دوست ممالک کے ساتھ صنعتی پیداوار کو بڑھانے کا ہدف بھی دیا گیا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ کامرس کی وزارت کو تجارتی خسارہ کم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کو رائج کرنے کے حوالے سے ہدف دیا گیا ہے، فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ اور لوکل انویسٹمنٹ کے لیے کاروبار میں آسانی کا ٹاسک بھی دیا جا چکا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ دسمبر 2027 تک خلیجی ممالک کی بر آمدات میں اربوں ڈالرز کے اضافے کے حوالے سے بھی ٹاسک دیا گیا، 5 سال کے لیے تجارتی، دوطرفہ تجاری معاہدوں کو تیار کرنے کا بھی کہا گیا ہے، یہ سب ٹائم لائن کے ساتھ کیا گیا ہے، 30 اپریل تک وزارت تجارت کو یہ کہا گیا ہے کہ وہ کابینہ میں قومی صنعتی پالیسی لائیں اور اسے منظور کروایا جائے۔

عطا تارڑ کے مطابق وزارت تعلیم کو اسکول کی سہولت سے محروم بچوں کی اسکول تک رسائی کاہدف دیا گیا ہے، اس حوالے سے کلیئر احکامات دیے گئے ہیں، پی ایچ ڈی اسکالر شپس میں اضافہ اور پرائمری اسکول میں ایڈمیشن بڑھانے کا ٹارگٹ دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا وزارت نجکاری کو پی آئی اے کی نجکاری کو فی الفور منطقی انجام تک پہنچانے کا کہا گیا ہے، کمرشل بینکس کے ساتھ پی آئی اے کے بقایا واجبات کے معاملات کامیابی سے منطقی انجام تک پہنچ گئے ہیں، یہ ایک بڑی پیشرفت ہے، پی آئی اے کی نجکاری سے معیشت پر مثبت اثر پڑے گا اور حکومتی ریونیو میں اضافہ ہوگا۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ جو اہداف دیے گئے ہیں انہیں کابینہ میں بھی دیکھا جائے گا، یہ تاریخی اقدامات ہیں جن سے عوام کی زندگیاں بہتر ہوں گی۔

انہون نے کہا کہ کئی محکمے برائے نام چل رہے ہیں ان کو دوسرے محکموں کے ساتھ ضم کیا جائے گا، کابینہ کے اراکین بھی کوئی تنخواہ، کوئی مراعات نہیں لے رہے، ان خرچوں کو کم کیا جائے گا، بڑی سنجیدگی کے ساتھ ان تمام معاملات کو حتمی شکل دی گئی ہے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم نے 16 ماہ میں ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا اسی وجہ سے نگران حکومت میں استحکام آیا، آئی ایم ایف معاہدے سے مزید استحکام آئے گا، وزیر خزانہ نے ان معاملات میں بھرپور توجہ دی ہے اور ہم اس اہداف کو حل کرنے میں اپنا خون پسینہ لگائیں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کے خط کے معاملے پر سابق جج تصدق جیلانی کی سربراہی میں انکوائری کمیشن بنانے کے سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ تصدق جیلانی اچھی شہرت کے حامل ہیں اور غیر متنازع ہیں اور کسی کو ان پر کوئی شک نہیں ہے، اگر انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس ذمہ داری کو نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

کیا ترکی شامی کردوں کے خلاف کارروائی کرے گا؟ ترک وزیر خارجہ کی زبانی

?️ 8 جنوری 2025سچ خبریں:ترکی کے وزیر خارجہ نے دھمکی دی ہے کہ انقرہ شامی

63% اسرائیلی طلباء نے تعلیم چھوڑی

?️ 12 نومبر 2024سچ خبریں: پیر کے روز Ma’ariv اخبار کی طرف سے شائع ہونے

حزب اللہ کے پاس اسرائیل کا کمزور نقطہ کیا ہے؟

?️ 11 جون 2024سچ خبریں: معاریف اخبار کے مطابق حزب اللہ نے اسرائیل کی کمزوری کو

اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ کیوں نہیں بنایا؟

?️ 8 اپریل 2023سچ خبریں:اسرائیل نے غزہ کی پٹی اور لبنان میں اپنے حملوں کو

جنگیں امریکی دفاعی صنعت کے لیے منافع بخش تجارت بن چکی ہیں: سابق امریکی قانون ساز

?️ 30 جون 2026سچ خبریں:سابق امریکی قانون ساز نے کہا ہے کہ جنگیں امریکی دفاعی

ہولوکاسٹ سے غزہ تک کا تسلسل اور  کیا اسرائیل کا حباب پھٹنے والا ہے؟

?️ 15 ستمبر 2025ہولوکاسٹ سے غزہ تک کا تسلسل اور  کیا اسرائیل کا حباب پھٹنے

ایم کیوایم مہنگائی کیخلاف منی بجٹ کیلئے اپنی ترامیم جمع کروائے گی

?️ 5 جنوری 2022کراچی(سچ خبریں) حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیوایم کے مرکزی رہنماء خالد

عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کی مظلوم عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لینا چاہیئے

?️ 15 مئی 2021سرینگر (سچ خبریں)  مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے فلسطینی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے