کسی ملک کے کہنے پر انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات نہیں کریں گے، انوار الحق کاکڑ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ کسی ملک کے کہنے پر انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات نہیں کریں گے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرس کرتے ہوئے عام انتخابات کے حوالے سے عالمی مبصرین کے خدشات سے متعلق انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ یورپی یونین، برطانیہ اور امریکا ہمارے دوست ممالک ہیں لیکن وہ اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان ممالک نے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کو صحیح مان لیا، کیپٹل ہل پر حملہ ہوا تو کیا ہم نےکہا کہ جوڈیشل کمیشن بنا کر تحقیقات کریں؟ ضرورت پڑی تو انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات اپنے قوانین کے مطابق کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے پر امن انعقاد پر سیکیورٹی فورسز سمیت تمام اداروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، چیلنجز کے باوجود جمہوری عمل کا تسلسل خوش آئند ہے، غیر معمولی حالات کے باوجود پر امن الیکشن کا انعقاد بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو اب بھی دہشتگردی کا سامنا ہے، پاکستان دفاعی طور پر مستحکم اور ذمہ دار ملک ہے۔

انوار الحق کاکڑ نے عام انتخابات کے نتیجے میں جاری احتجاج کے حوالے سے کہا کہ پر امن احتجاج سب کا حق ہے مگر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، الیکشن نتائج کی ایک ڈور ہوتی ہے، الیکشن نتائج کی دوڑ میں صحیح اور غلط نتیجے کو بھی نہیں دیکھا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ووٹوں کی گنتی میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں، ہمارے پاس 36 گھنٹے میں الیکشن کے نتائج مرتب ہوگئے تھے، ملک بھر میں 92 ہزار پولنگ اسٹیشنز تھے، ان پولنگ اسٹیشنز سے ریٹرننگ افسر کے آفس تک نتائج آنے میں ٹائم لگتا ہے، یہاں تو صرف چند گھنٹوں بعد ہی کہہ دیا گیا کہ نتائج تبدیل ہوگئے ہیں، ہوسکتا ہے کہ کہیں نتائج میں بے قاعدگی ہو مگر نتائج میں تاخیر کا مطلب دھاندلی نہیں ہے۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کو ڈھاکہ بنانے کی باتیں انتہائی بے ہودہ ہیں، ہم اپنے شہریوں کی زندگیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے اوپر الیکشن سے متعلق کوئی دباؤ نہیں تھا، ملک بھر میں براڈ بینڈ کے ذریعے انٹرنیٹ سہولت موجود تھی۔

نگران وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے 35 پنکچرز کا رونا رویا گیا پھر کہا گیا کہ سیاسی بیان تھا، اس وقت معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنا تھا، پھر کیا ہوا؟

نگران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ الیکشن ہوگئے ہیں، اب جس نے حکومت بنانی ہے وہ بنالے۔

الیکٹرانگ ووٹنگ مشین کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ای وی ایم سے پولنگ کروانے کا فیصلہ آئندہ پارلیمان کرے گی۔

انوار الحق کاکڑ نے مزید کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ نیا پروگرام نو منتخب حکومت کرے گی، آئی ایم ایف کو ہماری نجکاری کے پروگرام سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے اعمال کو ایمانداری سےدیکھنا ہوگا، یہ نہیں ہوسکتا جو چیز مجھے موافق ہو وہ حلال ہو ورنہ وہ حرام ہو

مشہور خبریں۔

توشہ خانہ کیس: ہائیکورٹ کے فیصلے تک ٹرائل کورٹ فیصلہ نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ

?️ 4 اگست 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی

”یوم شہدائے کشمیر“ حریت کانفرنس کی کل مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال کی کال

?️ 12 جولائی 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی

عمران خان کی سیکیورٹی کے لیے پنجاب پولیس کی تعیناتی کا فیصلہ موخر

?️ 26 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما کا کہنا ہے

بحیرۂ احمر میں دو نئے سمندری حادثات

?️ 9 جون 2024سچ خبریں: خبری ذرائع نے بحیرۂ احمر میں دو مزید جہازوں پر

پاکستانی وزیر اعظم: اسلامی ممالک اسرائیلی حکومت کے اقدامات کے خلاف متحد ہو جائیں

?️ 12 ستمبر 2025سچ خبریں: دوحہ میں امیر قطر سے ملاقات میں پاکستانی وزیر اعظم

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے حقائق بیان نہیں کیے

?️ 21 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران

کیا یوکرین کی جنگ سے یورپی یونین کو خطرہ ہو سکتا ہے ؟

?️ 2 اکتوبر 2023سچ خبریں:یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیٹرو کلبا نے کہا کہ اس جنگ

طالبان کی 150000 افراد پر مشتمل فوج قائم کرنے کی کوشش

?️ 13 جنوری 2022سچ خبریں:طالبان کے چیف آف آرمی اسٹاف نے یہ اعلان کرتے ہوئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے