پاکستان کو قرض سے ریلیف کی ضرورت ہے: وزیر اعظم

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو قرض سے خاطر خواہ ریلیف کی ضرورت ہے، دنیا کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ آج ہم موسمیاتی تبدیلی کا نشانہ بنے کل کوئی اور ملک بھی بن سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی ٹی وی بلوم برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس وقت سیلاب متاثرین کے ساتھ ہونا چاہیئے تھا، میں یہاں اس لیے ہوں کہ دنیا کو بتا سکوں ہمارے ملک میں کیا ہوا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سےکلاؤڈ برسٹ ہوا، موسمیاتی تبدیلی میں ہمارا حصہ نہیں ہے۔ پاکستان کا کاربن گیسز کا اخراج ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے، 400 بچوں سمیت 1500 افراد جاں بحق ہوئے، سیلاب کے باعث 4 ملین ایکڑ رقبے پر فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ 10 لاکھ گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ اور تباہی کا مشاہدہ کیا، انہوں نے سیلاب سے تباہی کو ناقابل یقین قرار دیا۔ امریکی صدر نے بھی پاکستان میں سیلاب سے متعلق بات کی ان کا شکر گزار ہوں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس وقت کم ہے، 3 لاکھ بچے وبائی امراض اور بھوک کا شکار ہیں، پاکستان کو قرض سے خاطر خواہ ریلیف کی ضرورت ہے۔ یو این سیکریٹری جنرل اور یورپی ممالک کے سربراہان سے کہا کہ ریلیف کے لیے مدد کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب سے ابتدائی طور پر نقصان کا تخمینہ 30 بلین ڈالر لگایا گیا ہے، دنیا کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے بات کی کہ متاثرہ افراد کے لیے پروگرام بنایا جائے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں ہر ماہ پیٹرول اور بجلی کی قیمت بڑھانا پڑتی ہے، میری روسی صدر سے ملاقات ہوئی۔ روسی صدر سے پیٹرول خریدنے اور اناج کی برآمد کی بات کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام دوستوں کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہوں، سیاست چھوڑ کر ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ آج ہم موسمیاتی تبدیلی کا نشانہ بنے کل کوئی اور ملک بھی بن سکتا ہے۔

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ بھارت ہمارا پڑوسی ہے اور ہمیں ہمیشہ ساتھ رہنا ہے، یہ ہمیں طے کرنا ہے کہ پرامن پڑوسی بن کررہنا ہے یا کشیدگی برقرار رکھنا چاہتے ہیں، بھارت کے ساتھ صرف ایک مسئلہ ہے اور وہ کشمیر کا ہے، بھارت کشمیر پر بات کرنے کو تیار ہے تو ہم بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

مشہور خبریں۔

یمن سعودی سرحدوں پر حالیہ کشیدگی کی کہانی / صنعا کو ریاض عناصر کی جارحانہ حرکتوں کا سامنا

?️ 20 نومبر 2025سچ خبریں: یمن کے سرحدی علاقوں اور اس پر قابو پانے کے

الاقصی طوفان آپریشن کو انجام دینے کی وجہ؛ حماس کا بیان

?️ 22 جنوری 2024سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے ایک نوٹ شائع کیا

جنگ بندی کے بعد غزہ کی پٹی پر حکومت کیسے ہوگی؟

?️ 2 فروری 2025سچ خبریں: صیہونی قابضین کی فاقہ کشی کی پالیسی کے تحت تقریباً

صیہونی حکومت کے جرائم میں امریکہ برابر کا شریک

?️ 10 اگست 2024سچ خبریں: اسلامی مزاحمتی تحریک نے اعلان کیا ہے کہ الدرج کے

مغربی کنارے میں صیہونی درندوں کے ہاتھوں ایک اور فلسطینی نوجوان شہید

?️ 13 دسمبر 2021سچ خبریں:اسرائیلی فوج نے شمالی مغربی کنارے پر حملہ کیا جس کے

75% امریکی واشنگٹن کے طرز عمل سے غیر مطمئن

?️ 1 اپریل 2022سچ خبریں:   ایک نئے سروے کے مطابق چار میں سے تین امریکی

تل ابیب میں شہادت طلبانہ کاروائی کرنے والا نوجوان شہید

?️ 9 اپریل 2022تل ابیب میں شہادت طلبانہ کارروائی کرنا والا فلسطینی نوجوان کی صیہونیوں

معید یوسف کی امریکی ہم منصب سے ملاقات،دوطرفہ تعاون پر زور

?️ 30 جولائی 2021واشنگٹن(سچ خبریں) مشیر قومی سلامتی معید یوسف اور امریکی ہم منصب جیک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے