?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں مسلسل دوسرے مہینے سرپلس ریکارڈ کیا گیا جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی 10 مہینے کے دوران خسارہ سالانہ بنیادوں پر 76 فیصد سکڑ گیا، جس کی وجہ حکومت کی جانب سے درآمدات کو محدود کرنا ہے تاکہ بحران زدہ معیشت کو سنبھالا جاسکے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا کہ اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ میں ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا فاضل پن ہوا جبکہ اس سے قبل مارچ میں کرنٹ اکاؤنٹ 65 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مثبت رہا تھا، تاہم مرکزی بینک نے مارچ کا 75 کروڑ ڈالر کا نظر ثانی شدہ سرپلس رپورٹ کیا ہے۔
اس کمی کے بعد رواں مالی سال کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) جولائی تا اپریل کے دوران سالانہ بنیادوں پر 76 فیصد کی بڑی کمی کے بعد صرف 3 ارب 26 کروڑ ڈالر رہ گیا ہے، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 13 ارب 65 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
مالیاتی شعبہ پُرامید ہے کہ ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3 ارب ڈالر کی کم سطح پر آ جائے گا جو گزشتہ برس 17 ارب 50 کروڑ ڈالر تھا۔
تاہم بیرونی اکاؤنٹ کے حوالے سے ملک اب تک بحران سے نہیں نکل سکا ہے اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی ضروری قسط جاری کرنے کے لیے قائل نہیں کرسکا ہے۔
وزیراعظم اور وزیر خزانہ نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف کی تمام پیشگی شرائط پوری کر دی ہیں تاہم عالمی مالیاتی ادارہ غیر متحرک ہے۔
آئی ایم ایف سے قرضے کی قسط حاصل کرنے کے لیے حکومت سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارت سے ایک ارب ڈالر کی گارنٹی لینے میں کامیاب ہوئی جبکہ چین نے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر کی یقین دہانی کرائی۔
مالیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کو ان یقین دہانیوں کے ساتھ اب بھی 3 ارب ڈالر کی ضرورت ہے تاکہ قرض کی ادائیگی ہوسکے۔
ماہرین معیشت اور تجزیہ کار لکھ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کے توسیع فنڈ سہولت کے تحت 2 ارب 20 کروڑ ڈالر حاصل نہیں کرسکے گا، جس کا اختتام 30 جون کو ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان 2.2 ارب ڈالر کی ان اقساط کو حاصل کرنے کے لیے آئی ایم ایف کو قائل نہیں کرسکا تو اگلا مالیاتی سال مزید مشکل ہوگا۔
مالیاتی شعبے میں ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نئے بجٹ کے حوالے سے پیش رفت کو بغور دیکھ رہا ہے جو 9 جون کو پیش کیا جائے گا۔
مالی سال 2024 میں پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ ایک اور معاہدہ کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ دیوالیہ ہونے سے بچا جاسکے کیونکہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے 35 ارب ڈالر کی بڑی رقم درکار ہوگی۔
اگر پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مثبت رہتا ہے تو پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ سکتا ہے لیکن مقامی صنعت کو اس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوسکتا ہے۔
درآمدات میں کمی کے منفی اثرات پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں مالی سال 2023 میں شرح نمو صرف 0.5 فیصد رہنے کی توقع ہے، حالیہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں بڑی صنعتوں کی پیداوار 25 فیصد سکڑ گئی۔
تقریباً تمام اہم صنعتیں گنجائش سے کم پر کام کررہی ہیں جبکہ بُلند مہنگائی کے سبب مقامی سرمایہ کاری بھی تنزلی کا شکار ہے۔
ماہرین معاشی نمو کی کم شرح کی دو وجوہات ہیں، جس میں 21 فیصد کی بُلند ترین شرح سود اور درآمدات میں بڑی کمی ہے، انہوں نے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں بہتری کو بھی خطرناک قرار دیا۔


مشہور خبریں۔
علی محمد خان کی مسلم لیگ ن پر شدید تنقید
?️ 26 جنوری 2021علی محمد خان کی مسلم لیگ ن پر شدید تنقید اسلام آباد(سچ
جنوری
پیوٹن کی تقریر کے 16 سال بعد؛ ایک سادہ سی پیشین گوئی یا ایک انتباہ جس کو اہمیت نہیں دی گئی؟
?️ 11 فروری 202316 سال پہلے، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 2007 کی میونخ سیکیورٹی
فروری
امید ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا،شوکت ترین
?️ 21 نومبر 2022کراچی: (سچ خبریں) سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ امید ہے پاکستان ڈیفالٹ
نومبر
نیتن یاہو کے خلاف مسلسل 24ویں ہفتے مظاہرے جاری
?️ 18 جون 2023سچ خبریں:ہفتہ کو مقبوضہ علاقوں کے مکینوں نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو
جون
قدس میں صیہونی خطرناک منصوبہ E1 کی حقیقت
?️ 21 اگست 2025قدس میں صیہونی خطرناک منصوبہ E1 کی حقیقت صیہونی کابینہ نے مشرقی
اگست
غزہ میں جنگ بندی نہیں، نسل کشی جاری ہے:اقوامِ متحدہ
?️ 31 جنوری 2026غزہ میں جنگ بندی نہیں، نسل کشی جاری ہے:اقوامِ متحدہ اقوامِ متحدہ
جنوری
اسرائیل کے خلاف ایرانی حملے کے بارے میں سابق صیہونی وزیر جنگ کا تازہ ترین انکشاف
?️ 7 مئی 2025 سچ خبریں:اسرائیل کے سابق وزیر جنگ یواو گالانت نے انکشاف کیا
مئی
الاقصیٰ طوفان سے صہیونی معیشت کو ہونے والا نقصان
?️ 26 اکتوبر 2023سچ خبریں:جیسے جیسے الاقصی طوفان آپریشن اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو
اکتوبر