?️
اسلام آباد(سچ خبریں) سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ میں وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ ‘معصوم لوگوں کو قتل کرنے والوں کے حوالے سے کسی سطح پر کوئی ابہام نہیں ہےانہوں نے کہا کہ ‘یہ دہشت گردی ہے اور قصوروار دہشت گرد ہیں، ہم نے اپنی سرزمین پر دہشت گردی کی تکلیف برداشت کی ہے اور ان سب کا دکھ سمجھ سکتے ہیں، جنہوں نے بزدلانہ حملوں میں اپنے پیاروں کو کھو دیا’۔
فواد چوہدری کا یہ بیان وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے افغان ٹی وی ‘طلوع’ کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران اسامہ بن لادن کو دہشت گرد قرار دینے سے گریز کرنے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔
جب انٹرویو لینے والے نے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اسامہ بن لادن کو ‘شہید’ قرار دینے کا حوالہ دیا تو شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘یہ ایک مرتبہ پھر سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے، ان کی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور میڈیا کے مخصوص حصے نے ایسا کیا’۔
جب وزیر خارجہ سے پوچھا گیا کہ وہ وزیر اعظم کی بات سے عدم اتفاق کریں گے تو انہوں نے کچھ دیر کے لیے توقف کرنے کے بعد کہا کہ ‘میں چاہوں گا کہ اس بات سے آگے بڑھوں’۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال پارلیمنٹ میں خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے امریکا سے تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کی مدد کے باوجود کافی ‘تذلیل’ کا سامنا کرنا پڑا اور پھر افغانستان میں امریکا کی ناکامی کا الزام بھی اس پر لگا دیا گیا۔
انہوں نے واقعہ، جسے انہوں نے پاکستان کے لیے باعث ‘شرمندگی’ قرار دیا، یاد کرتے ہوئے کہا کہ ‘امریکیوں نے ایبٹ آباد آکر اسامہ بن لادن کو قتل، شہید کردیا، اس کے بعد کیا ہوا؟ پوری دنیا نے ہمیں ملامت کیا اور ہمارے خلاف بات کی’۔
اس وقت اپوزیشن نے وزیر اعظم کے اس بیان پر شدید تنقید کی تھی۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ عمران خان کا بیان ان کی پرتشدد انتہا پسندی کو سراہنے کی تاریخ کے مطابق ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ان کی حکومت میں ہی آرمی پبلک اسکول پشاور کے حملے میں ملوث ملزمان فرار ہوئے اور ڈینیئل پرل کے قتل میں ملوث ملزمان کو ریلیف ملا’۔
علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے کہا تھا کہ ‘اسامہ بن لادن کی وجہ سے ہمارا ملک آج تک دہشتگردی کا شکار ہے، وہ کارساز، لیاقت باغ اور دیگر دہشت گردی کے حملوں میں ملوث رہا’۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن کی وجہ سے ملک آج اس حالت میں ہے اور آپ (وزیراعظم عمران خان) اسمبلی کے فلور پر اسے ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں، آپ آنے والی نسلوں اور دنیا کو کیا جواب دینگے؟
تاہم وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گِل نے وزیر اعظم کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘انہوں نے لفظ شہید کے علاوہ اسامہ بن لادن کے لیے دو بار قتل کا لفظ استعمال کیا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘مقامی اور بین الاقوامی سطح پر ان کے بیان کو غیر ضروری طور پر متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ وزیر اعظم کا دہشت گردی کے خلاف عزم غیر متزلزل ہے’۔


مشہور خبریں۔
کیا اسرائیل اور حماس قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کریں گے ؟
?️ 11 نومبر 2023سچ خبریں:نیویارک ٹائمز نے جمعہ کے روز اطلاع دی ہے کہ حماس
نومبر
سید صلاح الدین کے بیٹوں کی جائیداد کی ضبطی مودی حکومت کی بدترین انتقامی کارروائی ہے، حریت رہنما
?️ 26 اپریل 2023سری نگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ مقبوضہ جموں
اپریل
کیا مغربی ایشیا کی جغرافیائی سیاست بدل رہی ہے؟
?️ 10 جنوری 2023سچ خبریں:جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر اور امریکی نیشنل انٹیلی جنس کونسل
جنوری
درجنوں فلسطینیوں کی بھوک سے موت
?️ 24 مئی 2025سچ خبریں: بین الاقوامی اداروں کی گaza میں انسانی المیے اور قحطی
مئی
فلسطینی مجاہدین کا صیہونی قابضین کو اہم انتباہ
?️ 27 فروری 2024سچ خبریں: فلسطینی مزاحمتی فورسز کے ایک ذریعے نے غزہ کے الزیتون
فروری
واٹس ایپ نے صارفین کے لیے غیر جوابی پیغامات پر ماہانہ حد مقرر کر دی
?️ 22 اکتوبر 2025سچ خبریں: انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے اسپیم اور غیر
اکتوبر
بی جے پی کے جھوٹے پروپیگنڈے کی نفی ہوگئی کہ ہر مسلمان دہشتگرد ہے، وزیر خارجہ
?️ 6 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے دورہ بھارت کو
مئی
دہری شہریت والے نگران وزراء اور مشیروں کے نام پبلک کرنے کا حکم
?️ 19 مئی 2024لاہور: (سچ خبریں) پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے کابینہ ڈویژن
مئی