ٹرمپ اور بن سلمان یمن کے تزویراتی جال میں پھنس گئے ہیں؛ صہیونی تجزیہ کار کا انکشاف

صہیونی تجزیہ کار

?️

سچ خبریں:صہیونی تجزیہ کار تسوی بارئیل کے مطابق، یمن کے خلاف سعودی عرب اور امریکہ کے لیے فوجی اور سفارتی راستے پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی امریکی کارروائی جنگ کو مزید پھیلا سکتی ہے، جبکہ انصاراللہ کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے زمینی حملہ درکار ہوگا۔

عبرانی ذرائع ابلاغ میں سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی تناظر میں معروف صہیونی تجزیہ کار تسوی بارئیل نے ’’ٹرمپ اور بن سلمان یمن کے تزویراتی جال میں‘‘ کے عنوان سے اپنے تجزیہ  میں لکھا ہے کہ یمن کی جانب سے اختیار کردہ حکمت عملی نے امریکہ اور سعودی عرب کو مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔

تجزیہ کار کے مطابق، ریاض کے ہوائی اڈے پر یمنی حملوں کے بعد، جن میں 13 افراد کی ہلاکت اور سیکڑوں کے زخمی ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، سعودی عرب کے پاس میزائلوں کو روکنے والے انٹرسیپٹرز کے ذخائر بھی ختم ہونے کے قریب ہیں۔ ایسے حالات میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اپنے اتحادیوں کی جانب سے حمایت کے پیغامات تو موصول ہوئے، لیکن انہیں عملی مدد کی کوئی واضح یقین دہانی نہیں ملی۔

ٹرمپ یمن کے تزویراتی جال میں پھنس گئے

صہیونی تجزیہ کار نے مزید لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو بن سلمان کے قریبی دوست ہیں، نے یمنی حملوں کے ردعمل میں محض ایک غیر واضح بیان جاری کیا اور کہا کہ امریکہ یمن کے خلاف کارروائی کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم انہوں نے اس کارروائی کی نوعیت یا وقت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

انہوں نے زور دیا کہ اس صورت حال میں امریکہ کے لیے پیدا ہونے والا تزویراتی جال واضح طور پر نظر آتا ہے۔ مئی 2025 میں، یمن کی جانب سے اسرائیل کے خلاف بحری ناکہ بندی کے ردعمل میں امریکہ نے یمنی اہداف پر شدید حملے کیے تھے۔ اس کے چند ہفتے بعد ٹرمپ نے عمان کی ثالثی میں یمن کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کیا۔

 اس معاہدے کے تحت یمنی فریق نے وعدہ کیا تھا کہ اگر یمن کی سرزمین پر حملے نہیں کیے جائیں گے تو وہ امریکی اہداف کو نشانہ نہیں بنائے گا۔

تجزیہ  میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ، جب یمنی فورسز یمن کے مغربی ساحل کے ساتھ آبنائے باب المندب کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں، تو بن سلمان کی جانب سے یمن پر حملے کی درخواست مسترد کرنے کے بعد امریکہ نے یمن کے ساتھ ایسے معاہدے کا اعلان کیا جس کے تحت یمن امریکی اور صیہونی اہداف پر حملے نہ کرنے کا پابند تھا۔

تسوی بارئیل کے مطابق، چنانچہ اگر ٹرمپ اپنے سعودی اتحادی کی حمایت میں یمن پر دوبارہ حملہ کرتے ہیں تو اسے معاہدے کی خلاف ورزی اور امریکی بحری جہازوں کے خلاف محاذ کو وسیع کرنے کے اقدام کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یہ صورت حال ایسے وقت میں پیدا ہوگی جب خلیج فارس کا محاذ پہلے ہی بھڑکا ہوا ہے اور آبنائے ہرمز میں بدستور خلل موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ٹرمپ یمن پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کر بھی لیتے ہیں، اور صورت حال میں ایران کی فوجی مداخلت کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی، تب بھی انصاراللہ کی حکومت گرانے کا خواب پورا کرنے کے لیے زمینی حملہ ناگزیر ہوگا۔

 ان کے مطابق، سعودی عرب کے ساتھ تزویراتی اتحاد میں شامل ممالک سمیت کوئی بھی ملک ایسی فوجی مداخلت کے لیے تیار نہیں، حتیٰ کہ خود سعودی عرب بھی نہیں۔

وہ جال جس میں سعودی عرب خود پھنس گیا

تجزیہ کار نے زور دیا کہ سعودی عرب یمن کے خلاف سخت جوابی کارروائی کی دھمکیاں تو دیتا ہے، لیکن کوئی بھی قوت یمنی فورسز کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کو مؤثر طور پر روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

 ان کے مطابق، اگر سعودی عرب مغربی ساحلی علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنے میں کامیاب بھی ہو جائے جن پر یمنی فورسز کا کنٹرول ہے، تب بھی یہ کامیابی جنگ ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔

تسوی بارئیل نے یمن میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان گہری تقسیم، باہمی عدم اعتماد اور اتحاد کے فقدان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عملی طور پر سعودی عرب کے پاس یمنی افرادی قوت تو موجود ہے، لیکن لازماً ایسی فوج نہیں جو اس کی کمان کے تحت ہو اور اس کے مسلط کردہ منصوبے پر عمل کرنے کی صلاحیت یا آمادگی رکھتی ہو۔

تجزیہ  میں مزید کہا گیا ہے کہ سفارتی راستہ بھی حوصلہ افزا نہیں اور اس حوالے سے کوئی واضح امکان دکھائی نہیں دیتا۔ جنگ بندی پر مشتمل کسی بھی سفارتی اقدام کا مطلب یہ ہوگا کہ یمنی فورسز ساحلی شہروں کے ان علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھیں گی جہاں وہ پہلے سے قابض ہیں۔ اس کے برعکس، یمنی فورسز کی مزید پیش قدمی سعودی عرب کو رعایتیں دینے پر مجبور کر سکتی ہے۔

تسوی بارئیل کے مطابق، جنگ بندی کا کوئی بھی معاہدہ سعودی عرب پر یمن کے بھاری مالی مطالبات کا بوجھ ڈالے گا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایسے معاہدے میں شامل سیاسی شرائط انصاراللہ تحریک کو بین الاقوامی سطح پر ایک حکومت کی حیثیت سے قانونی و سیاسی جواز فراہم کر سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں ایران کی ثالثی کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چند روز قبل سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران سیاسی حل کے ذریعے اس تنازعے کو ختم کرنے میں مدد کی پیشکش کی تھی۔ اس طرح کی ثالثی ایران کو علاقائی تنازعات کے حل میں ایک مؤثر شراکت دار کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔

اس صہیونی تجزیہ کار نے اپنے تجزیہ  کے اختتام پر زور دیا کہ ایران ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ یمنی فورسز پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں اور وہ اپنے فیصلے خود کرتی ہیں؛ ان کے بقول، یمنی فورسز کا طرز عمل بھی اسی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

 لہٰذا، اگر سعودی عرب سفارتی حل کا خواہش مند بھی ہو تو موجودہ حالات میں ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ یمنی فریق جنگ بندی پر غور کرنے کے لیے تیار ہو۔

مشہور خبریں۔

فلسطینی قیدیوں کے خلاف صیہونی جرائم کا سلسلہ جاری

?️ 4 ستمبر 2022سچ خبریں:فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک کا کہنا ہے کہ صیہونی حکومت

70 لاکھ سے زائد یمنی غذائی قلت کا شکار ہیں:اقوام متحدہ کا اعلان

?️ 20 ستمبر 2021سچ خبریں:یمن میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کی رابطہ

سپیکر نے 26 ارکان اسمبلی کیخلاف نااہلی ریفرنسز پر کارروائی شروع کردی

?️ 10 جولائی 2025لاہور (سچ خبریں) پنجاب اسمبلی کے 26 معطل ارکان اسمبلی کے خلاف

اسرائیل کے پاس لبنان سے انخلا کے سوا کوئی راستہ نہیں:حزب اللہ

?️ 24 جون 2026سچ خبریں:حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے محرم الحرام

ایران کے تجارت کیلئے مکمل سہولت فراہم کرنے پر شکر گزار ہیں۔ پاکستانی سفیر

?️ 17 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) ایران میں پاکستانی سفیر مدثر علی ٹیپو نے

ایران کے خلاف اسرائیل کا حملہ کیسا تھا؟ صیہونی میڈیا کی زبانی

?️ 27 اکتوبر 2024سچ خبریں: صہیونی میڈیا نے ایران پر نمائشی حملے اور اس کی

شہید قاسم سلیمانی نے مغربی ایشیا میں بحرانوں کے پھیلاؤ کی زنجیر کو روکا:نجاح محمد علی 

?️ 28 دسمبر 2025 شہید قاسم سلیمانی نے مغربی ایشیا میں بحرانوں کے پھیلاؤ کی

غزہ میں فلسطینی بستیوں کو مٹانے کی ناپاک کوشش، انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے اسے جنگی جرم قرار دے دیا

?️ 17 مئی 2021غزہ (سچ خبریں) ناپاک دہشت گرد ریاست اسرائیل کی جانب سے غزہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے