سعودی عرب کی یمن کے مقابلے میں شرمناک انٹیلی جنس ناکامی؛ ایک دہائی کے تجربے کے باوجود ریاض ناکام کیوں؟

انٹیلی جنس ناکامی

?️

سچ خبریں:یمن کے خلاف سعودی عرب کی انٹیلی جنس ناکامی ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ریاض یمنی فورسز کی فوجی پیش رفت، بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی اور دفاعی صنعت کی ترقی کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہا، جبکہ امریکہ پر انحصار نے بھی سعودی مشکلات میں اضافہ کیا۔

یمن کے خلاف جارحیت اور اس ملک کی ناکہ بندی کے جواب میں یمنی فورسز سعودی عرب کے خلاف اپنی حیران کن کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس تنازعے کے موجودہ مرحلے میں ایک اہم پہلو سعودی عرب کی واضح انٹیلی جنس ناکامی اور ریاض کی جانب سے میدان جنگ کی بدلتی صورت حال اور یمنی مسلح افواج کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کو سمجھنے میں ناکامی ہے۔

ایک دہائی کے تجربے کے باوجود یمن کے مقابلے میں سعودی عرب کی شرمناک انٹیلی جنس ناکامی

روزنامہ الاخبار کو باخبر ذرائع نے بتایا کہ یمن میں سعودی عرب کی انٹیلی جنس ناکامی ان نمایاں ناکامیوں میں سے ایک ہے جن کا سامنا سعودی قیادت کو 2015 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ ناکامی محض میدان جنگ میں حکمت عملی کی غلطیوں یا یمنی فورسز کے تیار کردہ جال میں پھنس جانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ امریکہ نے بھی یمن کے خلاف اپنی فضائی کارروائیوں کے دوران متعدد مرتبہ انٹیلی جنس کی سنگین غلطیاں کیں۔

تاہم، قابل توجہ بات یہ ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں جارح اتحاد کی یمن کے خلاف جنگ کو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ریاض اپنی انٹیلی جنس ناکامیوں پر قابو پانے یا ایسا نظام تشکیل دینے میں کامیاب نہیں ہو سکا جو یمن کے پیچیدہ حالات، زمینی صورت حال میں تبدیلیوں اور طاقت کے حقیقی توازن کا درست اندازہ لگا سکے۔

باخبر ذرائع کے مطابق، یمن میں سعودی عرب کی انٹیلی جنس ناکامی کی ایک وجہ سعودی قیادت کا تکبر اور غرور بھی ہے، جس کے باعث اس نے یمنی عوام، ان کی صلاحیتوں اور ان کی ممکنہ طاقت کو کم تر سمجھا۔

تاہم، حالیہ جھڑپوں کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یمن کی کارروائیوں کے آغاز پر سعودی عرب مکمل طور پر بے خبر تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کارروائیوں سے کئی ہفتے پہلے صنعاء کی قیادت نے عوامی سطح پر اور ثالثوں کے ذریعے خبردار کر دیا تھا کہ روڈ میپ پر عمل درآمد سے مسلسل انکار کی صورت میں یمن فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرے گا۔

فوجی صلاحیتوں اور تیاریوں کے حوالے سے بھی یمنی فورسز کئی ماہ پہلے سے بھرتیوں، تربیت اور ملک بھر میں فوجی مشقوں کا سلسلہ شروع کر چکی تھیں۔ ان مشقوں میں ان جنگی حکمت عملیوں کی مشق کی گئی تھی جو اب میدان جنگ میں استعمال کی جا رہی ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، صنعاء کی فورسز کی جانب سے مغربی ساحلی علاقوں کو آزاد کرانے سے ایک ہفتہ قبل سعودی عرب کے حمایت یافتہ جنگجوؤں نے اسے ان فوجی نقل و حرکت سے آگاہ کر دیا تھا جو ان کے لیے خطرہ بن رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ یمنی فورسز آبنائے باب المندب کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ان جنگجوؤں نے سعودی عرب سے فضائی مدد اور صنعاء کی فورسز کا مقابلہ کرنے کے لیے تکنیکی معاونت بھی طلب کی تھی۔ اسی دوران امریکی حکام نے بھی سعودی عرب کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں، لیکن اس کے باوجود سعودی عرب کو ایک شرمناک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

سعودی عرب کی انٹیلی جنس ناکامی صرف صنعاء کی فوجی طاقت میں اضافے کے حجم کا اندازہ لگانے میں ناکامی تک محدود نہیں، بلکہ یمن کی دفاعی صنعت میں مقداری اور معیاری ترقی کو سمجھنے میں بھی ریاض ناکام رہا ہے۔

مزید برآں، سعودی عرب جنوبی یمن میں سلفی جنگجوؤں کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب رہا تھا، جن میں العمالقہ بریگیڈز بھی شامل ہیں۔ اس نے دیگر سعودی حمایت یافتہ گروہ بھی تشکیل دیے، خصوصاً وہ عناصر جنہیں الدرع الوطنی یعنی نیشنل شیلڈ کہا جاتا ہے۔ لیکن بالآخر سعودی عرب اپنے لیے ایک متحد اور مربوط جنگجو نیٹ ورک قائم نہ کر سکا، اور یہ گروہ آپس میں مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں ناکام رہے۔

سعودی عرب اور امریکی حمایت کا سراب

اس کے باوجود سعودی عرب کی حکمت عملی کی سب سے بڑی خامی امریکہ کے حفاظتی حصار پر مسلسل انحصار میں پوشیدہ ہے، حالانکہ بار بار کے تجربات اس حمایت کی حدود کو واضح کر چکے ہیں۔

سعودی عرب کو اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف غلط اندازوں پر مبنی ایک غیر محتاط جنگ میں داخل ہونے کے بعد، جس کے پورے خطے اور دنیا پر ناقابل تصور اثرات مرتب ہوئے، ایک اور خطرناک جنگ میں الجھنے کا خطرہ مول نہیں لے گا۔

یورپی ممالک بھی کبھی ایسی جنگوں میں شامل ہونے کے خواہش مند نہیں رہے۔ اس کے باوجود سعودی قیادت امریکہ پر بھروسا کرتی رہی اور اب تک اس ملک پر اپنے یک طرفہ انحصار سے دست بردار نہیں ہو سکی۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں اسی صورت حال کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ سعودی عرب، جو کئی دہائیوں سے امریکہ کے فراہم کردہ سلامتی کے حصار پر انحصار کرتا رہا ہے، اب خود کو ایسی جنگ کے نتائج کا سامنا کرنے پر مجبور پا رہا ہے جس کا انتخاب اس نے خود نہیں کیا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں واشنگٹن بھی ایک نئی اور وسیع فوجی مداخلت میں شامل ہونے کا خواہش مند دکھائی نہیں دیتا، خصوصاً وسط مدتی انتخابات سے پہلے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کی جانب سے مدد کی درخواستیں 2 مرتبہ مسترد کر دیں، جس سے خلیجی ممالک کی سلامتی کے تحفظ کے حوالے سے امریکہ کے وعدوں کی قابل اعتماد حیثیت پر سوالات پیدا ہوئے۔

واشنگٹن پوسٹ نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس صورت حال میں سعودی عرب خود کو 2 تلخ راستوں کے درمیان پاتا ہے: ایک فوجی کارروائیوں میں شدت لانا، جس کے نتیجے میں یمنی فورسز کے ساتھ ایک طویل اور غیر حل شدہ محاذ قائم ہو سکتا ہے؛ اور دوسرا کشیدگی میں کمی لانا، جسے کمزوری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اور اس سے یمن کو مزید حملوں کی ترغیب مل سکتی ہے۔

امریکی اخبار نے زور دیا کہ اسی دوران یہ خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ یہ بحران علاقائی اتحادوں کی تشکیل نو کا سبب بن سکتا ہے اور خلیجی ممالک کے امریکہ کی سلامتی سے متعلق ضمانتوں پر اعتماد کو کمزور کر سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

ٹول ریٹس میں ایک بار پھر 50 فیصد تک اضافہ

?️ 3 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) تین ماہ سے بھی کم عرصے میں نیشنل

ایٹالوی وزیر اعظم اور دو وزیروں کے خلاف غزہ عالمی عدالت میں مقدمہ دائر،غزہ نسل کشی کا الزام 

?️ 8 اکتوبر 2025ایٹالوی وزیر اعظم اور دو وزیروں کے خلاف غزہ عالمی عدالت میں

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی لوٹ آئی، کے ایس ای-100 انڈیکس میں 4 ہزار 700 پوائنٹس اضافہ

?️ 14 اکتوبر 2025 کراچی: (سچ خبریں) پاک-افغان کشیدگی میں کمی اور تحریک لبیک پاکستان

ایک ہزار بین الاقوامی مصنفین کی جانب سے اسرائیلی ثقافتی اداروں کا بائیکاٹ

?️ 29 اکتوبر 2024سچ خبریں: Yediot Aharanot نے اعلان کیا کہ دنیا کے مختلف حصوں

مشرق وسطی تنازع کے باعث توانائی بچت ناگزیر، عوام ارتھ آور میں شامل ہوں۔ وزیراعظم

?️ 28 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ

آئرلینڈ کے صحافیوں نے کام کی ہڑتال کی

?️ 1 ستمبر 2022سچ خبریں:    نیشنل یونین آف جرنلسٹس کے ارکان بدھ کے روز

امریکہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطین کے خلاف یکطرفہ کارروائی سے باز رہے

?️ 4 دسمبر 2021سچ خبریں :  امریکی وزیر خارجہ نے صیہونی حکومت سے مطالبہ کیا

امریکی عوام کی اکثریت ٹرمپ کی کشیدگی پیدا کرنے والی پالیسی کے خلاف

?️ 19 مئی 2026 سچ خبریں:نیویارک ٹائمز کے ایک سروے کے مطابق، 64 فیصد امریکیوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے