ممدانی اور ٹرمپ کا نیتن یاہو پر ٹکراؤ، قانونی تنازع کے سیاسی اثرات

ممدانی

?️

سچ خبریں:نیویارک کے میئر زہران ممدانی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بنیامین نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری پر اختلاف نے امریکہ میں وفاقی اختیارات، بین الاقوامی قانون اور غزہ جنگ سے متعلق سیاسی تقسیم کو نمایاں کر دیا۔

نیویارک کے میئر زہران ممدانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری کے معاملے پر اختلاف نے ایک مرتبہ پھر امریکہ میں وفاقی حکومت اور مقامی انتظامیہ کے اختیارات کی حد بندی کو نمایاں کر دیا ہے۔

یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ممدانی نے ابتدا میں اعلان کیا تھا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو انہیں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کی بنیاد پر گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

تاہم بعد ازاں قانونی مشاورت کے بعد انہوں نے واضح کیا کہ نیویارک کی میونسپل حکومت یا اس کے پولیس حکام کو ایسا کوئی اختیار حاصل نہیں، کیونکہ یہ معاملہ وفاقی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ نیتن یاہو کو امریکی سرزمین پر گرفتار نہیں کیا جائے گا اور انہوں نے اسرائیل کی حمایت کے اپنے مؤقف کو دہرایا۔

 امریکی قانون کیا کہتا ہے؟

امریکی آئینی نظام کے تحت خارجہ پالیسی، بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد اور بین الاقوامی عدالتوں سے تعاون کا اختیار صرف وفاقی حکومت کے پاس ہے۔ ریاستی یا مقامی حکام، بشمول نیویارک کے میئر، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ پر ازخود عمل درآمد نہیں کر سکتے۔

اس کے علاوہ امریکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا رکن بھی نہیں ہے اور اس کی قانونی عمل داری کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے عدالت کی جانب سے جاری کردہ وارنٹ امریکی سرزمین پر خود بخود قابلِ نفاذ نہیں ہوتے۔

امریکی قانون امریکن سروس ممبرز پروٹیکشن ایکٹ 2002 کے تحت ریاستی اور مقامی اداروں کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ساتھ ایسے معاملات میں تعاون سے بھی روکتا ہے، جبکہ امریکہ سے کسی شخص کو اس عدالت کے حوالے کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔

 پہلے بھی ایسی مثال سامنے آ چکی ہے

یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی امریکی میئر نے نیتن یاہو کی گرفتاری کی بات کی ہو۔ اس سے قبل ڈیئربورن (مشی گن) کے میئر عبداللہ حمود نے بھی کہا تھا کہ اگر نیتن یاہو یا سابق اسرائیلی وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ ان کے شہر آئے تو انہیں گرفتار کیا جائے گا، تاہم یہ صورتِ حال کبھی عملی طور پر پیش نہیں آئی۔

 امریکہ میں سیاسی تقسیم مزید نمایاں

ماہرین کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک قانونی بحث نہیں بلکہ امریکہ کے اندر موجود سیاسی تقسیم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

ایک طرف زہران ممدانی کا مؤقف ہے کہ جن رہنماؤں پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات ہیں، انہیں جواب دہ ہونا چاہیے، جبکہ دوسری جانب ٹرمپ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کے حامی ہیں۔

غزہ کی جنگ نے گزشتہ مہینوں میں امریکی سیاست میں واضح اختلافات پیدا کیے ہیں۔ خاص طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقے، جامعات، انسانی حقوق کے کارکن اور نوجوان ووٹر اسرائیلی پالیسیوں پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقید کر رہے ہیں۔

تازہ گیلپ سروے کے مطابق امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹک ووٹروں، میں فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کی شرح گزشتہ دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور پہلی بار یہ اسرائیل کے حق میں ہمدردی سے زیادہ ہو گئی ہے۔

 سیاسی پیغام قانونی حقیقت سے بڑا

اگرچہ موجودہ امریکی قوانین کے تحت نیویارک کے میئر نیتن یاہو کو گرفتار نہیں کر سکتے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ممدانی کا مؤقف ایک اہم سیاسی پیغام رکھتا ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کی جنگ اور اسرائیلی قیادت پر لگنے والے جنگی جرائم کے الزامات اب صرف مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ نہیں رہے بلکہ امریکی داخلی سیاست، عوامی رائے اور انسانی حقوق کی بحث کا بھی مرکزی موضوع بن چکے ہیں۔

مشہور خبریں۔

مسجد اقصیٰ میں ہونے والا دھماکے

?️ 2 اکتوبر 2022سچ خبریں:    فلسطینی تحریک حماس کے سیاسی بیورو کے رکن روحی

26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں کی سماعت میں آئینی بینچ اور فل کورٹ پر ججز کے سخت سوالات

?️ 13 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف

ریاست کے خلاف بغاوت کرنیوالوں کو سیاست کا حق ملے گا نہ معافی، رانا ثنا اللہ

?️ 5 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب

فلسطینی قیدیوں کی رہائی؛ صہیونی رہنماؤں کے درمیان اختلاف کا نیا موضوع

?️ 3 جولائی 2024سچ خبریں: تل ابیب کابینہ کی داخلی سلامتی کے وزیر اٹمر بن

فتنہ الہندوستان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا گٹھ جوڑ، متعدد دہشتگرد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل

?️ 29 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) فتنہ الہندوستان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا گٹھ

ناروے اور جرمنی یوکرین کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش میں

?️ 24 اگست 2025سچ خبریں: انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کی اپنے ملک کے

غزہ کی پیش رفت پر بن سلمان کا تازہ ترین موقف

?️ 20 اکتوبر 2023سچ خبریں:سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری

امریکہ، انگلینڈ، فرانس اور جرمنی 13 سال سے شام کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟

?️ 18 مارچ 2024سچ خبریں: شام کی وزارت خارجہ نے اس ملک کے بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے