مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس کل ہوگا، ماہرین کو شرح سود میں بڑی کمی کی امید

?️

کراچی: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی ( ایم پی سی) کا جلاس کل منعقد ہوگا، جس میں زری پالیسی اور بنیادی شرح سود کا فیصلہ کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی بینک نے بتایا کہ کمیٹی جمعرات 12 ستمبر 2024 کو مانیٹری پالیسی کے لیے اجلاس منعقد کرے گی جس کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایک پریس ریلیز کے ذریعے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا۔

شرح سود کے فیصلے پر اقتصادی اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جس میں نمایاں کمی کے مطالبات کے حوالے سے محدود توقعات ہیں، اگرچہ بہت سے مالیاتی ماہرین شرح سود میں معمولی کمی کی پیش گوئی کر رہے ہیں لیکن کاروباری برادری ترقی کو تیز کرنے کے لیے بہت زیادہ کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

موجودہ شرح سود 19.5 فیصد ہے جبکہ افراط زر کی شرح اگست میں 9.6 فیصد ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں حقیقی شرح سود 10 فیصد تک پہنچ گئی، اس نمایاں فرق کی وجہ سے شرح میں نمایاں کمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مالیاتی ماہرین عام طور پر 150 بیسس پوائنٹس کی کمی کی توقع کر رہے ہیں، کچھ نے 200 بیسس پوائنٹس تک تنزلی کی پیش گوئی کی ہے، تاہم صنعتی رہنما اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کے لیے 500 بیسس پوائنٹس کی مزید کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مالی سال 2024 کے پورے عرصے کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود کو 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر برقرار رکھا جبکہ حالیہ مہینوں میں اس شرح میں لگاتار 2 دفعہ کمی کی گئی، جس میں ابتدائی طور پر 150 بیسس پوائنٹس اور پھر 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کی گئی جس کی وجہ سے کل کمی 2.5 فیصد پوائنٹس تک پہنچ گئی۔

ان کٹوتیوں کے باوجود افراط زر اور شرح سود کے درمیان فرق نے نجی شعبے کی جانب سے مزید کمی کے مطالبات کو ہوا دی ہے۔

حکومت نے بارہا کہا ہے کہ انٹریشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف) سے حاصل کیا گیا 7 ارب ڈالر کا قرض آخری ہوگا، بشرطیکہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط وقت پر پوری ہو جائیں۔

مالیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ وزارت خزانہ کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ شرح سود میں تنزلی توقعات سے کم رہنے کا امکان ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا مقصد افراط زر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے 200 بیسس پوائنٹس سے زیادہ کی کمی نہیں کرنا چاہتا۔

واضح رہے کہ مرکزی بینک نے بہت سے مسائل کا سامنا کیا ہے جس میں شرح سود میں تواتر سے اضافہ کرنے کے باوجود افراط زر کی شرح میں 38 فیصد اضافہ ہونا شامل ہے، تاہم گزشتہ تین ماہ کے دوران افراط زر کی شرح میں تیزی سے کمی نے حکومت کے لیے نجی شعبے میں لیکویڈیٹی آنےاور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کا موقع فراہم کیا ہے۔

رواں مالی سال 2025کے لیے ترقی کی ممکنہ شرح کا ہدف 3.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ گزشتہ مالی سال 2024 میں یہ شرح 2.4 فیصد رہی تھی، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ قرض لینے کی لاگت کو کم کرنے سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی، معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور انتہائی ضروری ملازمتوں کے امکانات پیدا ہوں گے، خاص طور پر ان نوجوان پاکستانیوں کے لیے جو بیرون ملک مواقعوں کی تلاش میں ہیں۔

مشہور خبریں۔

ایم پی او حکم نامہ معطل، لاہور ہائیکورٹ کا زرتاج گل کو فوری رہا کرنے کا حکم

?️ 8 اکتوبر 2024ملتان:(سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے ایم پی او حکم نامہ معطل کرتے

یہ تاثر درست نہیں کہ وظیفہ دے کر حکومت مسلط ہوجائے گی۔ طاہر اشرفی

?️ 31 اکتوبر 2025لاہور (سچ خبریں) پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی

افغانستان میں کوئی فریق فیورٹ نہیں ہے: وزیر خارجہ

?️ 3 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغانستان

کویت کا پہلا مصنوعی سیارہ خلا میں کامیابی سے روانہ

?️ 2 جولائی 2021کویت سٹی(سچ خبریں) سائنسی میدان میں کویت نے اہم کامیابی حاصل کرتے

اپوزیشن جہاں بھی جائے گی ناکامی اس کا مقدر ہے: وزیر داخلہ

?️ 16 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اپوزیشن

بھارت کشمیریوں کو انکے بنیادی حقوق سے محروم کر رہا ہے ، حریت کانفرنس

?️ 7 مارچ 2025سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت

ٹرمپ نے بنیادی ٹیکس  کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دی

?️ 24 جولائی 2025ٹرمپ نے بنیادی ٹیکس  کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 15

ملیشیا کے وزیر اعظم کا یحییٰ السنوار کی شہادت پر حیرت انگیز بیان

?️ 20 اکتوبر 2024سچ خبریں: ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے حماس کے سیاسی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے