?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی کی پہلی سہ ماہی میں جو ٹیکس اکٹھا کیا ہے وہ آئی ایم ایف کے ہدف سے زیادہ ہے اور اس عرصے کے دوران آئی ایم ایف کے پروگرام پر مؤثر طریقے سے عمل کیا گیا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر خزانہ نے کہا کہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ 279 روپے کے ساتھ مضبوط ہو گیا ہے اور اس کی قدر میں 8 فیصد کی بہتری آئی ہے، انٹربینک میں ڈالر 305 روپے پر پہنچ گیا تھا اور اوپن مارکیٹ میں اس سے زیادہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب یہ مسئلہ آیا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہت اچھا کردار ادا کیا اور میں ان کی شکر گزار ہوں کیونکہ ہمیں پتا تھا کہ ڈالر کی غیرقانونی اسمگلنگ اور غلط استعمال ہو رہی ہے، اس کے بعد ایکسچینج کمپنیوں میں اصلاحات کی گئیں اور اب یہ معاملہ کنٹرول میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں غیرقانونی کرنسی کے استعمال پر لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، پاکستانی روپیہ مستحکم رکھنے میں ہم ظاہری اقدامات نہیں کر سکتے، ایکسچینج ریٹ کا تعین مارکیت ہی کرتی ہے لیکن ہماری کرنسی کا غلط استعمال غیرقانونی ہے اور اس کو روکنا تمام حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
شمشاد اختر نے کہا کہ اینٹی اسمگلنگ کی مہم پر بہت توجہ دی جا رہی ہے اور غیرقانونی لین دین اور ذخیرہ اندوزی کو قابو کیا جا رہا ہے، اس کے لیے میں اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سلام پیش کرتی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم آئے تھے تو مہنگائی بہت زیادہ تھی، میں یہ نہیں کہتی کہ ہم نے مہنگائی ختم کر دی لیکن ہم نے اسے قابو میں لانے کی کوشش کی ہے اور اس وقت مہنگائی نیچے کی جانب گامزن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جو ٹیکس اکٹھا کیا ہے وہ آئی ایم ایف کے ہدف سے زیادہ ہے، میں نے انہیں ریونیو مزید بڑھانے کا کہا ہے کیونکہ حکومت چلانے کے لیے پیسہ چاہیے۔
نگران وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے جن اصلاحات کا کہا تھا ہم ان پر تیزی سے عمل درآمد کی کوشش کر رہے ہیں اور پہلی سہ ماہی کے دوران آئی ایم ایف کے پروگرام پر مؤثر طریقے سے عمل کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم دو تاریخ کو پاکستان آ رہی ہے اور وزارت خزانہ کی ٹیم اور دیگر وزارتیں انہیں پروگرام کے حوالے سے آگاہ کریں گی، ہم نے ان کی تمام چیزوں پر باریک بینی سے عمل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کو دیکھنا اس لیے ضروری ہے کہ جب آپ بینک سے پیسے لینے جاتے ہیں تو وہ پہلے آپ کی کریڈٹ کی تاریخ دیکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ آپ نے پیسہ کیسے خرچ کیا ہے، جب آئی ایم ایف فنڈز کا اجرا کرے گا تو دیگر بین الاقوامی اداروں سے بھی پیسہ آئے گا۔


مشہور خبریں۔
معیشت کی ڈیجیٹائزیشن سے شفافیت کے فروغ میں مدد ملے گی۔ شہباز شریف
?️ 28 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ
جولائی
یمن کے عوام کی جانب سے مزاحمتی محورکی حمایت جاری
?️ 18 اپریل 2026 سچ خبریں:صنعاء اور یمن کے دیگر صوبوں میں آج بروز جمعہ
اپریل
مقبوضہ کشمیر میں کل مکمل ہڑتال کی جائیگی
?️ 30 نومبر 2023سرینگر: (سچ خبریں)
نومبر
بیروت میں ہونے والے پیجرز دھماکوں کے چار ممکنہ احتمال
?️ 18 ستمبر 2024سچ خبریں: ذرائع کے مطابق بیروت میں پیجرز کے متواتر دھماکوں کے
ستمبر
بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی روسوفوبک پالیسیوں پر ماسکو کا ردعمل
?️ 15 نومبر 2025سچ خبریں: روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اٹلی میں ہونے والے
نومبر
زلنسکی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے؛ وجہ؟
?️ 15 جولائی 2025سچ خبریں: یوکرینی ذرائع کے حوالے سے برطانوی جیو پولیٹیکل تجزیہ کار
جولائی
وفاقی حکومت کا ارسا ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ سندھ حکومت نے مسترد کردیا
?️ 9 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت کا ارسا ایکٹ میں ترمیم کے
ستمبر
امریکہ غزہ کے لوگوں کی نسل کشی میں برابر شریک
?️ 18 اپریل 2025سچ خبریں: جیوش وائس فار پیس تنظیم نے اپنے انسٹاگرام پیج پر خان
اپریل