قومی اسمبلی میں ایک سانحہ ہوا،جس پر سب کو تشویش تھی، اسپیکر پنجاب اسمبلی

ملک احمد خان

?️

لاہور: (سچ خبریں) اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے احاطے سے اراکین کی گرفتاری پر رد عمل دیتے ہوئے اسے تشویشناک سانحہ قرار دیا ہے۔

لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ایک سانحہ ہوا، جس پر سب کو تشویش تھی، مستقبل میں احتیتاط رکھی جائے تو بہتر ہوگا۔

ملک احمد نے کہا کہ آج بانی پی ٹی آئی عمران خان پر مقدمات ہیں، آج جس جماعت کی حکومت ہے، ماضی میں اس کی لیڈرشپ جیل میں تھی، جب آپ یہ سب کر رہے تھے تو آپ کو احساس نہیں تھا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات ہوتے ہیں لیکن اس کے محرکات بھی ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کل میں نے اسپیکر قومی اسمبلی کا بیان سنا، انہوں نے کہا کہ اراکین اسمبلی کو ایک ساتھ بیٹھنا چاہیے، خورشید شاہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی جو کہ خوش آئند ہے، اچھی بات ہے اراکین کو اسمبلی کو چلانے سے متعلق معاملات طے کرنے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنما کے ساتھ قائد ایوان کو بھی استحقاق کرنا چاہیے کہ جب وہ گفتگو کریں تو ان کو سنا جائے، اس بات پر دکھ کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران شاید ہی کوئی ایسا بجٹ ہو جس میں سن سکا ہوں، جب بھی بجٹ پیش ہوتا ہے تو اتنا شور شرابہ ہوتا ہے کہ کچھ سنائی نہیں دیتا، ، اگر اراکین کو دستاویزات پڑھنے کی فرصت نہیں ہے تو پھر آپ اپنے نمائندگی کے حق کے ساتھ وفا نہیں کرتے۔

ملک احمد خان نے کہا کہ میں گزشتہ دنوں 15 اراکین کی رکنیت معطل کی، بعد ازاں ایک کمیٹی قائم کی اور اراکین کو بحال کردیا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ بعض اوقات آپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی نظم و ضبط یقینی بنانے کے لیے اراکین کو معطل کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے گزشتہ دہائیوں کے دوران پارلیمنٹ نے اپنی جگہ چھوڑی ہے، آپ کے سامنے ایک کام غلط ہوگیا، بیسک اسٹرکچر کا جو فیصلہ ہے، اس پر پارلیمنٹ خاموش کیوں ہے، آئین میں اختیارات کی تقسیم واضح ہے، تین ستون ہیں، عدلیہ، ایگزیکٹو اور مقننہ اور کون طے کرے گا کہ کون کیا ہوگا، یہ پارلیمان کرے گا، ایگزیکٹو کو چیک کون کرے گا، آئین کے مطابق یہ پارلیمان کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس آئین کی تشریح میں آپ اس کے بنیادی ڈھانچے میں یہ فیصلہ کردیں کہ تقرریاں بھی خود کریں گے، تو پارلیمنٹ کیوں نہیں پوچھتی کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے، اس کو پارلیمنٹ کو پوچھنا چاہیے، جب تک آپ ان چیزوں کو درست نہیں کریں گے، جب تک بنیادوں کو درست نہیں کریں گے تو یہ گنجائش آپ خود چھوڑ رہے ہیں۔

ملک احمد خان نے کہا کہ رہنماؤں اس پر سوال کیوں نہیں اٹھاتے، اراکین کی گرفتاری پر تکلیف ہے، آئین پر ہوئے حملے پر آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہے، سیاسی جماعتوں کو اس پر بات کرنی چاہیے، ایک فیصلہ آئین کا حلیہ بگاڑ دے، آپ اس پر سوال نہیں اٹھا سکتے، پھر تو آپ جگہ چھوڑ رہے ہیں، کوئی وہ جگہ لے گا، مجھے تکلیف نے ہم نے کافی جگہ چھوڑ دی، اس کا نقصان ملک اٹھا رہا ہے، جمہوریت کا اپنا فائدہ ہے، بد ترین جمہوریت بھی کسی غیر جموری طرز حکمرانی سے بہتر ہے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ کل مولانا فضل الرحمٰن نے آئینی ترمیم کی اچھی بات کی، اس فیصلے پر بات کریں جس نے پورے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا، اس پر ایک سوال تو اٹھائیں، میں مخاصمت کو ہوا نہیں دے رہا، چاہتا ہوں کہ بنیادیں درست کریں۔

مشہور خبریں۔

عرب حکمرانوں نے شام میں تسلیم کی شکست ، سعودی لبنان میں خانہ جنگی کے خواہاں : حسن نصراللہ

?️ 12 نومبر 2021سچ خبریں: لبنان میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ

ہمیشہ قوموں کو نقصان کیسے پہنچاتا ہے؟ وزیر اطلاعات پنجاب کی زبانی

?️ 13 جولائی 2024سچ خبریں: وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ نظریہ

متحدہ عرب امارات جنگ کے جاری رہنے کا ذمہ دار

?️ 19 جون 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ میں سوڈان کے نمائندے ادریس محمد نے کہا کہ

امریکہ کو ایران کے ساتھ معاہدے کی زیادہ ضرورت کیوں ہے؟

?️ 20 مئی 2025سچ خبریں:  گزشتہ دہائیوں میں، ایران کے جوہری پروگرام نے امریکہ کی

مبینہ بیٹی چھپانے کا معاملہ، نااہلی کیس میں عمران خان کے وکیل کو جواب جمع کرانے کی مہلت

?️ 20 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے مبینہ بیٹی کوکاغذات میں

طالبان کے وزیرداخلہ پہلی بار میڈیا کے سامنے

?️ 5 مارچ 2022سچ خبریں:طالبان کے موجودہ وزیر داخلہ جو اس تنظیم کےسینئر نائب رہنما

عروج آفتاب مسلسل تیسرے سال ’گریمی‘ ایوارڈز کے لیےدو بار نامزد

?️ 11 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستانی نژاد امریکی گلوکارہ عروج آفتاب مسلسل تیسرے

جمعیت علماء اسلام ف کا ملک میں نئے عام انتخابات کا مطالبہ

?️ 22 ستمبر 2024کراچی: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام ف نے ملک میں نئے عام انتخابات کا مطالبہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے