?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیوں پر سماعت کے دوران عدالت نے اٹارنی جنرل سے زیر حراست 103 افراد کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
ڈان نیوز کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ نے مقدمے کی سماعت کی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس مسرت ہلالی جسٹس عرفان سعادت خان بینچ میں شامل ہیں۔
سماعت کے آغاز پر درخواستگزار جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے بینچ کے سائز پر اعتراض عائد کردیا۔
انہوں نے کہا کہ 103 ملزمان زیر حراست ہیں، ان کے اہل خانہ عدالتی کارروائی میں شامل ہونا چاہتے ہیں چنانچہ عدالت اہل خانہ کو سماعت دیکھنے کی اجازت دے۔
اس پر جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ کمرہ عدالت بھرا ہوا ہے، انہیں کہاں بٹھائیں گے؟ عدالت آنے پر اعتراض نہیں ہے، ان کا معاملہ دیکھ لیتے ہیں۔
بعد ازاں جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کے وکیل نے 9 رکنی لارجر بینچ بنانے کی استدعا کر دی، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی متفرق درخواست میں بھی 9 رکنی لارجر بینچ بنانے کی استدعا کی تھی، عدالت سے استدعا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کمیٹی سے گزارش کرے کہ 9 رکنی بینچ بنایا جائے۔
سماعت کے دوران خیبرپختونخوا حکومت نے فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف دائر اپیلیں واپس لینے کی استدعا کر دی، خیبرپختونخوا حکومت کے وکیل نے صوبائی کابینہ کی قرارداد عدالت میں پیش کر دی۔
خیبرپختونخوا حکومت کے وکیل نے دلیل دی کہ انٹرا کورٹ اپیلیں واپس لینا چاہتے ہیں۔
اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ کابینہ قرارداد پر تو اپیلیں واپس نہیں کر سکتے، مناسب ہوگا کہ اپیلیں واپس لینے کے لیے باضابطہ درخواست دائر کریں۔
بعد ازاں فوجی عدالتوں کے خلاف درخواست گزاروں نے بینچ کے ساتھ نجی وکلا پر بھی اعتراض عائد کر دیا، اس موقع پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سرکاری اداروں کی جانب سے اٹارنی جنرل نے پانچ اپیلیں دائر کر رکھی ہیں، بعض وزارتوں کی جانب سے نجی وکلا کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، اٹارنی جنرل نے خود اپیلیں دائر کی ہیں تو عوام کا پیسہ نجی وکلا پر کیوں خرچ ہو؟
وکیل خواجہ احمد حسین کا کہنا تھا کہ بینچ کی تشکیل کے لیے مناسب ہوگا کہ معاملہ دوبارہ ججز کمیٹی کو بھیجا جائے، پہلے بھی 9 رکنی بینچ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ پہلے ہی 9 رکنی بینچ بن جاتا تو آج اپیلوں پر سماعت ممکن نا ہوتی۔
خواجہ احمد حسین نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ دے کر ٹرائل کالعدم قرار دیا، 6 رکنی بینچ نے اگر اسے 4-2 سے کالعدم قرار دے دیا تو یہ متنازع ہوجائے گا، عدلیہ پر عوامی اعتماد کے لیے ضروری ہے کہ فیصلہ متنازع نا ہو، ایسا تاثر نہ جائے کہ بینچ کی تشکیل سے ہی فیصلہ واضح ہو، بینچ کی تشکیل کے لیے مناسب ہوگا کہ معاملہ دوبارہ ججز کمیٹی کوبھیجا جائے۔
بعد ازاں عدالت نے اٹارنی جنرل سے زیر حراست 103 افراد میں سے بریت کے اہل افراد کے حوالے سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ بتائیں کتنے ملزمان کو کتنی سزائیں ہوئی ہیں؟ یہ بھی بتائیں کتنے ملزمان بری ہوئے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ٹرائل مکمل ہو چکا ہے لیکن عدالت نے حتمی فیصلے سے روکا تھا، عدالت نے کہا آپ ہدایات لے لیں۔
اس کے بعد عدالت نےفریقین کو نوٹسز جاتے کرتے ہوئےکیس کی سماعت 28 مارچ تک ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ 22 مارچ کو سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہوگئی تھیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپیلوں کی سماعت کے لیے نیا 6 رکنی بینچ تشکیل دے دیا تھا۔
یاد رہے کہ 20 مارچ کو سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ملٹری ٹرائل کے خلاف اپیلوں کی جلد سماعت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی۔
سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے وکیل ایڈووکیٹ خواجہ احمد حسین کے ذریعے ایک درخواست دائر کی، جس میں استدعا کی گئی کہ اگر اپیل خارج کر دی گئی تو شہریوں کو بلا جواز کئی مہینوں تک فوجی حراست میں رہنا پڑے گا۔
درخواست گزار نے مطالبہ کیا کہ ترجیحی بنیادوں پر 25 مارچ تک کیس کی سماعت کی جائے کیونکہ شہریوں کے مسلسل فوجی حراست میں رہنے سے ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ اُن درخواست گزاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے گزشتہ سال 9 مئی کو پرتشدد مظاہروں کے الزام میں گرفتار کیے گئے شہریوں کے فوجی ٹرائل کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
واضھ رہے کہ اکتوبر 2023 میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ دیا، جس میں 103 شہریوں کے ٹرائل کو آئین کے خلاف قرار دیا گیا۔
اس فیصلے کو وفاقی حکومت، وزارت دفاع، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان حکومت نے انٹراکورٹ اپیلوں کے ذریعے چیلنج کیا تھا، بعدازاں 6 ججوں کے بینچ نے 13 دسمبر 2023 کو یہ فیصلہ 5-1 کی اکثریت سے معطل کر دیا تھا۔
29 جنوری کو ہونے والی آخری سماعت پر جسٹس سردار طارق مسعود (جو کہ ریٹائر ہو چکے ہیں) نے یہ انٹرا کورٹ اپیل 3 ججوں پر مشتمل کمیٹی کے پاس بھیج دی تھی تاکہ اسے لارجر بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا جا سکے۔
چیف جسٹس اور 2 سینیئر ججوں پر مشتمل کمیٹی کو سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کے تحت بنچوں کی تشکیل کا کام سونپا گیا تھا۔
معاملہ کمیٹی کو دیتے ہوئے سابق جسٹس (ر) سردار طارق مسعود نے واضح کیا تھا کہ 23 اکتوبر کا حکم نامہ بینچ کی تشکیل تک معطل رہے گا۔


مشہور خبریں۔
اسرائیل کا ریڈ کراس کو فلسطینی قیدیوں سے ملنے سے روکنا جنگی جرم ہے
?️ 30 اکتوبر 2025 اسرائیل کا ریڈ کراس کو فلسطینی قیدیوں سے ملنے سے روکنا جنگی
اکتوبر
کورونا: ملک بھر میں کوروناسے مزید 41 اموات
?️ 13 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) عالمی وبا کورونا وائرس کے وار جاری ہیں،
فروری
سقوطِ کابل سے لے کر اب تک امریکی سفارت کار کی ان کہی کہانیاں
?️ 18 اگست 2022سچ خبریں: افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی نمائندے زلمی خلیل
اگست
بجلی کی قیمت میں 5روپے فی یونٹ اضافے کا امکان
?️ 30 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)بجلی صارفین کے لئے بری خبر ہے جس سے
نومبر
سعودی عرب کے زرمبادلہ کے ذخائر میں گزشتہ ماہ 8.6 ارب ڈالر کی کمی
?️ 2 مارچ 2022سچ خبریں: سعودی عرب کے زرمبادلہ کے ذخائر جنوری کے آخر میں
مارچ
امریکی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی 2025 امریکہ کی عالمی برتری کے خاتمے کا باضابطہ آغاز
?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں:امریکہ کی نئی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی 2025 خود امریکہ
دسمبر
صیہونی حکومت کی جانب سے ایک نئے اسکینڈل کا اعلان
?️ 25 مئی 2023سچ خبریں:عبرانی زبان کے اس نیٹ ورک نے انکشاف کیا کہ ریپڈ
مئی
فرحان اختر دوسری شادی کا جشن منانے کے لئے تیار
?️ 16 جنوری 2022ممبئی (سچ خبریں)بالی ووڈ کے معروف ہدایتکار و اداکار فرحان اختر کی
جنوری