روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس نے پاکستان کو بچا لیا

?️

اسلام آباد(سچ خبریں) پی ٹی آئی کی حکومت مین شروع کیے گئے منصوبے ’روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس‘ نے پاکستان کو سری لنکا جیسے بحران سے بچا لیا کیوں کہ دوست ممالک نے پہلی بار مدد کا ہاتھ بڑھانے سے انکار کردیا ہے جب کہ سیاسی صورتحال موجودہ سیٹ اپ کو آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کی اجازت نہیں دے رہی ، اس وقت اگر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس نہ ہوتے تو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی نازک مرحلے میں ہوتے ۔

پرو پاکستانی کی ایک رپورٹ کے مطابق معیشت پر شدید دباؤ کے ساتھ غیر ملکی ذخائر میں کمی ، کرنٹ اکائونٹ کے بڑھتے ہوئے خسارے اور روپے کی قدر تاریخ کی کم ترین سطح پر گرنے سے پاکستان کو سری لنکا جیسے ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کو بحال کرنے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیئے تاہم اگر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ منصوبہ شروع نہ کیا گیا ہوتا تو کیا ہوتا؟

اس حوالے سے تجربہ کار معاشی صحافی سلمان صدیقی نے کہا کہ اگر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس شروع نہ کیے جاتے تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی نازک مرحلے میں ہوتے ، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور سعودی عرب اور چین کی حمایت کے بغیر ہمارے پاس ایک بحرانی صورتحال ہوتی اور ملک سری لنکا کی طرح دیوالیہ پن کی طرف بڑھ گیا ہوتا ۔ بتایا گیا ہے کہ ستمبر 2020 میں عالمی وباء کورونا وائرس کے دوران شروع کیے گئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (RDA) میں رقوم کی آمد 4 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے اور یہ اپریل 2022 میں 4.2 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے ، اپریل کے مہینے کے دوران روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں رقوم کی آمد 245 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ۔

دوسری طرف حالات یہ ہیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر جو فروری تک 16.4 بلین ڈالر تھے وہاں سے کم ہو کر اپریل کے آخر میں 10.5 بلین ڈالر رہ گئے ، جس کی درآمدی کور 2 ماہ سے بھی کم تھی اور یہ مئی 2020 کے بعد ذخائر کی کم ترین سطح ہے جب کہ رواں ماہ ہفتے کے آغاز میں ہی 3.2 فیصد کریش کے بعد بدھ کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی گئی جہاں ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای 100انڈیکس میں 1000 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی اورانڈیکس 43 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے بھی گرگیا ، اس مندی کے سبب سرمایہ کاروں کو 2کھرب28ارب57کروڑ19لاکھ روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔

اس حوالے سے بی ایم اے کیپٹل کے سابق سربراہ فیضان احمد نے کہا کہ کچھ دنوں کی سیاسی وضاحت کے بعد مارکیٹ نے پھر سے غیر یقینی کے آثار دکھائے ہیں ، اس بار یہ ایک بہت ہی غیر معمولی صورتحال ہے کیوں کہ دوست ممالک نے پہلی بار مدد کا ہاتھ بڑھانے سے انکار کیا ہے ، تمام ممالک چاہتے ہیں کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام دوبارہ شروع کرے تاکہ حالات معمول پر آسکیں لیکن سیاسی صورتحال موجودہ سیٹ اپ کو آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کی اجازت نہیں دے رہی۔

ہیڈ آف ریسرچ عارف حبیب لمیٹڈ طاہر عباس نے کہا ہے کہ حکومت کو اس پروگرام میں واپس آنے کے لیے IMF کے ساتھ اتفاق رائے کے مطابق پیٹرولیم اور بجلی کی سبسڈی واپس لینے کی ضرورت ہے ، آئی ایم ایف پروگرام کو دوبارہ شروع کیے بغیر ملک کے لیے قرضوں کی ادائیگیاں کرنا بہت مشکل ہو گا کیوں کہ دوست ممالک کا رول اوور اور دیگر کثیر الجہتی اداروں سے رقوم صرف آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں ہی ممکن ہوں گی جب کہ بین الاقوامی مارکیٹ سے سرمایہ اکٹھا کرنا آئی ایم ایف سے منظوری کے بعد آسان ہوگا۔

مشہور خبریں۔

انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے ساڑھے 3 سے 4 لاکھ ای وی ایم درکار ہیں

?️ 7 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے

ترک فٹبال ڈسپلنری کمیٹی نے اسرائیلی کھلاڑیوں کے ساتھ کیا کیا؟

?️ 26 جنوری 2024سچ خبریں: ترک فٹبال ڈسپلنری کمیٹی نے2 اسرائیلی ترک فٹ بال کھلاڑیوں

محمد بن سلمان ہندوستان میں

?️ 12 ستمبر 2023سچ خبریں:سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کل ہندوستان میں ایک

امریکی صدر کے دورے پر مقبوضہ فلسطین فوجی چھاؤنی میں تبدیل

?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:امریکی صدر جوبائیڈن کے مقبوضہ فلسطین کے دورے کے پیش نظر

ملک بھر میں پھر سے کورونا تیزی سے بڑھ رہا ہے

?️ 2 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) ملک بھرمیں کورونا کے پھیلاؤ نے پھر سے

اسٹولٹن برگ نے نیٹو میں شامل ہونے کے لیے یوکرین کی اہم شرط کا انکشاف کیا

?️ 19 فروری 2023اگرچہ کیف خود کو شمالی بحر اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم کا

9 مئی کو ریڈ لائن کراس کی گئی، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے، وزیراعظم

?️ 25 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 9 مئی

عوام اور فوج کو کون آمنے سامنے لا رہا ہے؟عمر ایوب کی زبانی

?️ 10 اگست 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے