?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومت سے بیک ڈور مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر رسمی گفتگو کے دوران تجویز دی گئی کہ ایک طویل مدتی عبوری حکومت ہو۔
جیو نیوز کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے سابق اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ آج اسپیکر سے طویل گفتگو ہوئی اور ان سے کہا ہمارے استعفے جلد منظور کریں اور مہربانی کرکے الیکشن کمیشن کو بھیجیں، یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری پہلے ہی ہمارے استعفے قبول کرچکے ہیں لیکن اسپیکر قومی اسمبلی استعفے منظور نہیں کر رہے ہیں اس کی سیاسی وجوہات ہیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ استعفے منظور ہوجاتے ہیں تو عام انتخابات کے لیے ماحول بن جاتا ہے، اس لیے یہ ان کا قانونی نہیں بلکہ سیاسی فیصلہ ہے۔
ایک سوال پر کہ اسپیکر نے بتایا کہ بعض اراکین نے چھٹی کی درخواست دی ہے اور بعض کہتے ہیں استعفوں پر ان کے دستخط جعلی ہیں تو اسد قیصر نے جواب دیا کہ انہوں نے یہ باتیں کی ہیں لیکن ہم نے ان سے کہا کہ اگر ایسا ہے تو چیزیں سامنے لے کر آئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان سے یہ بات کی ہے کہ جو رکن قومی اسمبلی ہوتا ہے وہ عوام کا نمائندہ ہوتا ہے اور اس کے پیچھے عوام کی طاقت ہوتی ہے تو ان کو ایسے ڈرایا اور دھمکایا نہیں جاسکتا، جن لوگوں نے بغاوت کرنا تھی انہوں نے کرلی تو ہم ان کا کیا بگاڑ سکے۔
اسد قیصر نے کہا کہ اسپیکر کو ہم نے بتایا کہ استعفے منظور نہیں کرکے آپ جانب داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، پھر ٹیکنیکل بنیادوں پر ہمارے کمزور حلقے منتخب کرکے 11 استعفے منظور کیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے کسی رکن قومی اسمبلی کو تنخواہ اور مراعات نہیں مل رہی ہیں، ان سے پوچھیں اگر کوئی تفصیل ہے تو کوئی رسید یا دستاویزات دکھا دیں۔
اسد قیصر کا ٹیکنوکریٹ حکومت کے خدشات سے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ بیک ڈور میں اس معاملے پر ہمارے مذاکرات جاری تھے اور ان کی تجویز تھی ہم چاہتے ہیں طویل مدتی عبوری حکومت آئے لیکن اس کی قانون میں گنجائش نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک چیز کی آئین میں گنجائش نہیں ہے تو وہ کام کیسے ہوسکتا ہے، اس طرح تو ملک نہیں چل سکتا ہے اور یہ تجویز ہمیں کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
اسد قیصر نے واضح کیا یہ تجویز حکومت کی جانب سے تھی اور یہ ایک غیر رسمی گفتگو تھی اور انہوں نے کہا یہ تجویز ہو بھی سکتی ہے تو ہم نے کہا یہ تجویز ہمیں قبول نہیں ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر خرم دستگیر نے اس حوالے سے کہا کہ اس تجویز پر نہ تو کابینہ اور نہ ہی ہماری پارٹی میں گفتگو ہوئی ہے کہ اس طرح کی کوئی پیش کش ہے اور اگر آج اس پر بحث کی گئی تو مجھ سمیت کابینہ کے بیشتر اراکین اصرار کریں گے کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہونے چاہیئں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی غیررسمی گفتگو ہوسکتی ہے لیکن حکومت کی طرف سے کوئی ایسی سنجیدہ تجویز نہیں ہے۔
خرم دستگیر نے کہا کہ بہت اچھی بات ہوگی کہ پاکستان میں پارلیمان اپنی مدت پوری کرے اور وقت پر انتخابات ہوں، جس طرح 2013 اور پھر 2018 میں ہوئے۔


مشہور خبریں۔
الحشد الشعبی کے قیام کی نویں سالگرہ
?️ 13 جون 2023سچ خبریں:9 سال قبل آج کے دن داعش کے دہشت گردوں کے
جون
نیویارک کے پراسیکیوٹر کی ٹرمپ اور ان کے بچوں کی طلبی
?️ 4 جنوری 2022سچ خبریں:نیویارک کے اٹارنی آفس نے تصدیق کی ہے کہ سابق امریکی
جنوری
اسرائیلی فوجی امور کے ماہر نے صہیونی حکومت کی شکست کے بارے میں سنسنی خیز انکشاف کردیا
?️ 18 جون 2021تل ابیب (سچ خبریں) اسرائیلی فوجی امور کے ماہر نے فلسطینیوں کے
جون
شنگھائی تعاون تنظیم کا عالمی حکمرانی کا منشور بروقت اور رہنمائی کرنے والا اقدام ہے:بیجنگ
?️ 3 ستمبر 2025شنگھائی تعاون تنظیم کا عالمی حکمرانی کا منشور بروقت اور رہنمائی کرنے
ستمبر
پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تجارت بہت اہمیت رکھتی ہے
?️ 2 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن کے ہمراہ مشترکہ
جون
حماس اور اسلامی جہاد کا مغربی کنارے میں 2 فلسطینی نوجوانوں کی پھانسی پر ردعمل
?️ 14 نومبر 2025سچ خبریں: فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے جمعرات کی رات جاری ایک
نومبر
ایرانی میزائلوں کے حملوں کے بعد صہیونی حکومت کی پناہ گاہوں میں نئی تبدیلیوں کی تیاری
?️ 26 دسمبر 2025سچ خبریں: کئی ماہ گزرنے کے باوجود، 12 روزہ جنگ کے دوران ایران
دسمبر
خیبر پختونخوا: سکیورٹی فورسز کی دو کارروائیوں میں 13 خوارج جہنم واصل
?️ 14 دسمبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی 2 مختلف کارروائیاں
دسمبر