?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) مین لائن ون (ایم ایل ون) ریلوے منصوبے پر عمل درآمد میں تاخیر کی وجہ سے اس کی لاگت 100 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ہے، جس کے سبب حکومت کے لیے اس منصوبے کے لیے وسائل تلاش کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
اس منصوبے کی بنیاد 2016 میں پاک۔چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت 60 لاکھ ڈالر کی تخمینہ لاگت اور چین کی جانب سے مالی یقین دہانی کے ساتھ رکھی گئی تھی، اب اس منصوبے کی لاگت ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
یہ انکشاف وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے سے متعلق اجلاس کے دوران سامنے آیا۔ اجلاس سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ حکومت کو اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کہیں سے بھی کوئی مالی امداد نہیں ملی اور اس لیے وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کم از کم کراچی سے سکھر تک منصوبے کے پہلے مرحلے کو حکومت کے اپنے وسائل کے ذریعے شروع کردیا جائے۔
اجلاس کے شرکا کو آگاہ گیا کہ ایم ایل ون (جس کا مقصد کراچی سے پشاور تک ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ کرنا تھا) کی فنڈنگ کا وعدہ کرنے والے ملک چین نے اس حوالے سے تاحال کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔
شرکا کو مزید بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اس منصوبے کو نقصان پہنچایا اور ایم ایل ون کو اصل پلان ’بلٹ، آپریٹ اور ٹرانسفر (بوٹ)‘ سے’انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن (ای پی سی)’ موڈ میں تبدیل کر دیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ایم ایل ون پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد کی ہدایت کی، انہوں نے کہا کہ حکومت ریلوے کی بحالی پر ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایم ایل ون پاکستان ریلوے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور مستقبل میں پاکستان اپنے ریلوے اور بندرگاہوں کے نظام کے ذریعے علاقائی ممالک کو تجارتی راہداری کی سہولیات فراہم کرے گا۔
اجلاس میں وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، وزیر تجارت سید نوید قمر، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں مکمل ہونے والے موٹرویز، پبلک ٹرانسپورٹ، صحت اور تعلیم کے منصوبوں کے ذریعے لوگوں کو سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں۔
اجلاس کے شرکا کو محکمہ ریلوے میں جاری اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن سے بھی آگاہ کیا گیا، شرکا کو بتایا گیا کہ ٹکٹنگ سسٹم کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا اور سابقہ فاٹا کی بہتری و ترقی کے حوالے سے ایک علیحدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پچھلی حکومت نے کبھی صوبے کی ترقی کے لیے کام نہیں کیا۔
اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے آئندہ انتخابات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مالی سال 24-2023 میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں، حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ خیبرپختونخوا کے لوگوں کو وفاق کی جانب سے صحت اور تعلیم کے منصوبوں سے بھرپور فائدہ ملے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں کسانوں کو معیاری بیج، کھاد کی بروقت فراہمی اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا۔


مشہور خبریں۔
افغان طالبان کا بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لئے اپنے عزم کا اعلان
?️ 18 جولائی 2021سچ خبریں:افغان طالبان رہنما نے عید الاضحی کے موقع پر ایک مبارکبادی
جولائی
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے خلاف کسی قسم کی تحریک عدم اعتماد زیر غور نہیں، رانا ثناء اللہ
?️ 3 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء
جولائی
مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلز پارٹی پر لگایا الزام
?️ 17 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے اجلاس کے
مارچ
امریکی ریاست لوزیانا میں طوفان کی تباہی
?️ 30 اگست 2021سچ خبریں:امریکی ریاست لوزیانا میں آنے والے طوفان نے وسیع پیمانے پر
اگست
اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی واپسی سے متعلق نیتن یاہو کے دفتر کا بیان
?️ 22 اکتوبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان جاری
اکتوبر
نیتن یاہو کے ذہن میں پائیدار امن جیسی کوئی چیز نہیں ہے: فیدان
?️ 16 مارچ 2025سچ خبریں: غزہ کی صورتحال کے حوالے سے ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان
مارچ
وزیرخارجہ بلاول بھٹو جاپانی حکومت کی دعوت پر 4 روزہ دورے پر ٹوکیو پہنچ گئے
?️ 1 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری جاپان کی حکومت کی دعوت
جولائی
حزب اللہ: حکومت نے امریکہ کے خالی وعدوں پر بھروسہ کرکے لبنان کو خطرناک راستے پر گامزن کردیا
?️ 18 اگست 2025سچ خبریں: حزب اللہ کے سینیئر نمائندے علی فیاض نے بیان کیا
اگست