انٹیلیجنس ایجنسی سمیت 4 اداروں کو پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں دیے گئے قرضوں کی تحقیقات کا حکم

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی  نے ایک انٹیلی جنس ایجنسی سمیت چار اداروں کو کووڈ-19 وبا کے دوران صفر شرح سود پر 620 افراد کو دیے گئے تقریباً 3 ارب ڈالر کے قرضوں کے معاملے کی مشترکہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی اے سی کے چیئرمین نور عالم خان نے متعلقہ محکموں کو فنڈ کی تقسیم سے فائدہ اٹھانے والے 600 سے زائد افراد کے ناموں سے پردہ اٹھانے اور معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی جن میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)، آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی)، قومی احتساب بیورو (نیب) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) شامل ہیں۔

اجلاس کے دوران نور عالم خان نے الزام لگایا کہ بعض صنعت کاروں میں اربوں ڈالر تقسیم کیے گئے۔

اس دوران سینیٹر محسن عزیز اور رکن قومی اسمبلی برجیس طاہر کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، سینیٹر محسن عزیز نے اجلاس کو بتایا کہ یہ رقم عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کی گئی جس کے ذریعے 32 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوئیں، 4 ارب ڈالر کی آمدن ہوئی جس کا فائدہ بالآخر ملک کو ہوا۔

سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ’آپ فہرست فراہم کرنے کا حکم ضرور دیں لیکن قرض کی تقسیم کے بعد معیشت کو پہنچنے والے فوائد پر بھی بات کریں۔‘

جس پر رکن قومی اسمبلی برجیس طاہر نے جواب دیا کہ کمیٹی کو یہ جاننے کا حق ہے کہ غیر ملکی قرضہ کیسے اور کہاں لگایا گیا۔

دونوں اراکین کو اجلاس کو مچھلی بازار میں نہ بدلنے کی تلقین کی گئی اور سینیٹر محسن عزیز کے بار بار طنز کے بعد چیئرمین نے دونوں کے مائیک بند کر دیے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اراکین ان 600 سے زائد کاروباری شخصیات کی فہرست فراہم کیے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے جنہیں پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں عالمی وبا کے دوران کمرشل بینکوں نے 10 برس کے لیے صفر شرح سود پر تقریبا 3 ارب ڈالر کے قرضے جاری کیے تھے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی  کے اجلاسوں میں 2 مرتبہ رکن قومی اسمبلی برجیس طاہر نے مطالبہ کیا تھا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) 600 سے زائد افراد کی تفصیلات کمیٹی کو پیش کرے۔

اسی طرح کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان نے بھی یہ پوچھا تھا کہ ’ان 600 افراد کو یہ قرضے کن قوانین کے تحت جاری کیے گئے؟‘

پی اے سی کو بتایا گیا تھا کہ بینکوں نے وبا کے دوران یہ قرضے رعایتی شرحوں پر فراہم کیے تھے، جس کا مقصد کووڈ-19 کے پھیلاؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران کے دوران سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ وزارت خزانہ کو 19 اپریل کو ان لوگوں کے نام بتانے کی ہدایت کی گئی تھی جنہوں نے بغیر سود کے 3 ارب ڈالر کا قرض لیا، کمیٹی نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک نے ابھی تک یہ فہرست فراہم نہیں کی۔

لوڈشیڈنگ میں اضافے اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے چیئرمین پی اے سی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے عید بھی گرڈ اسٹیشنز پر گزاری ہے، انہوں نے ایسے وقت میں افسران کی تنخواہوں میں اضافے پر اعتراض کیا جبکہ عوام بجلی کی شدید بندش کا شکار ہیں۔

نور عالم خان نے کہا کہ پاور ڈویژن کے اداروں میں 2 سال سے بے شمار انکوائریاں ہو رہی ہیں لیکن ذمہ داریوں کا تعین کیے بغیر سب بے سود ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کرپشن کے 8 کیسز میں 9 ارب 20 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے، جس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے انرجی ڈویژن کے 9.2 ارب روپے کے 8 آڈٹ پیراگراف کی تحقیقات ایف آئی اے کے حوالے کر دیں۔

اس کے جواب میں پاور ڈویژن کے سیکریٹری راشد محمود نے اراکین کو بتایا کہ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 23 کھرب 70 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔

سیکریٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ پاور ڈویژن کے سیکریٹری توانائی کو ایف آئی اے کی تحقیقات پر کوئی اعتراض نہیں تاہم انہوں نے جاری انکوائریوں کو دیکھنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دینے کی درخواست کی۔

مشہور خبریں۔

برطانیہ میں نوجوانوں کی ذہنی صحت کے بحران میں شدت

?️ 11 اگست 2022سچ خبریں:برطانوی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اس ملک میں دماغی

یمن کے خلاف اقتصادی جنگ کی قیادت امریکہ اور انگلینڈ کر رہے ہیں:یمنی وزیر خزانہ

?️ 8 دسمبر 2022سچ خبریں:یمن کی قومی نجات حکومت کے وزیر خزانہ نے کہا کہ

مری کی تمام اہم شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے کلیئر کر دیا گیا: پنجاب پولیس

?️ 9 جنوری 2022لاہور(سچ خبریں) شدید برفباری سے متاثرہ  سیاحتی مقام مری کی تمام اہم 

جنگ کے دوران پتہ چلا کہ ڈیجیٹل میڈیا بہترین ہتھیار ہے۔ بلاول بھٹو زرداری

?️ 1 اگست 2025کراچی (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے

پاکستان کے یورپی یونین سے اہم اور وسیع تعلقات ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

?️ 14 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ نے کہا ہے

صیہونی تل ابیب اور حیفا پر ایرانی حملے سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

?️ 16 جون 2025سچ خبریں: اسلامی جمہوریہ ایران نے صیہونیوں کی جارحیت کے جواب میں شمالی

کیا پاکستان میں ٹک ٹاک پر لگے گی پابندی؟

?️ 20 جون 2024سچ خبریں: پشاور ہائی کورٹ نے ویڈیو شیئرنگ کی مقبول ایپلی کیشن

جسٹس مظاہر نقوی کی جائیداد، ٹیکس تفصیلات کی تحقیقات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سپرد

?️ 5 مئی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی نے آمدن سے زائد اثاثے رکھنے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے