امریکہ اور پاکستان عملی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے

?️

اسلام آباد(سچ خبریں)  اب تک امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات سرد مہری سے دوچار رہے ہیں تاہم جنیوا میں امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اور پاکستان کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے ملاقات کی اور مشترکہ طور پر جاری کردہ ایک بیان میں ’عملی تعاون کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا‘۔

جوبائیڈن انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ دونوں ممالک کے مابین پہلا اعلی سطح کا براہ راست رابطہ تھا۔سیکریٹری خارجہ انٹونی جے بلنکین اس سے قبل اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے بھی دو مرتبہ بات چیت کر چکے ہیں۔

اسی طرح سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن بھی آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔تاہم امریکی صدر جوبائیڈن اور وزیر اعظم عمران خان کے مابین اب تک کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

علاوہ ازیں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق سربراہی اجلاس میں ابتدائی طور پر پاکستان کو مدعو نہیں کیا گیا تھا لیکن پاکستان باہمی روابط اور تعاون کو بڑھانے پر زور دیتا رہا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق دو طرفہ تعلقات این ایس اے کے ’جنیوا اجلاس‘ کے ایجنڈے میں ایک اہم نکتہ تھے لیکن بھارت، افغانستان اور معاشی تعاون سمیت دیگر امور جو تعلقات کو بھی متاثر کررہے تھے، ان پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے شکایت کی تھی ابتدائی دنوں امریکا کی نئی انتظامیہ پاکستان کو خاطر خواہ وقت نہیں دے رہی تھی۔

جس پر ان کے امریکی ہم منصب نے دعوی کیا کہ کووڈ 19 وبائی بیماری کے باعث ایسا ہوا ہے کیونکہ انتظامیہ داخلی امور پر زیادہ توجہ دے رہی تھی۔

معید یوسف نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ کل امریکی این ایس اے جیک سلیوان سے مل کر خوشی ہوئی، پاکستان اور امریکی وفود نے باہمی دلچسپی کے دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر مثبت تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات میں تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان ایملی ہورن کی جانب سے جاری کردہ ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے متعدد دو طرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ عملی تعاون کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال اور مزید بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکا کی جانب سے توقع ہے کہ وہ اقتصادی تعاون کو بڑھائے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے۔اسی طرح کووڈ 19 وبائی امراض اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مزید تعاون کی توقع اسلام آباد بھی کررہا ہے۔

واشنگٹن افغانستان سے فوجیوں کے مکمل انخلا کا خواہش مند ہے اور پاکستان سے چاہتا ہے کہ وہ پرتشدد کارروائیوں ختم کرنے کے لیے طالبان پر زور دے۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات ایسے وقت پر ہوئی ہے جب حال ہی میں پینٹاگون نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے امریکی فوج کو اپنی فضائی حدود کے استعمال اور زمینی حدود تک رسائی دے دی تاکہ وہ افغانستان میں اپنی موجودگی کو یقینی بنا سکے۔

جس کے فوراً بعد ہی دفتر خارجہ نے امریکا کو پاکستانی سرزمین کے استعمال کی اجازت دینے کے حوالے سے میڈیا میں زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے امریکا کو فوج یا فضائیہ کا کوئی اڈہ نہیں دیا۔

مشہور خبریں۔

یمن کی فوجی طاقت/انصار اللہ کے ڈھانچے کی مضبوطی پر اسرائیلی قاتلانہ کارروائی کا کوئی اثر نہیں پڑا

?️ 6 ستمبر 2025سچ خبریں:  یمن کے تجزیاتی حلقوں نے صنعا شہر میں صیہونی حکومت

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف عوامی مظاہرے

?️ 4 فروری 2021سچ خبریں:میانمار کے متعدد شہروں میں عوام فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرے

حزب اللہ کے سامنے بے بسی سے لے کر اندرونی بحرانوں تک صیہونی فوج کی صورتحال؛صیہونی میڈیا کی زبانی

?️ 28 دسمبر 2025سچ خبریں:صیہونی داخلی بحرانوں، حزب اللہ کے ساتھ چیلنجز اور غزہ کی

شام میں 10 نئے صیہونی فوجی اڈے قائم 

?️ 8 جولائی 2025 سچ خبریں:صہیونی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے شام میں 10

حزب اللہ کے خوف سے صیہونی ریپڈ ری ایکشن بٹالین کی تشکیل

?️ 12 ستمبر 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت غیر قانونی طور پر اپنے وجود میں آنے کے

پاکستانی وزیر خارجہ کا دورہ واشنگٹن؛ اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات کس سمت بڑھ رہے ہیں؟

?️ 25 جولائی 2025پاکستانی وزیر خارجہ کا دورہ واشنگٹن؛ اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات

گریٹر اسرائیل کا تصور اور خطے کو درپیش خطرات

?️ 15 جون 2026سچ خبریں:تجزیہ کاروں کے مطابق گریٹر اسرائیل کا منصوبہ مشرق وسطیٰ کی

دس سال سے بند کویت کے لیے پاکستان کے ویزے جلد کھل جائیں گے: شیخ رشید

?️ 17 مارچ 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر داخلہ شیخ رشید نے دس سال سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے