ٹرمپ کا یوٹرن؛ ایران کی یورینیم افزودگی مکمل روکنے کا مؤقف نرم، محدود سطح پر رضامندی

یورینیم افزودگی

?️

سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے میں یورینیم افزودگی صفر کے مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے محدود سطح پر افزودگی کی اجازت کا اشارہ دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے بعد اپنے اس سابقہ مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہ ایران میں یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر صفر ہونی چاہیے، اب کہا ہے کہ ممکنہ حتمی معاہدے کے تحت ایران کو کم سطح پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اتوار کی شب مقامی وقت کے مطابق نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم کی کم سطح پر افزودگی تک محدود کیا جائے گا، جو ان کے بقول کبھی بھی فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ بالآخر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آبنائے ہرمز ہمیشہ کے لیے بغیر کسی عارضے کھلا رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی مخالفت کے باوجود ان کی پالیسیوں نے اسرائیل کو ایٹمی تباہی سے بچایا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے ۲۸ منٹ کے انٹرویو میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ فروری کے آخر میں ایران پر حملے اور بعد ازاں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے فیصلے نے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو امریکہ کے حق میں بدل دیا۔

انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پوتین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں نے ایران کے ساتھ معاہدے میں کردار ادا کیا۔

دوسری جانب ٹرمپ نے نیتن یاہو کو لبنان پر حملوں کے باعث شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی کارروائیوں نے ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، اگرچہ معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، لیکن ٹرمپ ایسے نکات کا ذکر کر رہے ہیں جن پر ایران نے یا تو اتفاق نہیں کیا یا وہ آئندہ مذاکرات کے لیے چھوڑے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز پر کوئی فیس وصول نہیں کی تھی، اس لیے ٹرمپ دراصل پہلے سے موجود صورتحال کو بحال کرنے کو کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے بارہا اس معاہدے کا موازنہ ۲۰۱۵ کے جوہری معاہدے سے کیا اور کہا کہ ان کا معاہدہ اس بات کی ضمانت دے گا کہ ایران نہ تو ایٹمی ہتھیار بنا سکے گا اور نہ ہی حاصل کر سکے گا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران نے ہمیشہ اس مؤقف پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت پرامن افزودگی کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔

گزشتہ تین ماہ کی مذاکراتی کوششوں کے دوران ایرانی نمائندوں نے واضح کیا ہے کہ وہ افزودگی کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اس حوالے سے اختلافات بھی موجود ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی افزودگی کو ۱۵ سے ۲۰ سال تک معطل کرنے پر بات چیت جاری ہے، تاہم ممکنہ طور پر ایران کو محدود سطح پر افزودگی کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

یمن کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا:عطوان

?️ 12 جنوری 2025سچ خبریں: علاقائی تزویراتی امور کے تجزیہ کار عطوان نے یمنیوں کو

امریکی عدالتوں میں سرکاری شٹ ڈاؤن جاری رہنے کے ساتھ ہی برطرفی شروع ہو گئی

?️ 18 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن جاری رہنے اور عدالتوں کے

شہروں کی دیواروں پر غدار وطن کے بینرز اور پوسٹرز کیا کہہ رہے ہیں؟

?️ 25 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان میں ’غداری‘ کے الزامات عائد کرنا ایک عام معمول

نبطیہ پر صیہونی حملہ اور تین منزلہ عمارت کی تباہی

?️ 6 ستمبر 2026سچ خبریں: صہیونی حکومت نے جنوب لبنان میں تجاوزات اور ملکی بنیادی

فاینینشل ٹائمز کا مروان البرغوثی کی طرف سے جیل میں بن گور کی تذلیل کا بیان

?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں: فاینینشل ٹائمز اخبار نے قابض حکومت کی جیلوں میں مروان

26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں کی سماعت میں آئینی بینچ اور فل کورٹ پر ججز کے سخت سوالات

?️ 13 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف

صیہونیوں نے مقبوضہ فلسطین میں حزب اللہ کے ڈرونز کی دراندازی کو دوبارہ کیسے پڑھا؟

?️ 21 فروری 2022سچ خبریں:  مقبوضہ فلسطین کے آسمانوں میں حزب اللہ کے حسن ڈرون

صیہونی جنگ کو جنوبی غزہ میں کیوں منتقل کرنا چاہتے ہیں؟

?️ 10 دسمبر 2023سچ خبریں: نیتن یاہو کی کابینہ جنگ کو جنوبی غزہ میں لے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے