?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) مائیکروسافٹ نے پاکستان میں اپنا دفتر بند کرنے اور 5 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے قبل، میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ عالمی ٹیک کمپنی نے ملک میں اپنے آپریشنز بند کر دیے ہیں۔
یہ رپورٹس لنکڈ اِن پر جاوید رحمٰن (جو مائیکروسافٹ پاکستان کے سابق سربراہ ہیں) کی ایک پوسٹ کی بنیاد پر تھیں، انہوں نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کمپنی پاکستان میں اپنے آپریشنز باضابطہ طور پر بند کر رہی ہے۔
اس معاملے سے واقف افراد نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ مائیکروسافٹ کی پاکستان میں زمینی موجودگی حالیہ دنوں تک برقرار تھی، اگرچہ مقامی افرادی قوت کافی محدود تھی، کمپنی کے زیادہ تر آپریشنز غیر ملکی دفاتر اور پاکستان میں موجود پارٹنرز کے ذریعے چلائے جا رہے تھے۔
ڈان کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر، مائیکروسافٹ کے ترجمان نے کہا کہ ہم اپنے صارفین کو اپنی مضبوط اور وسیع پارٹنر تنظیم اور قریبی دفاتر کے ذریعے خدمات فراہم کریں گے، ہم یہ ماڈل دنیا کے کئی دیگر ممالک میں کامیابی سے چلا رہے ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی مقامی پارٹنرز اور غیر ملکی دفاتر کے ذریعے خدمات فراہم کرے گی۔
پاکستان سے آپریشنز کی منتقلی کا فیصلہ کمپنی کی عالمی سطح پر جاری چھانٹیوں کا حصہ ہے، کیوں کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق بدھ کو مائیکروسافٹ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے تقریباً 2 لاکھ 28 ہزار ملازمین میں سے 4 فیصد کو فارغ کر رہی ہے، مئی میں، کمپنی نے 6 ہزار ملازمین کہ چھانٹی کا اعلان کیا تھا۔
کمپنی نے کہا کہ وہ کم منتظمین کے ساتھ اپنے آپریشنز کو چلانے اور اپنی مصنوعات، طریقہ کار اور کرداروں کو بہتر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
بدلتے کاروباری ماڈلز
بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور ٹیلی کمیونیکیشن نے کہا کہ عالمی ٹیک کمپنیاں آن-پریمیس سافٹ ویئر ڈپلائمنٹ سے سافٹ ویئر ایز اے سروس (ایس اے اے ایس) ماڈل کی طرف منتقل ہو رہی ہیں، مائیکروسافٹ کا فیصلہ بھی اسی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہر حبیب اللہ خان کے مطابق، بڑی سافٹ ویئر کمپنیاں دو کاروباری ماڈلز پر کام کرتی ہیں: آن-پریمیس اور ایس اے اے ایس۔
آن-پریمیس ماڈل کے تحت، کمپنی سافٹ ویئر صارف کے سرورز یا انفرااسٹرکچر پر انسٹال اور چلاتی ہے، جب کہ ہارڈویئر اور ڈیٹا سینٹرز صارفین خود سنبھالتے ہیں، کمپنی کو ایک بار لائسنس کی فروخت سے آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
آن-پریمیس سافٹ ویئر ڈپلائمنٹ ایک سرمایہ خرچ والا ماڈل ہے، اور اس میں ابتدائی لاگت زیادہ ہوتی ہے، جب کہ دیکھ بھال اور اپ گریڈیشن کے لیے بار بار اخراجات بھی آتے ہیں۔
اس کے برعکس، ایس اے اے ایس ماڈل کمپنی کو بغیر زمینی موجودگی کے کسی مخصوص جگہ پر خدمات فراہم کرنے کی اجازت دیتا ہے، کیوں کہ سافٹ ویئر کلاؤڈ میں ہوسٹ کیا جاتا ہے، اس ماڈل میں کمپنی کو سبسکرپشن فیس کے ذریعے آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
حبیب اللہ خان نے وضاحت کی کہ ٹیکنالوجی کے ارتقا کے ساتھ، زیادہ کمپنیاں ایس اے اے ایس ماڈل کی طرف منتقل ہو گئی ہیں، اس سے ابتدائی اخراجات کم ہو جاتے ہیں۔
’اخراج‘ نہیں، سروس ماڈل کی تبدیلی
وزارت آئی ٹی نے مزید کہا کہ مائیکروسافٹ کا اقدام پاکستان سے اخراج کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ پارٹنر پر مبنی، کلاؤڈ پر مبنی سروس ماڈل کی طرف تبدیلی ہے۔
گزشتہ چند سالوں کے دوران، مختلف شعبوں میں کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے یا تو پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کیے یا انہیں مقامی اداروں کو فروخت کر دیا, گزشتہ ماہ، رائیڈ ہیلنگ سروس کریم نے اعلان کیا کہ وہ 18 جولائی سے پاکستان میں اپنی سروسز بند کر دے گی۔
تاہم، حبیب اللہ خان کا ماننا ہے کہ مائیکروسافٹ کا اقدام دیگر کمپنیوں کے انخلا سے مختلف ہے، کیوں کہ اب کمپنی اپنی تقریباً تمام آمدنی کلاؤڈ پر مبنی سبسکرپشنز کے ذریعے حاصل کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی عالمی سطح پر اخراجات میں کمی لا رہی ہے اور پاکستان میں دفتر بند کرنے کا فیصلہ ایس اے اے ایس اور اے آئی ماڈل کی طرف منتقلی کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ پاکستان کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم یا معیشت پر کوئی منفی تاثر نہیں ڈالتا۔


مشہور خبریں۔
ایران کے خلاف جنگی مشن کے دوران امریکی بحریہ کے 8 ملاحوں نے کی خودکشی
?️ 24 ستمبر 2026سچ خبریں: امریکی بحریہ کے قائم مقام سربراہ ہانگ کاؤ نے اعلان
ستمبر
ٹرمپ کی ایران کے خلاف نئی دھمکی آمیز بیان بازی
?️ 11 جون 2026سچ خبریں: امریکہ کے صدر نے ایران کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائیوں
جون
اسرائیلی فوجی نےکیے آئرن ڈوم کے راز 10,000 ڈالر میں فروخت
?️ 2 فروری 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے نیوز آؤٹ لیٹ نیوز ون کے مطابق
فروری
پاکستان میں تیار کردہ پہلا الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ خلا میں روانہ کر دیا گیا
?️ 18 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کےقومی خلائی ادارے اسپارکو کی جانب سے
جنوری
کیا صیہونی ریاست خالی ہو رہی ہے؟صیہونی اخبار کی رپورٹ
?️ 15 اکتوبر 2024سچ خبریں: صیہونی اخبار نے اعتراف کیا ہے کہ ایک سال سے
اکتوبر
اسحق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے رابطہ، غزہ سمیت حالیہ علاقائی پیشرفت کا جائزہ
?️ 22 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر خارجہ اسحق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ
اکتوبر
اسلام آباد کے ساتھ ریاض کے فوجی معاہدے پر بن سلمان کا ردعمل
?️ 19 ستمبر 2025سچ خبریں: سعودی وزیر دفاع نے اپنے ملک اور پاکستان کے درمیان
ستمبر
چیٹ جی پی ٹی کا سرچ انجن گوگل کی طرح استعمال کرنا ممکن
?️ 7 فروری 2025سچ خبریں: آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے
فروری