اسلام آباد اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

شوکت ترین

?️

اسلام آباد(سچ خبریں)  قومی اسبملی کی کمیٹی برائے خزانہ اور ریونیو کو وزیر خزانہ شوکت ترین نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ‘میری 23 جون کو آئی ایم ایف حکام کے ساتھ بہت سے معاملات پر بہت تعمیری گفتگو ہوئی انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب معیشت بحال ہو رہی ہے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ جاری پروگرام کو نہ چھوڑے جبکہ اسلام آباد اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے ڈھائی ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

رکن قومی اسمبلی فیض اللہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں شوکت ترین نے کہا کہ حکومت سکوک بانڈز، گرین بانڈز اور پانڈا بانڈز کے ذریعے فنڈز اکٹھا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور آئندہ 3 سے 6 ماہ میں یورو بانڈز جاری کیے جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ انہوں نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کروائی تھی کہ پاکستان، آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ رہے گا، ساتھ ہی انہوں نے انکشاف کیا کہ آئی ایم ایف نے اسلام آباد سے اپنے مطالبات میں لچک پیدا کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے آئی ایم ایف کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

بجٹ 22-2021 میں سکڑاؤ سے نمو کی جانب پالیسی میں تبدیلی پر بہت سے ماہرین معیشت نے اندازہ لگایا تھا کہ پاکستان بیرونی جانب بہتری آنے پر آئی ایم ایف پروگرام سے نکل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اپنا چھٹا اور ساتواں جائزہ ستمبر میں کرے گا جبکہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 5 سے 7 جولائی کو ہوگا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ‘اب پاکستان کا کیس ستمبر میں ہونے والے بورڈ اجلاس میں منظور کیا جائے گا’۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کے اعلان سے قبل آئی ایم ایف نے حکومت سے عوام پر 150 اب روپے کے ٹیکس لگانے، بجلی کے نرخوں میں فوری طور پر ایک روپے 39 پیسے کا اضافہ کرنے اور دوسرے مرحلے میں بجلی کی قیمت 4 روپے 95 پیسے فی یونٹ تک بڑھانے کا کہا تھا۔

شوکت ترین نے کہا کہ ‘یہ ممکن نہیں تھا کیوں کہ یہ اقدامات مہنگائی کا باعث بن رہے تھے’۔

اجلاس کے دوران اپنے بیان میں شوکت ترین کا کہنا تھا کہ انہوں نے آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ وہ بجلی بنانے والی کمپنیوں کو گنجائش کی ادائیگیاں روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘میں نے آئی ایم ایف کو لائن لاسز کم کرنے کے لیے ایک منصوبہ بھی دیا ہے اور اسے یقین دہانی کروائی ہے کہ میں گردشی قرضوں میں اضافے کو ختم کردوں گا۔

آئندہ برس کے لیے درکار ڈھائی ارب ڈالر کے ذرائع کے بارے میں پوچھنے پر وزیر نے کہا کہ یہ رقم سکوک، پانڈا اور گرین بانڈز کے ذریعے اکٹھی کی جائے گی تاکہ ڈالر کی طلب پوری کی جاسکے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت پر قومی اتفاق رائے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے وہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر میثاق معیشت تشکیل دینے کے لیے تیار ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبوں میں تعینات رینجرز اہلکاروں کی صحت کے اخراجات برداشت کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی معاونت کے لیے حکومت آئندہ بجٹ میں ایک کھرب روپے کا قرض فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ساتھ ہی شوکت ترین نے تصدیق کی کہ فنانس بل 2021 کی دفعہ 203 میں ترمیم کردی گئی ہے اور نوٹسز تیسرے فریق کے ذریعے جاری کیے جائیں گے جبکہ گرفتاری کے فیصلے وزارتی سطح پر ہوں گے۔

مشہور خبریں۔

24سال بعد پاکستان کا مالیاتی خسارہ سرپلس میں تبدیل

?️ 1 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) بلند ترین شرح سود اور پیٹرولیم لیوی کی

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی پریس کانفرنس کا احوال

?️ 26 مارچ 2022(سچ خبریں)اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید

اسد عمر نے کراچی سرکار ریلوے اور گرین لائن بس ریپڈ ٹرانسپورٹ کی ڈیڈ لائن جاری کر دی ہیں

?️ 23 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر نے

آئندہ ماہ کورونا ویکسین کی بھاری مقدار پاکستان پہنچنے کا امکان

?️ 31 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزارت صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ

امریکہ میں پھر سے بغاوت اور تشدد کا خوف؛ کانگریس پولیس ہائی الرٹ

?️ 18 ستمبر 2021سچ خبریں:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی دائیں بازو کے انتہاپسندگروہوں

نہ ظلم کرتے ہیں، نہ ظلم سہتے ہیں:آیت اللہ خامنہ ای

?️ 7 جون 2022سچ خبریں:ایران کے روحانی پیشوا اور اسلامی انقلاب کے رہبر آیت اللہ

غزہ جنگ کے بارے میں بحرین کا حیران کن بیان

?️ 11 اکتوبر 2023سچ خبریں: بحرین کی حکومت نے عجیب و غریب طرز عمل کے

انڈونیشیایی حکومت نے مظاہرین کے مطالبات تسلیم کر لیے

?️ 1 ستمبر 2025انڈونیشیایی حکومت نے مظاہرین کے مطالبات تسلیم کر لیے انڈونیشیا میں ارکانِ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے