آئی ایم ایف کے ساتھ پالیسی مذاکرات میں شعبہ توانائی کے گردشی قرض زیر غور

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) صارفین کو بجلی کے نرخوں میں ایک اور اضافے کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ حکومت کے پاس بجلی کے شعبے کے قرض کو 10 کھرب روپے تک کم کرنے کے لیے صارفین سے اضافی رقم وصول کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق یہ اقدام بہت سے دوسرے اقدامات کے علاوہ ہوگا، جس میں قرض ختم کرنے کے لیے سبسڈی کو ہٹانا اور دیگر ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں۔

یہ اقدام آئی ایم ایف کی جانب سے قرض پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے پیشگی شرائط کو پورا کرنے کے حکومتی اقدامات کا حصہ ہے۔

یہ پیش رفت آئی ایم ایف مشن کے دورے سے ایک روز پہلے سامنے آئی کہ جب حکومت پیر کو توسیع شدہ تکنیکی مشاورت کے بعد منگل کو پالیسی سطح کے مذاکرات شروع کرنے والی ہے۔

حکام نے کہا کہ حکومت کے پاس ٹیرف اقدامات کے ذریعے گردشی قرض میں 9 کھرب 52 ارب روپے سے 10 کھرب روپے کی کمی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے کیونکہ آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ پاور ہولڈنگ کمپنیوں میں خلا کو برقرار رکھنا اب قابل قبول نہیں ہے۔

حکام نے بتایا کہ اس فرق کو بجٹ کے اقدامات اور ٹیرف سرچارجز کے امتزاج سے پورا کیا جانا تھا۔

قیمتوں میں اضافے کے بریک ڈاؤن کے مطابق بجلی کے بنیادی ٹیرف میں فی یونٹ 7 روپے سے زیادہ کا اضافہ کرنا پڑے گا تاکہ پاور سیکٹر کے لیے رواں مالی سال کے دوران مزید 75 ارب روپے کی تین سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے علاوہ تقریباً 6 کھرب روپے اکٹھے ہوں۔

یہ اخراجات میں کمی کے اقدامات کے علاوہ ہے اور اضافی آمدن کے اقدامات کا اعلان آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔

چونکہ حکومت، آئی ایم ایف کے مطالبات ماننے کے لیے بے تاب ہے اس لیے صنعتی صارفین کے لیے سبسڈی کے خاتمے اور گیس کی قیمتوں میں بھی تبدیلی کی جانی ہے۔

وزارت خزانہ اور توانائی پہلے ہی 30 جون 2022 تک کی 22 کھرب 53 ارب روپے کی رقم پر ’ریوائزڈ سرکلر ڈیٹ منیجمنٹ پلان‘ کو حتمی شکل دے چکی ہیں۔

اس منصوبے کے تحت حکومت کو موجودہ مالی سال کے دوران 9 کھرب 52 ارب روپے کے قرض اور 6 کھرب 75 ارب روپے کی اضافی سبسڈیز کو مینج کرنے کے لیے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔

تاہم آئی ایم ایف سے اس معاملے میں مشاورت نہیں کی گئی کیوں کہ اس کا مطالبہ ہے کہ صرف ٹیرف مینجمنٹ کے ذریعے گردشی قرض کو کم کیا جائے۔

لہٰذا سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کے علاوہ بنیادی ٹیرف میں اضافہ کرکے صارفین سے 6 کھرب روپے کے اضافی فنڈز اکٹھے کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ آئندہ تین روز میں جن ٹیکس اقدامات کو حتمی شکل دی جائے گی ان میں فلڈ لیوی، مشروبات پر ٹیکسز میں اضافہ شامل ہے۔

مشہور خبریں۔

افغان مہاجرین کا پاکستان سے اخراج، وجہ ؟

?️ 4 نومبر 2023سچ خبریں:نارویجن ریفیوجی کونسل، ڈنمارک ریفیوجی کونسل اور انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے

ایف بی آر میں اصلاحات سے ٹیکس کلیکشن میں اضافہ حکومت کیلئے باعث اطمینان ہے، وزیراعظم

?️ 5 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت

اسرائیل کا شام میں منفی کردار ہے: الشیبانی

?️ 14 نومبر 2025سچ خبریں: لندن میں ایک تھنک ٹینک کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے،

ایران کے مصر اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات سے صیہونی پریشان

?️ 25 مئی 2023سچ خبریں:موساد کے سابق سربراہ نے ہرتزلیا سکیورٹی کانفرنس میں ایران اور

مذاکرات کی میز یا میدان جنگ؛ مزاحمتی تحریک کے لیے کون سی حکمت عملی کامیاب؟

?️ 6 اکتوبر 2024سچ خبریں: غزہ میں نسل کشی کے آغاز کو تقریباً ایک سال

پریانتھا کمارا قتل کیس:عدالت نے پہلے ملزم کو سزا سنا دی

?️ 21 جنوری 2022گوجرانولہ (سچ خبریں) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پریانتھا کماراقتل کیس

ہمایوں سعید فلرٹ نہیں کرتے، سب کچھ دوستی اور مذاق کے دائرے میں ہوتا ہے، مہوش حیات

?️ 27 نومبر 2025کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ مہوش حیات نے بتایا کہ ہمایوں سعید فلرٹ

حکومت کو دہشتگردی کیخلاف اپوزیشن کے ساتھ ملکر ایک بیانیہ بنانا چاہیے

?️ 24 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے