?️
سچ خبریں: سائنس دانوں نے ہمارے نظام شمسی سے باہر ممکنہ زندگی کے اب تک کے مضبوط ترین اشارے حاصل کیے ہیں، اور ایک سیارے کے ماحول میں ایسی گیسوں کے کیمیائی اثرات کا پتا لگایا ہے جو زمین پر صرف حیاتیاتی عمل کے ذریعے پیدا ہوتی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادار ے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف کیمبرج کے انسٹیٹیوٹ آف آسٹرونومی کے ماہرین نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے K2-18 b نامی سیارے کی فضا میں ڈائی میتھائل سلفائیڈ ( ڈی ایم ایس ) اور ڈائی میتھائل ڈی سلفائیڈ ( ڈی ایم ڈی ایس ) نامی گیسوں کا سراغ لگایا ہے، یہ گیسیں زمین پر جاندار اجسام، بنیادی طور پر سمندری فائٹوپلانکٹن ( الجی) پیدا کرتے ہیں۔
محققین نے کہا کہ اس سے پتا چلتا ہے کہ اس سیارے پر خردبینی شکل میں زندگی موجود ہوسکتی ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ وہ اس سیارے پر جاندار اجسام کی دریافت کا اعلان نہیں کر رہے بلکہ ایک ممکنہ بایو سگنیچرز (حیاتیاتی عمل ) کا اشارہ ملنے کا اعلان کر رہے ہیں۔
سائنس دانوں نے مزید کہا کہ ان نتائج کو احتیاط سے دیکھنے اور مزید مشاہدات کی ضرورت ہے۔
یونیورسٹی آف کیمبرج کے انسٹیٹیوٹ آف آسٹرونومی کے ماہر فلکیات نِکو مدھوسودھن نے کہا، جو آسٹرونومیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہونے والی تحقیق کے سرکردہ مصنف ہیں، یہ ایک غیر زمینی دنیا پر ملنے و الے اولین اشارے ہیں جو ممکنہ طور پر آباد ہے۔
نِکو مدھوسودھن نے کہا کہ یہ نظام شمسی سے باہر زندگی کی تلاش میں ایک تبدیلی کا لمحہ ہے، جہاں ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ موجودہ سہولیات کے ساتھ ممکنہ طور پر قابل رہائش سیاروں میں بایوسگنیچرز کا پتا لگانا ممکن ہے۔
نکو مدھوسودھن کا کہنا تھا کہ K2-18 b زمین سے 8.6 گنا زیادہ کمیت رکھتا ہے اور اس کا قطر ہمارے سیارے سے تقریباً 2.6 گنا بڑا ہے، یہ اپنے ستارے کے گرد ’ قابل رہائش زون ’ میں مدار میں گھومتا ہے( قابل رہائش ایک ایسا فاصلہ جہاں سیارے کی سطح پر مائع پانی، جو زندگی کے لیے ایک اہم جزو ہے، موجود ہو سکتا ہے )
ہائی سیئن ورلڈ
1990 کی دہائی سے ہمارے نظام شمسی سے باہر تقریباً 5800 سیارے، جنہیں ایگزوپلینٹس کہا جاتا ہے، دریافت کیے جا چکے ہیں۔ سائنسدانوں نے ہائی سیئن ورلڈ نامی ایگزوپلینٹس کے وجود کا نظریہ پیش کیا ہے، جو مائکرو آرگنزم کے لیے قابل رہائش مائع پانی کے سمندر سے ڈھکے ہوئے ہیں اور ہائیڈروجن سے بھرپور ماحول رکھتے ہیں۔
جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ 2021 میں خلا میں بھیجی گئی اور 2022 میں فعال ہوئی، اس نے K2-18 b کے ماحول میں میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نشاندہی کی تھی، یہ پہلا موقع تھا جب کسی ستارے کے قابل رہائش زون میں موجود ایگزوپلینٹ کے ماحول میں کاربن پر مبنی مالیکیولز دریافت ہوئے تھے۔
نک مدھوسودھن نے کہا، ’ واحد منظرنامہ جو اب تک جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ سے حاصل کردہ تمام اعداد و شمار کی وضاحت کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ K2-18 b زندگی سے بھرپور ایک ’ ہائی سیئن ورلڈ ’ ہے۔
ڈائی میتھائل سلفائیڈ اور ڈائی میتھائل ڈی سلفائیڈ، جو دونوں ایک ہی کیمیائی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، کی اہم ایگزوپلینٹ بایوسگنیچرز کے طور پر پیش گوئی کی گئی ہے، جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی مدد سے پتا چلا کہ سیارے کے ماحول میں ان میں سے ایک یا دوسری، یا ممکنہ طور پر دونوں گیسوں کی موجودگی کا 99.7 فیصد امکان تھا، جس کا مطلب ہے کہ مشاہدے میں بے یقینی کا اب بھی 0.3 فیصد امکان باقی ہے ۔
ٹرانزٹ کا طریقہ
K2-18 b سیاروں کی ’ تحتی نیپچون’ کلاس کا حصہ ہے، جس کا قطر زمین سے بڑا لیکن ہمارے نظام شمسی کے سب سے چھوٹے گیسی سیارے نیپچون سے کم ہے۔
کسی ایگزوپلینٹ کے ماحول کی کیمیائی ساخت کا تعین کرنے کے لیے، ماہرین فلکیات اس کے میزبان ستارے کی روشنی کا تجزیہ کرتے ہیں جب سیارہ زمین کے نقطہ نظر سے اس کے سامنے سے گزرتا ہے، جسے ٹرانزٹ کا طریقہ کہتے ہیں۔
جب سیارہ ستارے کے سامنے سے گزرتا ہے، تو جیمز ویب ٹیلی اسکوپ ستارے کی چمک میں کمی کا پتا لگا سکتی ہے، اور ستارے کی روشنی کا ایک چھوٹا سا حصہ سیارے کے ماحول سے گزر کر ٹیلی اسکوپ کے ذریعے محسوس کیا جاتا ہے، اس سے سائنسدانوں کو سیارے کے ماحول میں موجود گیسوں کا تعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔
نک مدھوسودھن کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے ہمیں مشاہدات کو دو سے تین بار دہرانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہم جو سگنل دیکھ رہے ہیں وہ مضبوط ہے اور کسی بھی غیریقینی کے امکاناات کو کم سے کم کیا جاسکے۔
سائنس داں نے مزید کہا کہ دوسرے مرحلے پر ہمیں مزید نظریاتی اور تجرباتی مطالعات کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آیا K2-18 b جیسے سیارے کے ماحول میں ڈائی میتھائل سلفائیڈ اور ڈائی میتھائل ڈی سلفائیڈ بنانے کے لیے کوئی اور غیر حیاتیاتی طریقہ کار (جو حیاتیاتی عمل پر مشتمل نہ ہو) موجود ہے یا نہیں۔
نک مدھوسودھن نے کہا کہ اگرچہ پچھلے مطالعات نے انہیں K2-18 b کے لیے بھی مضبوط بایوسگنیچرز کے طور پر تجویز کیا ہے، تاہم ہمیں کھلے ذہن کے ساتھ دیگر امکانات کی تلاش جاری رکھنی چاہیے۔


مشہور خبریں۔
کورونا وائرس کہاں سے اور کیسے پھیلا؟وائٹ ہاؤس کا دعویٰ
?️ 1 فروری 2025سچ خبریں:امریکی حکومت نے ایک بار پھر کورونا وائرس کی ابتدا کے
فروری
صیہونی فوج کا غزہ کے اسکول پر حملہ
?️ 10 اگست 2024سچ خبریں: اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری جارحیت کے دوران
اگست
امریکی طلباء کو فلسطین کی حمایت کرنے کی سزا
?️ 11 نومبر 2023سچ خبریں: امریکی میڈیا نے ایک امریکی یونیورسٹی کے 20 فلسطینی حامی
نومبر
سیلاب سے موٹروے سمیت 200 سے زائد سڑکیں متاثر ہو چکی ہیں: پی ڈی ایم اے پنجاب
?️ 26 ستمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے
ستمبر
اگر مذاکرات میں لچک نہ دیکھائی گئی تو سب سے زیادہ نقصان اسرائیل کو ہو گا:اسرائیل کے سینئر جنرل
?️ 5 اکتوبر 2025 اگر مذاکرات میں لچک نہ دیکھائی گئی تو سب سے زیادہ نقصان
اکتوبر
وزیراعظم عمران خان نے5ارب روپے کی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے
?️ 19 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) افغانستان بین الوزارتی رابطہ سیل (AICC) نومبر 2021 میں
جنوری
مغربی ممالک نائیجر میں جمہوریت ڈھونڈ رہے ہیں یا یورینیم؛ امریکی تجزیہ کار اور مورخ کیا کہتے ہیں؟
?️ 12 اگست 2023سچ خبریں: ایک امریکی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ یوکرین میں
اگست
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا دورہ عراق، پاکستان،عراق کا دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق
?️ 5 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے تین روزہ سرکاری
جون