صیہونی فوج نے جنین پر وسیع حملہ کیوں کیا؟

صیہونی فوج نے جنین پر وسیع حملہ کیوں کیا؟

?️

سچ خبریں: قابض صہیونی حکومت نے اپنی پرانی سازش کے تحت فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے اور فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی تعمیر کو بڑھانے کے لیے آٹھ دن قبل مغربی کنارے کے خلاف وحشیانہ حملوں کی مہم شروع کی اور اپنی فوجی کارروائی کو خاص طور پر جنین میں جاری رکھا۔

صہیونی فوج کے جنین کے کیمپ میں کیے گئے فیصلے کے بعد، جو شمالی مغربی کنارے کے شہر جنین میں واقع ہے، اس فیصلے کی وجوہات کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی غزہ اور جنین شہر کے خلاف صیہونیوں کی تازہ ترین جارحیت

علاقے کے سیاسی اور عسکری امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ قابض حکومت کے اس فیصلے کے متعدد اسباب ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ صہیونی فوج دنیا کو یہ بتانا چاہتی ہے کہ اسے فلسطینیوں کی شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور دنیا کو اسرائیلیوں کی فلسطینیوں کے خلاف مدد کرنی چاہیے۔

اس حوالے سے علاقے کے عسکری اور اسٹریٹیجک ماہر واصف عریقات نے کہا کہ قابضین دعویٰ کرتے ہیں کہ جو کوئی بھی جنین اور مغربی کنارے میں ان کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، وہ ایک جدید اور اعلیٰ صلاحیتوں سے لیس فوج کے مقابل ہوتا ہے۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فلسطینی عوام، خاص طور پر مغربی کنارے میں، بغیر کسی ہتھیار کے اور صرف ایمان کی قوت اور اپنے حقوق کی پاسداری کے ساتھ دشمن کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور اس راہ میں بے شمار شہداء پیش کر چکے ہیں۔

رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ صہیونی حکومت کی فوج نے مغربی کنارے پر اپنے حملوں کو بڑھانے اور وہاں نفوذ کرنے کے بعد موساد جاسوسی ایجنسی اور صہیونی فوجی انٹیلی جنس سروس (امان) کے زیر قیادت میدان میں تفتیشی کمروں کا قیام کیا ہے، جہاں ہزاروں فلسطینی نوجوانوں کو گرفتار کر کے ان سے تفتیش اور تشدد کیا جا رہا ہے۔

عاصف عریقات نے مغربی کنارے کی صورتحال کے حوالے سے اپنے تجزیے میں کہا: "قابض فوج فلسطینی عوام کے ساتھ اس اصول کے تحت برتاؤ کرتی ہے کہ ‘جو زور سے حاصل نہیں ہوتا، اسے زیادہ زور سے حاصل کیا جائے گا’ اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی وحشیانہ کارروائی سے دریغ نہیں کرتی۔

اس وقت قابض صہیونی فوج مغربی کنارے کے جنوبی علاقے الخلیل کو، جہاں گزشتہ دنوں فلسطینیوں کی جانب سے نمایاں استشہادی کارروائیاں کی گئیں اور قابضین کو شدید نقصان پہنچا، محاصرے میں لے رکھا ہے تاکہ فلسطینیوں پر دباؤ ڈالا جا سکے اور ایک نفسیاتی جنگ کے تحت انہیں متاثر کیا جا سکے۔”

انہوں نے مزید کہا: "قابضین چاہتے ہیں کہ ان علاقوں میں جہاں فلسطینی رہتے ہیں، بنیادی ڈھانچے اور زندگی کی تمام نشانیوں کو تباہ کر کے انہیں بے گھر کر دیں، تاکہ اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کا راستہ کھل جائے۔

صہیونی فوج کی فلسطینیوں کے قتل، گرفتاری، میدان میں پھانسی، تخریب کاری، پانی اور بجلی کی بندش جیسی وحشیانہ کارروائیاں مغربی کنارے میں بستیوں کو بڑھانے کے مقصد سے کی جا رہی ہیں۔”

اس عسکری ماہر نے زور دیا کہ "صہیونی دعویٰ کرتے ہیں کہ جنین کے کیمپ میں موجود تمام فلسطینی اسرائیل کے خلاف ایک مسلح فوج سمجھے جاتے ہیں اور ان سب کو تباہ کر دینا چاہیے۔”

اعداد و شمار کے مطابق جنین کے فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں تقریباً 14,000 افراد مقیم ہیں اور ان میں سے تقریباً سبھی وہ نسلیں ہیں جنہیں 1948 میسں اسرائیل کی جعلی ریاست کے قیام کے وقت فلسطین کی مقبوضہ زمینوں سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔

غزہ کی جنگ کے آغاز کے بعد صہیونی فوج کے حملے جنین پر شدت اختیار کر گئے ہیں، اور صہیونیوں نے دعویٰ کیا کہ جنین کا کیمپ مزاحمت کاروں کو پناہ دے رہا ہے۔ اس بہانے سے انہوں نے پورے محلوں کو تباہ کر دیا اور بہت سے نہتے شہریوں کو شہید یا گرفتار کر لیا۔

صہیونی سیاسی تجزیہ کار "آوری گولڈبرگ” کا کہنا ہے کہ "اسرائیلی ہمیشہ خود کو مظلوم تصور کرتے ہیں اور اس بات کو قبول نہیں کر سکتے کہ جنین ایک پناہ گزین کیمپ ہے جہاں فلسطینی اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فلسطینیوں کی حالت زار، خصوصاً کیمپوں میں، کو بالکل نظر انداز کرتے ہیں اور ہم اسرائیلیوں کی جانب سے جنین کو ‘دہشت گردوں کا اڈہ’ جیسے غیر انسانی الفاظ سے بار بار سنتے ہیں۔

مزید پڑھیں: صیہونی فوج جنین سے بھاگنے پر مجبور

انہوں نے مزید کہا: "اسی بنیاد پر، غزہ کی جنگ کے آغاز سے ہم نے اسرائیلی فوج کی جانب سے جنین اور طولکرم کے پناہ گزین کیمپوں پر بڑے پیمانے پر حملے دیکھے ہیں، اور یہ حملے مغربی کنارے کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ شدید ہیں۔

اسرائیلی حکام ہمیشہ یہ سوچتے ہیں کہ جنین کو دبانے کے لیے کچھ کرنا ضروری ہے۔”

مشہور خبریں۔

بھارت میں آکسیجن کی فراہمی کا سنگین معاملہ، دہلی ہائیکورٹ نے اہم حکم صادر کردیا

?️ 27 اپریل 2021نئی دہلی (سچ خبریں) بھارت میں جہاں ایک طرف کورونا وائرس کا

ملک کے 15 نامزد بینکوں نے حج درخواستوں کی وصولی شروع کردی

?️ 18 نومبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) حج درخواستوں کی وصولی آج سےآغاز ہوگیا

حملے کے پہلے دن غزہ کے عوام پر 16 ٹن بم گرائے گئے

?️ 6 اگست 2022سچ خبریں:    صہیونی اخبار یدیوت احرونوت نے ایک خبر میں لکھا

طالبان نے کمال خان ڈیم سے پانی ایران کی طرف چھوڑا

?️ 24 اگست 2022سچ خبریں:    افغان میڈیا ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ طالبان

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی رواں ہفتے ترکی کا دورہ کریں گے

?️ 15 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی ترک شہر انتالیہ میں منعقدہ

پلاننگ کمیشن سے این او سی نہ ملنے پر آئی ٹی کے 2 بڑے منصوبے تاخیر کا شکار

?️ 25 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پلاننگ کمیشن سے تاحال این او سی کا

پاکستان سولر سے 25 فیصد بجلی بنانے والا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پہلا بڑا ملک بن گیا

?️ 19 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان سولر پینلز سے 25 فیصد بجلی بنانے

تل ابیب کی منامہ میں خفیہ ملاقات 

?️ 13 جون 2024سچ خبریں: قابض فوج کے چیف آف سٹاف ہرٹز ہالوئے نے بحرین کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے