UNRWA کے ساتھ صیہونیوں کا سلوک

صیہونی

?️

سچ خبریں: صیہونی حکومت نے دعوؤں اور الزامات سے بھری ایک معلوماتی فائل میں دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی بے گھر افراد کے لیے ریلیف اینڈ ایمپلائمنٹ ایجنسی (UNRWA) کے تقریباً 190 ملازمین نے طوفان الاقصیٰ آپریشن میں حصہ لیا!

روئٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نسل کشی کے مقدمے میں تل ابیب کے خلاف ہیگ کی عدالت کے فیصلے کے صرف ایک دن بعد صیہونی حکومت کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امداد اور روزگار کے ادارے "UNRWA” کے خلاف الزامات عائد کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: مغربی اور یورپی ممالک کا فلسطینوں کے خلاف نیا ہتھکنڈا

کئی ممالک نے امریکی قیادت کو اس ایجنسی کے لیے اپنی امداد معطل کرنے کی ترغیب دی نیز اب چند دنوں کے بعد یو این آر ڈبلیو اے کے تقریباً 190 ملازمین پر یہ بے بنیاد الزامات دہرائے گئے ہیں!

روئٹرز کو ملنے والی معلومات کے مطابق اس فائل میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ UNRWA کے تقریباً 190 ملازمین، جن میں "اساتذہ” بھی شامل ہیں، نے اس ایجنسی کی آڑ میں فلسطینی اسلامی مزاحمت (حماس) کے ساتھ تعاون کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان Stephane Dujarric نے کہا کہ اس تنظیم کو ابھی تک باضابطہ طور پر کیس موصول نہیں ہوا ہے، تاہم الزامات لگائے جانے کے بعد اقوام متحدہ نے UNRWA کے متعدد ملازمین کو برطرف کر دیا، لیکن فلسطینیوں کا اصرار ہے کہ تل ابیب معلومات میں ہیرا پھیری اور جعلی دستاویزات کے ذریعے UNRWA کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

صیہونی حکومت کی کابینہ کے وزیر خارجہ یسرائیل کیٹس نے UNRWA کے سربراہ فلپ لازارینی کو برطرف کرنے کی درخواست کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 7 اکتوبر کے قتل عام میں UNRWA کے ملازمین ملوث تھے، لازارینی کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

روئٹرز کا دعویٰ ہے کہ یہ کیس ان کے پاس ایک ایسے ذریعے سے لایا گیا جس کا نام اور قومیت واضح نہیں کی گئی اور اسرائیلی انٹیلی جنس نے اسے اکٹھا کیا اور امریکہ کو فراہم کیا۔

یاد رہے کہ UNRWA نے غزہ کی پٹی میں 13000 افراد کو ملازمت دی ہے، تاہم امریکہ، انگلینڈ، جرمنی اور کینیڈا سمیت 10 سے زائد ممالک نے الزامات لگائے جانے کے بعد سے اس ایجنسی کی امداد بند کر دی ہے۔

مزید پڑھیں: UNRWA کی امداد بند کرنے پر عرب لیگ کا ردعمل

7 اکتوبر کو طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد شروع ہونے والی غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک صیہونیوں کے وحشیانہ حملوں میں 26 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

مشہور خبریں۔

ایران کے صبر کا پیمانہ کیونکر لبریز ہو گیا؟

?️ 15 اپریل 2024سچ خبریں: عربی زبان کی ایک نیوز ویب سائٹ نے آپریشن ٹرو

پاک افغان بارڈر پر کشیدگی: مذاکرات کیلئے علمائے کرام پر مشتمل وفد قندھار روانہ

?️ 20 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاک افغان بارڈر پر جاری تناؤ کا حل تلاش

اسرائیل کی ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی کی واضح مثال ہے: اٹلی کے تجزیہ کار

?️ 25 جون 2025سچ خبریں: ولیو چیناپی، اطالوی مصنف اور سیاسی تجزیہ کار، کا ماننا

17 مئی سے ملک بھر میں مارکیٹیں کھولی جائیں گی

?️ 15 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)

 کیا حماس اور اسرائیلی حکومت کے درمیان معاہدے ہوگا ؟

?️ 28 جنوری 2024سچ خبریں:امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک حماس

صیہونیوں کے ہاتھوں فلسطینی نوجوان کی شہادت

?️ 31 دسمبر 2021سچ خبریں:صہیونی عسکریت پسندوں نے مغربی کنارے میں ایک آپریشن کے بہانے

عدالت حکم دیتی ہے تو عمران خان کی گرفتاری ہونی چاہیے، خواجہ آصف

?️ 7 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران

وزیر اعظم کا اگست میں پہلی جامع سولر انرجی پالیسی سامنے لانے کا اعلان

?️ 7 جولائی 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)وزیر اعظم کی زیرِ صدارت انرجی ٹاسک فورس کے اجلاس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے